بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Friday, 24 July 2026 | پاکستان: 11 صفر 1448

کشمیر کو لیپ ٹاپ نہیں، انصاف چاہیے

Friday, 24 July, 2026

آزاد جموں و کشمیر ایک ایسا خطہ ہے جس کے عوام نے گزشتہ سات دہائیوں سے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کی بنیاد کسی سرکاری پیکیج، کسی لیپ ٹاپ، کسی بس یا کسی اسکالرشپ پر نہیں بلکہ حقِ خود ارادیت، عزتِ نفس اور جمہوری اقدار پر رکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی انتخابی ماحول میں اچانک ترقیاتی پیکیجوں اور سرکاری اعلانات کی بارش ہوتی ہے تو عوام کے ذہن میں یہ سوال ضرور جنم لیتا ہے کہ کیا یہ حقیقی عوامی خدمت ہے یا انتخابی سیاست کا حصہ؟وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے آزاد کشمیر کے لیے الیکٹرک بسوں، کلینکس آن ویلز، ہزاروں لیپ ٹاپ، اسکالرشپس اور دیگر منصوبوں کا اعلان خوش آئند معلوم ہوتا ہے اگر یہ تمام منصوبے خالصتا ًعوامی فلاح کے لیے ہوں تو ہر باشعور پاکستانی ان کا خیر مقدم کرے گا۔ لیکن جب ایسے اعلانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئیں جب انتخابی سرگرمیاں جاری ہوں، سیاسی ماحول گرم ہو، اور مختلف جماعتیں انتخابی عمل پر سوالات اٹھا رہی ہوں، تو یہ تاثر پیدا ہونا فطری ہے کہ ریاستی وسائل اور ترقیاتی منصوبے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔آزاد کشمیر میں اس وقت صرف انتخابی سرگرمیاں ہی نہیں بلکہ عوامی بے چینی بھی موجود ہے۔ مختلف علاقوں میں احتجاجی تحریکیں جاری رہی ہیں، عوام اپنے مسائل کے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں اور کئی حلقوں کی جانب سے یہ مقف اختیار کیا جا رہا ہے کہ ماضی میں کیے گئے وعدوں اور معاہدوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا۔ ایسی صورتحال میں سب سے پہلے عوام کا اعتماد بحال کرنا ضروری تھا، نہ کہ نئے اعلانات کی ایک طویل فہرست سامنے رکھ دینا۔کشمیر کے عوام کی یادداشت کمزور نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ماضی میں بھی بڑے بڑے وعدے کیے گئے، معاہدے ہوئے، اعلانات ہوئے، مگر ان میں سے بہت سے وعدے عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔ اس لیے آج اگر عوام سوال کرتے ہیں کہ پہلے کیے گئے وعدوں کا کیا بنا، تو یہ سوال غیر منطقی نہیں بلکہ جمہوری حق ہے۔راولاکوٹ اور دیگر علاقوں کے نوجوانوں نے حالیہ عرصے میں اپنے مطالبات کیلئے مسلسل آواز بلند کی۔ نوجوانوں کا پیغام واضح تھا کہ انہیں صرف اعلانات نہیں بلکہ عملی انصاف، روزگار، بہتر حکمرانی اور عوامی حقوق درکار ہیں۔ کسی بھی جمہوری حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اختلافِ رائے کو سنجیدگی سے سنے، عوامی شکایات دور کرے اور سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرے۔اسی پس منظر میں پاکستان تحریک انصاف نے آزاد کشمیر کے انتخابی عمل کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ تحریک انصاف کی قیادت کا موقف ہے کہ جب تک انتخابی ماحول تمام جماعتوں کیلئے یکساں، شفاف اور غیرجانبدار نہ ہو، تب تک انتخابات اپنی حقیقی روح کے مطابق نہیں ہو سکتے۔ اس موقف سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کو پرامن احتجاج اور سیاسی فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ایک جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے غداری نہیں بلکہ جمہوریت کا حسن ہوتا ہے۔ اگر کوئی سیاسی جماعت انتخابی عمل پر سوال اٹھاتی ہے تو اس کا جواب سیاسی دلائل اور شفافیت سے دیا جانا چاہیے، نہ کہ صرف ترقیاتی اعلانات سے۔یہ بھی ایک بنیادی سوال ہے کہ اگر آزاد کشمیر کے عوام کو واقعی ان منصوبوں کی ضرورت تھی تو ان کا اعلان انتخابات سے بہت پہلے کیوں نہ کیا گیا؟ انتخابی ماحول میں ایسے اعلانات خواہ قانونی طور پر جائز ہوں یا نہ ہوں، سیاسی طور پر ان پر سوالات ضرور اٹھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بہت سے جمہوری ممالک میں انتخابی ضابطہ اخلاق سرکاری وسائل کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرتا ہے تاکہ ووٹر پر کسی قسم کا غیر ضروری اثر نہ پڑے۔کشمیر کے عوام نہ تو پہلی مرتبہ انتخابات دیکھ رہے ہیں اور نہ ہی پہلی مرتبہ بڑے بڑے وعدے سن رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے اصل مسائل کیا ہیں۔ انہیں معیاری تعلیم چاہیے، مگر اس کیساتھ مستقل تعلیمی اصلاحات بھی درکار ہیں۔ انہیں صحت کی سہولیات چاہیے، مگر اسکے ساتھ مضبوط اسپتالوں کا نظام بھی چاہیے۔ انہیں روزگار چاہیے، صرف وقتی اعلانات نہیں ۔ لیپ ٹاپ ایک اچھی سہولت ہو سکتی ہے ، مگر بے روزگار نوجوان کیلئے سب سے بڑا تحفہ باعزت روزگار ہے۔ اسکالرشپ اہم ہے، مگر اس سے بھی زیادہ ضروری میرٹ، انصاف اور شفاف نظام ہے۔ الیکٹرک بسیں جدید ٹرانسپورٹ فراہم کر سکتی ہیں، مگر ان سے پہلے عوام کو یہ یقین بھی ہونا چاہیے کہ ان کا ووٹ آزاد اور غیر متاثر ہوگا۔آزاد کشمیر کی سیاست کو وقتی سیاسی مہمات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ خطہ صرف ایک انتخابی میدان نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کا گھر ہے، جہاں کے عوام عزت، انصاف اور باوقار طرزِ حکمرانی چاہتے ہیں۔جمہوریت کا حسن اسی میں ہے کہ ووٹر کسی دباؤ، کسی لالچ اور کسی سرکاری اعلان کے بغیر اپنی رائے قائم کرے۔ عوامی فلاحی منصوبے ضرور بننے چاہئیں، لیکن ان کا وقت، طریقہ کار اور مقصد ایسا ہونا چاہیے کہ کسی بھی طبقے کو انتخابی اثراندازی کا شبہ نہ ہو۔پاکستان تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے موقف پیش کرنے کا آئینی حق حاصل ہے، اور اسی طرح عوام کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ ہر اعلان اور ہر وعدے کو تنقیدی نظر سے دیکھیں۔ آخرکار فیصلہ نہ حکومت نے کرنا ہے، نہ اپوزیشن نے، بلکہ کشمیری عوام نے کرنا ہے۔کشمیر کے عوام باشعور ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ قوموں کی تقدیر وقتی تحفوں سے نہیں بدلتی بلکہ مضبوط اداروں، قانون کی حکمرانی، شفاف انتخابات، انصاف اور دیانت دار قیادت سے بدلتی ہے۔ اگر واقعی کشمیر سے محبت کا دعوی ہے تو اس محبت کا بہترین اظہار یہ ہوگا کہ عوام کو مکمل اعتماد، مساوی مواقع اور آزادانہ فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے۔کشمیر کو ترقی ضرور چاہیے، مگر ایسی ترقی جو انتخابی موسم کی محتاج نہ ہو؛ کشمیر کو منصوبے ضرور چاہئیں، مگر ایسے منصوبے جو سیاسی وابستگی کے بجائے عوامی ضرورت کی بنیاد پر ہوں؛ اور سب سے بڑھ کر کشمیر کو ایسا نظام چاہیے جس میں ہر ووٹ کی عزت ہو، ہر شہری کی آواز سنی جائے اور ہر وعدہ محض تقریر کا حصہ نہیں بلکہ عملی حقیقت بنے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *