اپنا کردار ادا کرنا ضروری سمجھ رہے ہیں غور کریں کہ جس کی وجہ سے جس کیلئے خبر بنائی جاتی ہے وہ بھی مطمئن نہیں اور جس کے خلاف خبر لگائی جاتی ہے وہ بھی صحافی کیلئے کوئی عزت توقیر اعتماد احترام یا انسانی حمایت دینے کی ضرورت کو محسوس کرتا ہے یعنی ہمارے معاشرے نے صحافی کو دو دھاری تلوار پر کھڑا کیا ہوا ہے نہ عزت کے قابل سمجھا جا رہا ہے ہر طرف تنقید تحقیر تذلیل اور الزامات کی بارش ہے جو صحافی کو تیروں کی طرح چاروں طرف سے چھلنی کرنے کیلئے کوئی وقیقہ بھی فرو گذاشت نہیں کر رہی ۔نہ ہی کہیں سے کوئی ادارہ مستقل طور پر مالی معاونت کا ذمہ لے رہا ہے اور نہ ہی کوئی کنکریٹ بنیادوں پر عزت بحال رکھنے کیلئے لائحہ عمل ترتیب دیتا ہوا نظر آرہا ہے اس سب کے باوجود کرپشن کا ذمہ دار بھی صحافی ہی قرار دیا جا رہا ہے مثلا جنگل میں شیر ہرن کھا جاتا ہے، کسی اخبار میں شیر گردی کی خبر نہیں لگتی۔ بھیڑیا بھیڑ کو ہڑپ کر جائے، کسی چینل پر بریکنگ نیوز نہیں چلتی ۔ عقاب کبوتر لے اڑے، لومڑی مرغی اٹھا لے، مگرمچھ ہرن کو پانی میں کھینچ لے، سانپ دوسرے سانپ کو نگل جائے، گدھ مردہ جسم پر دسترخوان بچھا لے، مگر کسی دانشور کو ضابط اخلاق یاد نہیں آتا ۔ اس لیے کہ سب جانتے ہیں، بھوک بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ انسانوں کے اس جنگل میں بھی بھوک موجود ہے مگر ایک صحافی سارا سال حادثوں میں خاک چھانے، لاشیں گنے، جلسے کور کرے، تھانوں کے چکر لگائے، عدالتوں کے باہر دھکے کھائے، گرمی میں پسینہ بہائے، سردی میں کانپے اور مہینے کے آخر میں اس کی جیب میں ہوا بھی آنے سے انکار کر دے، تب بھی اسے صبر، شکر اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کی تلقین ضرور ملتی ہے ۔ تنخواہ تو شاید اگلے جہان کی سہولت ہے ۔ ہمارے ہاں صحافی روزگار نہیں کرتا، روزگار کی تلاش میں صحافت کرتا ہے۔یہ اخلاقیات بھی بڑی شریف چیز ہے، ہمیشہ غریب آدمی کی جیب ہی میں جا کر دم توڑتی ہے۔میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ آپ صحافیوں پر بہت تنقید کرتے ہیں، کبھی کسی بیمار رپورٹر کا علاج بھی کرایا؟ فرمایا، نہیں۔عرض کی، کسی مرحوم صحافی کے بچوں کی فیس دی؟کہنے لگے، ہرگز نہیں ۔ پوچھا، کبھی صحافیوں کے استحصال پر بات کی؟ بولے، نہیں ۔تو ہم نے کہا، صاحب صحافی سے بھی اتنی۔ہی توقع رکھئے جتنی آپ اسے ترجیح دیتے ہیں اور یہ جو ارشاد ہوتا ہے کہ صحافی اپنے شعبے کی خرابیاں کیوں نہیں لکھتے، اس پر مجھے ہنسی آ جاتی ہے۔صاحب! اس ملک میں کون سا طبقہ ہے جو پہلے اپنا نوحہ خود شائع کرتا ہے؟سیاست دان اپنی سازشیں نہیں بتاتے، افسر اپنی فائلیں نہیں کھولتے، تاجر اپنا منافع نہیں گنواتے، ٹھیکیدار اپنا حساب نہیں سناتے، مگر صحافی سے توقع یہ ہے کہ وہ صبح اٹھ کر سب سے پہلے اپنے ہی گریبان کی تصویریں اخبار میں چھپوائے ۔ خبر وہ لکھتا ہے، مگر فیصلہ کوئی اور کرتا ہے کہ شائع کیا ہونا ہے اور دفن کیا ہونا ہے۔داد بھی مدیر لے جاتا ہے اور گالی بھی رپورٹر کھاتا ہے ایسے میں اگر ہم اپنی غلطیاں تسلیم کرکے کسی کو اپنی تزلیل کا موقع نہیں دیتے تو حرج کیا ہے ۔خیر یہی عرض ہے کہ اگر فرشتوں جیسی صحافت چاہیے تو پہلے صحافیوں کو انسانوں جیسی زندگی دیجیے۔انہیں اتنا تحفظ اور اتنی عزت تو دیجیے کہ وہ شام کو گھر لوٹتے وقت اپنے بچوں کی آنکھوں میں دیکھ سکیں۔ورنہ یہ نہ پوچھئے کہ صحافت کیوں بکتی ہے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں