پیک شدہ اشیائے خوردونوش کی ایک تشویشناک تعداد قومی معیار پر پورا اترنے میں ناکام رہی ہے۔وزارتِ منصوبہ بندی کے تجزیے کے مطابق گھی کے تمام نمونوں میں سے تقریباً 48 فیصد، ریفائنڈ پام آئل کے 75 فیصد اور پیک شدہ دودھ کے 44 فیصد نمونے ناقص معیار کے پائے گئے۔ملک بھر کی مارکیٹوں سے اکٹھے کئے گئے مختلف غذائی اشیا کے 491 نمونوں میں سے 176 معیار کے مطابق نہیں پائے گئے جو کہ تقریبا 36 فیصد کی مجموعی ناکامی کی شرح ہے ۔ کئی دہائیوں سے معیاراتِ معیار موجود ہونے کے باوجود، حکومت کی نفاذ کی صلاحیتیں ہمیشہ ہی تسلی بخش نہیں رہیں۔ناقص معیار کی خوراک کا تعلق دل کے امراض اور دیگر غیر متعدی بیماریوں میں اضافے سے جوڑا گیا ہے،خاص طور پر نوجوان پاکستانیوں میں؛تاہم نئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ خطرہ پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔ایک تو یہ کہ ان ٹیسٹوں میں صرف “پیک شدہ”مصنوعات کا جائزہ لیا گیا جن کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ وہ زیادہ محفوظ ہوتی ہیں،بشرطیکہ پیکنگ کے دوران حفاظتی اقدامات کا خیال رکھا گیا ہو ۔ کھلے دودھ اور بغیر پیکنگ والی دالوں اور گوشت جیسی مصنوعات حفظانِ صحت کے معیارات پر پورا نہ اترنے اور ملاوٹ کے حوالے سے بدنام ہیں۔ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ معیار پر پورا نہ اترنے والے زیادہ تر برانڈز غیر معروف تھے جبکہ مقامی اور ملٹی نیشنل سطح پر مشہور برانڈز نے کم از کم معیارات سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ معیارات کو برقرار رکھنے کیلئے درکار ٹیکنالوجی اور آلات مارکیٹ میں دستیاب ہیں،اور بہت سی مستحکم کمپنیاں اپنی ساکھ کو نقصان سے بچانے کیلئے اضافی کوششیں کرتی ہیں۔ان چھوٹی کمپنیوں کیخلاف مزید کارروائی کی ضرورت ہے جو تحفظ اور صحت پر منافع کو ترجیح دینے کیلئے نظام کا غلط فائدہ اٹھاتی ہیں ۔ خوراک کا تحفظ کوئی عیش و آرام کی چیز نہیں؛یہ ایک بنیادی انسانی حق ہے۔جب گھی کی 48 فیصد مقدار دل کی بیماری کا سبب بن سکتی ہو،اور جب ایک تہائی سے زیادہ کوکنگ آئل اور پیک شدہ دودھ صارفین کو غلط بیانی کے ساتھ فروخت کیا جا رہا ہوتو یہ معاملہ محض صارفین کے تحفظ کا نہیں رہتا بلکہ یہ عوامی صحت کی ہنگامی صورتحال بن جاتا ہے۔وزیر کی جانب سے ملک گیر سروے ایک درست اقدام ہے لیکن صرف سروے کافی نہیں ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ خلاف ورزی کرنیوالوںکو سخت سزائیں دی جائیں،ریگولیٹری اداروں میں مکمل اصلاحات کی جائیں اور ملاوٹ کی ایسی قیمت مقرر کی جائے جسے ادا کرنے پر کوئی بھی فروخت کنندہ تیار نہ ہو۔
پاک روس مال بردار ریل رابطوں کاقیام
پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس ماسکو کو فیصل آباد اور کراچی سے ملانے والے پہلے مال بردار ریل رابطوں کے قیام پر کام کر رہے ہیں ، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے ایک نئے اور زیادہ موثر راستے کے امکانات پیدا ہوں گے۔ فریقین معاہدے کی شرائط کو حتمی شکل دینے اور ممکنہ تجارتی صارفین کی نشاندہی کرنے پر کام کر رہے ہیںجبکہ اس عمل میں بیلاروس کو شامل کرنے کے امکان پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔ تجویز کردہ ریل رابطے علاقائی رابطوں کو مضبوط بنانے اور تجارتی دائرہ کار کو وسیع کرنے کی پاکستان کی کوششوں کیلئے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ملک کے اہم صنعتی اور ٹیکسٹائل مراکز میں سے ایک، فیصل آباد، روسی اور وسیع تر یوریشین منڈیوں تک بہتر رسائی حاصل کر سکتا ہے جبکہ کراچی اپنی بندرگاہوں اور تجارتی بنیادی ڈھانچے کے ذریعے سامان کی نقل و حمل کیلئے ایک اہم گیٹ وے کا کردار ادا کر سکتا ہے۔یہ اقدام گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان اور روس کے تعلقات میں آنیوالی بہتری کی بھی عکاسی کرتا ہے۔دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل بہتری کی جانب گامزن ہیں اور وہ تجارت، توانائی، زراعت، دفاع اور علاقائی رابطوں کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دے رہے ہیں۔تجویز کردہ فریٹ کوریڈورز اس مثبت رجحان کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔ریل کا ایک قابلِ اعتماد رابطہ پاکستان اور روس میں کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کریگا کہ وہ نئی منڈیاں تلاش کریں، رسد کے نظام کو بہتر بنائیں اور دو طرفہ تجارت کے حجم اور تنوع میں اضافہ کریں۔اس منصوبے میں بیلاروس کی ممکنہ شمولیت پاکستان کو وسیع تر یوریشین خطے سے مزید قریب لا کر اس منصوبے میں ایک نئی جہت کا اضافہ کر سکتی ہے۔ فریقین اس اقدام کو آگے بڑھانے کیلئے پُرعزم ہیں ۔ ماسکو – فیصل آباد اور ماسکو-کراچی فریٹ رابطے تعاون کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں اور معاشی و تجارتی تعلقات کو نمایاں طور پر فروغ دے سکتے ہیں۔
صاف پانی کا اقدام
پنجاب حکومت کا چھ اضلاع میں پائپ لائن نیٹ ورک کے ذریعے صاف پینے کے پانی کی فراہمی کا پائلٹ پروجیکٹ شروع کرنے کا فیصلہ،صوبے بھر میں عوامی صحت اور لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی جانب ایک خوش آئند قدم ہے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس اقدام کی منظوری دی ہے جسے پنجاب کی تاریخ میں پینے کے پانی کا سب سے بڑا پروگرام قرار دیا جا رہا ہے ۔یہ اقدام’ستھرا پنجاب’منصوبے کی کامیابی کے بعد سامنے آیا ہے،جس نے صوبے بھر کی آبادیوں تک صفائی ستھرائی کی خدمات پہنچائی ہیں۔عوامی خدمات کی توسیع کا یہی جذبہ اب صاف پینے کے پانی کے پروگرام کی بھی رہنمائی کرے ۔ جس طرح’ستھرا پنجاب’ صوبے کے ہر کونے تک پہنچا،اسی طرح محفوظ اور قابلِ اعتماد پینے کے پانی کے فوائد بھی بالآخر ہر قصبے اور گاں تک پہنچنے چاہئیں۔صاف پینے کا پانی کوئی مراعات یافتہ سہولت نہیں؛یہ ایک بنیادی ضرورت اور صحت مند و باعزت زندگی کیلئے ایک لازمی تقاضا ہے۔غیر محفوظ پانی کئی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے اور خاندانوں نیز صحت کے نظام پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔لہٰذا،محفوظ پانی تک رسائی کو یقینی بنانا عوامی صحت،انسانی ترقی اور مجموعی معیارِ زندگی میں سرمایہ کاری کے مترادف ہے ۔ پائلٹ پروجیکٹ کیلئے راجن پور، لاہور، فیصل آباد، چکوال، راولپنڈی اور مری/کوٹلی ستیاں کا انتخاب اس لیے اہم ہے کیونکہ اس میں جنوبی، وسطی اور شمالی پنجاب کی نمائندگی کرنیوالے علاقے شامل ہیں ۔ان اضلاع سے حاصل ہونے والے تجربے کو خامیوں کی نشاندہی کرنے، فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے اور پورے صوبے میں پروگرام کو وسعت دینے کیلئے ایک عملی لائحہ عمل تیار کرنے میں استعمال کیا جانا چاہیے۔حکومت کو کئی شہری اور دیہی آبادیوں کو درپیش پانی کی قلت کے مسئلے کو بھی حل کرنے کی ضرورت ہے۔
ترسیلاتِ زر :زندگی کا سہارا
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر ہماری معیشت کیلئے ایک اہم سہارا بنی ہوئی ہیں۔مالی سال 2025-26 میں کارکنوں کی ترسیلاتِ زر 41.6 ارب ڈالر کی تاریخی بلندی پر پہنچ گئیں جبکہ اشیا کی برآمدات 30.8 ارب ڈالر رہیں۔دوسرے لفظوں میں، ترسیلاتِ زر ملک کی اشیا کی کل برآمدات سے تجاوز کر گئیںجو بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کے غیر معمولی کردار کو اجاگر کرتا ہے۔پاکستان بین الاقوامی کمپنیوں سے غیر ملکی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے،وہیں بیرونِ ملک مقیم پاکستانی خود ملک کے سب سے بڑے سرمایہ کاری کے ذرائع میں سے ایک ہیں۔بہت سے لوگوں نے سرمایہ،کاروباری تجربہ اور بین الاقوامی نیٹ ورکس تشکیل دیے ہیں جنہیں وطن میں پیداواری سرمایہ کاری کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی، ہائوسنگ، زراعت، خدمات اور چھوٹے کاروباروں میں ان کی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے ایک مربوط پالیسی روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہے اور معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کر سکتی ہے۔بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنی کمائی وطن بھیج کر پہلے ہی اپنے عزم کا ثبوت دے چکے ہیں۔اگلا قدم ایسے حالات پیدا کرنا ہونا چاہیے جو انہیں اس کمائی کو پاکستان میں بھی سرمایہ کاری کے طور پر لگانے کی ترغیب دیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں