بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Friday, 28 August 2026 | پاکستان: 16 ر بیع الاول 1448

پاکستان میں طبی نگہداشت کے کلچر کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ شفاء نے تاریخ رقم کردی

Friday, 28 August, 2026

شفاء انٹرنیشنل ہسپتال نے پاکستان اور خطے کے شعبہ صحت میں ایک اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے طبی خدمات میں اعلیٰ معیار، مریضوں کے تحفظ اور بین الاقوامی طور پر مسلمہ نگہداشت کے معیار کے حوالے سے ایک غیرمعمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ شفاء کے متعدد اداروں اور طبی پروگراموں کو جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل (جے سی آئی) کی جانب سے منظوری اور سرٹیفکیشن ملنے سے شفاء محفوظ، قابل اعتماد اور شواہد پر مبنی طبی نگہداشت کے ضمن میں ایک نیا معیار قائم کر رہا ہے۔
اس کامیابی کا محور شفاء انٹرپرائز ہے جس کی جے سی آئی انٹرپرائز ایکریڈیٹیشن اس عزم کی عکاس ہے کہ معیاری طبی نگہداشت صرف کسی ایک سہولت یا سروس تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے شفاء ایکو سسٹم میں یکساں طور پر یقینی بنائی جائے گی۔ اس سے شفاء کی جانب سے ہر مرکز صحت اور ہر مرحلہ علاج میں معیار، مریضوں کے تحفظ اور طبی مہارت کے یکساں عالمی معیارات اپنانے کے عزم کو تقویت ملتی ہے۔
اس تاریخی کامیابی کی اہمیت شفاء ایمبولینس سروس (ایس اے ایس) کی جے سی آئی میڈیکل ٹرانسپورٹ ایکریڈیٹیشن سے مزید بڑھ گئی ہے۔ شفاء ایمبولینس سروس پاکستان کی پہلی ایمبولینس سروس بن گئی ہے جسے جے سی آئی کی ایکریڈیٹیشن حاصل ہوئی ہے۔ یہ ملک میں ہنگامی طبی خدمات اور اسپتال سے قبل فراہم کی جانے والی طبی نگہداشت کے شعبے میں ایک بے مثال کامیابی اور شفاء سمیت پاکستان کی ہیلتھ کیئر کمیونٹی کے لیے باعث فخر لمحہ ہے۔
شفاء ایمبولینس سروس کی یہ کامیابی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ معیاری اور محفوظ طبی نگہداشت کا سفر مریض کے اسپتال پہنچنے سے بہت پہلے شروع ہوجاتا ہے اور نگہداشت کے ہر نازک لمحے میں اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ معیار، تحفظ، باہمی رابطے اور ہمدردی ضروری ہیں۔
یہ کامیابیاں جون 2026ء میں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال کو اکیڈمک میڈیکل سینٹر (اے ایم سی) کی حاصل ہونے والی ایکریڈیٹیشن کے تسلسل میں سامنے آئی ہیں۔ شفاء کی ہوم ہیلتھ کیئر کمپنی ای شفاء کے لیے بھی جے سی آئی کے ایک تفصیلی اور سخت جائزے کے بعد جے سی آئی ہوم کئیر ایکریڈیٹیشن کے لیے سفارش کی گئی ہے جس کے ذریعے شفاء نے ہسپتال کی حدود سے باہر مریضوں کے گھروں تک معیاری طبی نگہداشت کے عزم کو وسعت دی ہے۔
شفاء کے طبی امتیاز کو بین الاقوامی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے جیسا کہ جون 2026ء میں اس کے ایکیوٹ اسکیمک سٹروک اور ایکیوٹ کورونری سنڈروم پروگرامز کو بھی جے سی آئی سے سرٹیفکیشن حاصل ہوئیں۔ یہ سرٹیفکیشن انتہائی پیچیدہ اور وقت کے لحاظ سے حساس طبی حالات میں مربوط، معیاری، شواہد پر مبنی اور مریض پر مرکوز علاج فراہم کرنے کی شفاء کی صلاحیت کی توثیق کرتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ کامیابیاں محض ایکریڈیٹیشنز اور سرٹیفکیشنز کا سلسلہ نہیں بلکہ پاکستان میں ’’کلچر آف کیئر‘‘ یعنی نگہداشت کے کلچر کے فروغ اور استحکام کے حوالے سے ایک فیصلہ کن لمحہ ہیں۔
یہ کامیابیاں ایسے ماحول کی عکاسی کرتی ہیں جہاں معیار محض اتفاق نہیں بلکہ مریضوں کا تحفظ روزمرہ طبی طریقہ کار کا لازمی حصہ ہوتا ہے اور طبی فیصلے شواہد کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ یہ کامیابیاں شفاء کو دنیا کے ان معروف طبی اداروں کے ہم پلہ قرار دیتی ہیں جنہوں نے سخت بین الاقوامی معیارات اور مسلسل معیار کی بہتری کو اپنے معمول کا حصہ بنایا ہوا ہے۔
اس سے بھی بڑھ کر یہ کامیابیاں پاکستان اور خطے کے لیے ایک موثر پیغام ہیں کہ عالمی معیار کی طبی سہولیات کوئی انہونی خواہش نہیں، انہیں پاکستان میں فراہم اور برقرار رکھا جاسکتا ہے اور مسلسل بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
یہ شفاء کے لیے فخر کا لمحہ اور پاکستان کے لیے بھی ایک اہم کامیابی ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی شعبۂ صحت عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیارات پر پورا اترنے اور خطے میں طبی نگہداشت کے معیار کو مزید بہتر بنانے کی صلاحیت، مہارت اور عزم پر کاربند ہے۔
شفاء کے ترجمان نے اسے شفاء فیملی اور پوری قوم کے لیے باعث فخر لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا ’’ہم اپنی ٹیم کے ہر رکن کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں جن کی لگن، پیشہ ورانہ صلاحیت، ثابت قدمی اور بہترین کارکردگی کے عزم نے ان تاریخی کامیابیوں کو ممکن بنایا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا ’’ہم سمجھتے ہیں کہ شفاء انٹرپرائز کی جے سی آئی ایکریڈیٹیشن اس وعدے کی عکاسی کرتی ہے کہ جہاں کہیں بھی ہمارے مریض شفاء کی کسی سروس سے رجوع کریں، انہیں قابل اعتماد، محفوظ، ہمدردانہ اور شواہد پر مبنی نگہداشت کے یکساں معیار اور عزم کا تجربہ حاصل ہو۔ ہمیں خصوصی طور پر فخر ہے کہ شفاء ایمبولینس سروس پاکستان کی پہلی ایمبولینس سروس بن گئی ہے جس نے جے سی آئی ایکریڈیٹیشن حاصل کی۔ یہ ایس اے ایس، شفاء اور ہمارے ملک کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے۔‘‘

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *