بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 24.2°C
Tuesday, 29 September 2026 | پاکستان: 18 ر بیع الثانی 1448

صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین: حوثی ملیشیاؤں کا بغاوت پر مبنی منصوبہ یمن، بحیرۂ احمر اور بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ ہے

Tuesday, 29 September, 2026

صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین، عزت مآب ڈاکٹر رشاد محمد العلیمی نے 26 ستمبر کے انقلاب کی 64ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ یمن کی قومی جدوجہد بنیادی طور پر ریاست، جمہوری نظام، قومی شناخت، مساوی شہریت اور قانون کی حکمرانی کے تحفظ کی جدوجہد ہے، جسے حوثی ملیشیاؤں کے بغاوت پر مبنی منصوبے سے خطرہ لاحق ہے۔
انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیاؤں نے صرف ریاستی اداروں پر قبضہ نہیں کیا بلکہ منظم انداز میں انہیں کمزور کرنے، یمنی عوام کی مشکلات کو طول دینے، قومی معیشت اور عوامی خدمات کو نقصان پہنچانے، شہریوں کو بے گھر کرنے، نوجوانوں کو پے در پے جنگوں میں بھرتی کرنے اور طاقت، جبر، امتیازی سلوک اور مساوی شہریت کی نفی پر مبنی نظام مسلط کرنے کی کوشش کی ہے۔
چیئرمین نے خبردار کیا کہ حوثیوں سے پیدا ہونے والا خطرہ اب یمن تک محدود نہیں رہا۔ یمنی سرزمین اور ساحلی علاقوں کو معاندانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کے باعث بحیرۂ احمر اور باب المندب علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے خطرات کا مرکز بن گئے ہیں۔ بحری آمد و رفت اور تجارتی جہازوں پر ان کے حملے دنیا کی اہم ترین بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں سے ایک، نیز عالمی تجارت، توانائی اور ضروری اشیا کی ترسیل کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ باب المندب اور بحیرۂ احمر کو دباؤ، بلیک میلنگ یا طاقت کے ذریعے اثر و رسوخ قائم کرنے کا ذریعہ نہیں بننے دیا جانا چاہیے۔ حوثی ملیشیاؤں کی جانب سے یمنی ساحلوں کو مسلسل عسکری مقاصد کے لیے اسستعمال کرنا اور بحری راستوں کو نشانہ بنانا صرف یمن اور پڑوسی ممالک ہی کے لیے نہیں بلکہ بین الاقوامی جہاز رانی، تجارتی مفادات اور عالمی رسد کے سلسلوں کے استحکام کے لیے بھی خطرہ ہے۔
عزت مآب نے کہا کہ یمن کی سلامتی، بحیرۂ احمر اور باب المندب کی سلامتی سے الگ نہیں کی جا سکتی۔ ان اہم آبی گزرگاہوں کا تحفظ بالآخر یمنی ریاست کی اپنی سرزمین، ساحلوں، بندرگاہوں اور علاقائی پانیوں پر خودمختاری کی بحالی کا تقاضا کرتا ہے۔ اس لیے ملک کے بعض حصوں پر حوثیوں کا مسلسل کنٹرول اور یمنی سرزمین کو فوجی کشیدگی بڑھانے کے لیے استعمال کرنا ایک وسیع تر علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کا مسئلہ ہے۔
چیئرمین نے اعادہ کیا کہ یمنی ریاست اپنے شہریوں، قومی مفادات اور خودمختاری کا تحفظ جاری رکھے گی، جبکہ اس کی مسلح افواج اور سلامتی کے ادارے شہریوں کے تحفظ اور قانون کے احترام کے پابند رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حتمی مقصد ریاستی اداروں کی بحالی، پورے یمن میں قانونی ریاستی اختیار کا نفاذ، بغاوت کا خاتمہ اور حقیقی و پائیدار امن کی بنیادیں قائم کرنا ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ حوثیوں کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں رہنے والے یمنی شہری دشمن نہیں ہیں اور انہیں ملیشیاؤں کے منصوبے کا فریق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس آمادگی کا اعادہ کیا کہ جو افراد ملیشیاؤں سے علیحدگی اختیار کریں اور لڑائی میں حصہ لینا چھوڑ دیں، ان کی جمہوریہ اور آئینی قانونی حکومت کی صفوں میں محفوظ واپسی میں سہولت فراہم کی جائے گی اور قانون کے مطابق انہیں عام معافی دی جائے گی۔
چیئرمین نے مملکتِ سعودی عرب کی حمایت کو بھی سراہا اور برادر و دوست ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ یمنی حکومت کی مدد کریں تاکہ یمنی ریاست اور اس کے اداروں، نیز خطے اور بین الاقوامی آبی گزرگاہوں کی سلامتی کو لاحق خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔
حوثی ملیشیاؤں کا منصوبہ محض یمن کا داخلی خطرہ نہیں ہے۔ اس کے اثرات یمن کی سرزمین اور ساحلوں سے آگے بحیرۂ احمر، باب المندب، بین الاقوامی جہاز رانی اور عالمی تجارت تک پھیلتے ہیں۔ لہٰذا یمنی ریاست اور اس کی خودمختاری کی بحالی یمنی عوام کے تحفظ، اہم آبی گزرگاہوں کی سلامتی اور خطے میں پائیدار استحکام و امن کے لیے ضروری ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *