کبھی تاریخ توپوں کی گھن گرج میں لکھی جاتی ہے اور کبھی ایک خاموش میز پر۔ کبھی سرحدوں پر فوجیں حرکت کرتی ہیں اور کبھی چند دستخط آنے والے برسوں کی سیاست کو حرکت دے دیتے ہیں۔ توپ کی آواز فوراً سنائی دیتی ہے، مگر قلم کی آواز اکثر برسوں بعد تاریخ کے صفحات سے آتی ہے۔7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ اسی خاموش آواز کی طرح ہے۔ تین ملک، تین جغرافیے، تین مختلف سیاسی تجربے، مگر ایک مشترکہ اعلان تینوں میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔جملہ مختصر ہے، مگر اس کے سائے بہت دور تک جاتے ہیں۔آخر ایسا کیا ہوا کہ جنوبی ایشیا، خلیج او ر اناطولیہ کے تین مختلف جغرافیے اپنی سلامتی کو ایک دوسرے سے جوڑنے پر آمادہ ہوگئے۔ اس سوال کا جواب صرف فوجی ضرورت میں نہیں بلکہ بدلتے ہوئے عالمی سکیورٹی نظام میں بھی پوشیدہ ہے۔آج جنگ صرف ٹینکوں، توپوں اور جنگی طیاروں کا نام نہیں۔ ڈرون سرحدوں کے معنی بدل رہے ہیں، میزائل چند منٹ میں ہزاروں کلومیٹر دور موجود ہدف تک پہنچ سکتے ہیں اور سائبر حملہ بغیر فوج بھیجے کسی ملک کے اہم نظام کو مفلوج کرسکتا ہے۔آج خطرہ سرحد پر دستک نہیں دیتا کبھی آسمان سے اترتا ہے اور کبھی اسکرین سے داخل ہوتا ہے۔اسی لیے سعودی عرب اپنی سکیورٹی کو ایک ہی طاقت کے سہارے رکھنے کے بجائے مختلف شراکت داروں کے ساتھ متوازن کررہا ہے ۔ پاکستان اور سعودی عرب پہلے ہی ستمبر 2025 میں باہمی دفاع کا سٹریٹجک معاہد ہ کرچکے تھے۔ اس نئے انتظام میں ترکیہ کی شمولیت نے اس تعاون کو ایک وسیع تر علاقائی شکل دی ہے۔یہاں ترکیہ کی دفاعی صنعت خاص اہمیت رکھتی ہے۔ گزشتہ برسوں میں انقرہ نے ڈرونز، دفاعی الیکٹرانکس، بحری نظام اور دیگر ٹیکنالوجیز میں اپنی مقامی صلاحیت کو نمایاں طور پر بڑھایا ہے۔پاکستان کے پاس ایک بڑی اور تجربہ کار فوج، جوہری صلاحیت اور خطے کے پیچیدہ سکیورٹی ماحول کا طویل تجربہ ہے۔ سعودی عرب کے پاس پیٹرو ڈالر سرمایا توانائی اور ایک وسیع دفاعی مارکیٹ ہے۔ اعدادوشمار اس تصویر کو مزید واضح کرتے ہیں۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے مطابق 2025 میں دنیا کے فوجی اخراجات تقریباً دواعشاریہ آٹھ سوستاسی ٹریلین ڈالر تک پہنچ گئے۔ اسی سال سعودی عرب نے تقریباً 83.2 ا رب ڈالر دفاع پر خرچ کیے، جبکہ پاکستان کا فوجی خرچ تقریباً گیارہ اعشاریہ نو ارب ڈالر رہا اور اس میں سالانہ تقریباً 11 فیصد اضافہ ہوا۔اب ذر ا اس کو وسیع تناظر میں دیکھیے سعودی سرمایہ +ترک ٹیکنالوجی + پاکستانی دفاعی تجربہ۔اگر یہ صرف معاہدوں، تصویروں اور بیانات تک محدود رہا تو یہ بھی ماضی کے کئی معاہدوں کی طرح ایک دستاویز بن جائے گا۔ لیکن اگر یہ مشترکہ تحقیق، مشترکہ پیداوار اور دفاعی برآمدات میں تبدیل ہوگیا تو کہانی بدل جائے گی۔ کیونکہ اصل دفاعی طاقت وہ نہیں جو صرف سرحد پر کھڑی ہو اصل طاقت وہ ہے جو کارخانے میں پیدا ہو لیبارٹری میں تیار ہو اور عالمی منڈی میں فروخت بھی ہو۔پاکستان کے لیے یہی سب سے بڑا موقع ہے۔اسے صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون کیسے بڑھایا جائے اسے یہ سوچنا چاہیے کہ تینوں ملک مل کر مستقبل کی دفاعی ٹیکنالوجی کیسے تیار کرسکتے ہیں۔ ڈرونز مصنوعی ذہانت سائبر سکیورٹی ایٔر ڈیفنس، بحری ٹیکنالوجی اور الیکرونک ویلفیئر آنیوالے برسوں کے بڑے میدان ہیں۔آنیوالی جنگ کا سب سے خطرناک محاذ شاید میدانِ جنگ نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے میدان میں حاصل کی گئی تحقیق اور برتری ہے ۔ مگر ہر طاقت کے ساتھ ایک سوال بھی پیدا ہوتا ہے، اور اس معاہدے کے ساتھ پاکستان کیلئے سب سے حساس سوال ایران کا ہے۔پاکستان ایران کا ہمسایہ ہے۔ ترکیہ کے بھی تہران کے ساتھ تاریخی اور معاشی روابط ہیں۔ دوسری طرف سعودی عرب اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں تک علاقائی مسابقت رہی ہے، اگرچہ حالیہ برسوں میں سفارتی مفاہمت کی کوششیں بھی ہوئی ہیں۔اس لیے اسلام آباد کو ایک نہایت باریک لکیر پر چلنا ہوگا۔ریاض کے ساتھ دفاعی وعدہ بھی نبھانا ہے، انقرہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون بھی بڑھانا ہے اور تہران کے ساتھ سرحدی، معاشی اور سفارتی مفادات بھی محفوظ رکھنے ہیں۔پاکستان کو دفاعی شراکت داری کا حصہ بننا ہے، مگر کسی نئی جنگ کا حصہ نہیں۔ بلکہ ہمارا کام یہ ہونا چاہیے کہ برادر اسلامی ممالک میں اتحاد کو فروغ دیا جائے اور تنازعات کے بجائے تصفیے پر زور دیا جائے۔ یہ شاید آنیوالے دنوں میں پاکستانی خارجہ پالیسی کا سب سے اہم اصول ہوگا۔کیونکہ معاہدے کی اصل طاقت صرف یہ نہیں کہ تین ملک ایک دوسرے کے دفاع کیلئے متحد ہو جائیں بلکہ اصل میں یہ ہونا چاہیے کہ یہ معاہدہ مزید جنگوں کو پھیلانے کی بجائے روکے گویا خطے میں امن و آتشی کی فضاء کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرے۔دفاع کا بنیادی فلسفہ بھی یہی ہے: ممکنہ دشمن کو یہ سوچنے پر مجبور کردینا کہ حملے کی قیمت اس کے فائدے سے کہیں زیادہ نقصان کی صورت میں ہوگی۔کبھی کبھی سب سے بڑی فوجی کامیابی وہ ہوتی ہے جس میں فوج کو میدان میں اترنا ہی نہ پڑے۔اس معاہدے کو مسلم نیٹو کہنا بھی ابھی قبل از وقت ہوگا۔ نیٹو ایک مکمل ادارہ جاتی نظام، مشترکہ کمان، مستقل فوجی منصوبہ بندی اور دہائیوں پر محیط عملی تجربے کا نام ہے ۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی شراکت داری کی اصل طاقت اس کے نام سے نہیں بلکہ اس کے عملی نفاذ سے طے ہوگی۔کیا مشترکہ فوجی مشقیں ہوں گی کیا انٹیلی جنس شیٔرنگ بڑھے گی اور دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبے قائم ہونگے ۔کیا کسی بحران کے وقت تینوں دارالحکومتوں کے درمیان فوری مشاورت کا نظام فعال ہوگاکیونکہ اتحاد کی اصل آزمائش دستخط کے دن نہیں خطرے کے دن ہوتی ہے۔اس معاہدے کو امریکہ مخالف اتحاد قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ ترکیہ نیٹو کا رکن ہے، سعودی عرب امریکہ کا اہم شراکت دار ہے اور پاکستان کے بھی واشنگٹن کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔اصل تبدیلی شاید یہ ہے کہ علاقائی ممالک اپنی سلامتی کو کسی ایک عالمی طاقت کے ساتھ مکمل طور پر وابستہ رکھنے کے بجائے متعدد شراکت داروں کے ساتھ متوازن کررہے ہیں۔تعلقات سب سے انحصار کسی ایک پر نہیں ۔ اصل میں آج کے دور میں قومیں زمینی حقائق اور اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتی ہیں۔ پاکستان کیلئے یہ معاہدہ صرف فوجی ذمہ داری نہیں، معاشی امکان بھی ہے۔ دفاعی پیداوار، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر سکیورٹی، مصنوعی ذہانت، بحری ٹیکنالوجی اور مشترکہ تحقیق وہ شعبے ہیں جہاں یہ شراکت داری نئی سمت اختیار کرسکتی ہے ۔ پاکستان کو اب صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے ہم کس کے دفاع کیلئے کھڑے ہوں گے۔ بلکہ اصل سوال یہ ہونا چاہیے ہم مستقبل کی دفاعی دنیا میں کیا بنائیں گے کیونکہ دفاعی طاقت اس وقت حقیقی قومی طاقت بنتی ہے جب وہ صنعت، روزگار، تحقیق، ٹیکنالوجی اور برآمدات پیدا کرے ۔ اب ذرا مکہ کے اس منظر کو آخری بار دیکھئے ۔ایک میز ۔ تین ملک۔ ایک کے پاس جوہری باز رکھنے کی حکمتِ عملی، دوسرے کے پاس تیزی سے بڑھتی ہوئی دفاعی ٹیکنالوجی اور تیسرے کے پاس سرمایہ، توانائی اور جغرافیائی وذن۔پھر ایک قلم اٹھتا ہے ۔ دستخط ہوتے ہیں۔اور ایک اصول لکھا جاتا ہے ۔ ایک پر حملہ تینوں پر حملہ ۔ اللہ کرے یہ معاہدہ اتحاد امہ کو فروغ دے مگر تاریخ ہمیں ایک اور سبق بھی دیتی ہے۔کاغذ پر لکھی طاقت اور میدان میں موجود طاقت میں اتنا ہی فرق ہوتا ہے جتنا نقشے اور زمین میں۔ وقت اب فیصلہ کرے گا کہ مکہ کے دستخط فائلوں میں محفوظ رہتے ہیں یا کارخانوں، فوجی مشقوں، انٹیلی جنس تعاون، ٹیکنالوجی اور سفارتی فیصلوں میں زندہ ہوجاتے ہیں۔اگر سعودی سرمایہ، ترک ٹیکنالوجی اور پاکستانی دفاعی تجربہ ایک مشترکہ قوت میں ڈھل گیا تو یہ معاہدہ صرف تین ملکوں کی دفاعی چھتری تک محدود نہیں رہے گا یہ خلیج، جنوبی ایشیا اور اناطولیہ کے درمیان ایک نئی اسٹریٹجک لکیر کھینچ سکتا ہے اور اگر یہ صرف ایک خوبصورت تصویر، ایک مشترکہ بیان اور چند دستخطوں تک محدود رہا تو تاریخ اسے بھی بہت سے دوسرے معاہدوں کی طرح بھول جائے گی۔شاید اسی لیے مکہ کے ان دستخطوں کی اصل کہانی آج ختم نہیں ہوئی بلکہ آج سے شروع ہوئی ہے۔قلم چل چکا ہے، اب تاریخ دیکھ رہی ہے کہ اس قلم کے بعد ہاتھ کیا کرتے ہیں۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں