بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 21.2°C
Friday, 02 October 2026 | پاکستان: 21 ر بیع الثانی 1448

حافظ خدا تمہارا

Friday, 2 October, 2026

کچھ یادیں وقت کیساتھ پرانی نہیں ہوتیں۔ زندگی آگے بڑھتی رہتی ہے، عہدے بدل جاتے ہیں، لباس بدل جاتے ہیں، آسائشیں بڑھ جاتی ہیں، مگر ماضی کا کوئی ایک منظر اچانک سامنے آجائے تو انسان برسوں پیچھے پہنچ جاتا ہے۔ مجھے بھی کبھی کبھی 1977 کا سعودی عرب یاد آتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ابھی کل ہی کی بات ہو۔ وہ جدہ، وہ گرمی، وہ مشقت، وہ بے یقینی اور وہ نوجوان افتخار، جسے معلوم نہیں تھا کہ زندگی اسے کہاں لے جائے گی۔میں جب سعودی عرب پہنچا تو آج کا سعودی عرب وجود میں نہیں آیا تھا۔ نہ بلند و بالا عمارتوں کی یہ دنیا تھی، نہ کشادہ شاہراہیں، نہ جدید شاپنگ مالز اور نہ وہ سہولتیں جنہیں آج معمول سمجھا جاتا ہے۔ ہمارے لیے سب سے بڑی خواہش صرف یہ تھی کہ کوئی کام مل جائے اور گھر والوں کو کچھ رقم بھیجی جاسکے۔میرے پاس وہاں کوئی بڑا سہارا نہیں تھا۔ پہلی نوکری ملی تو تقریبا ایک ماہ بعد نوٹس دے دیا گیا۔ایک ماہ کی مزید تنخواہ ملی اور ملازمت ختم ہوگئی۔ دوسری جگہ کام کیا، پھر تیسری جگہ۔ چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہوئے آدمی صرف پیسہ نہیں کماتا، زندگی کو سمجھنا بھی شروع کردیتا ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ پردیس میں اپنی مدد آپ کے سوا کوئی راستہ نہیں۔پھر جدہ میں ایک کمپنی کے ساتھ کام ملا جو شیڈ بنایا کرتی تھی۔ آج سوچتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہم کس طرح اتنی اونچائی پر کام کیا کرتے تھے۔ صبح شیڈ کے اوپر چڑھتے اور کوشش ہوتی کہ شام تک زیادہ سے زیادہ کام وہیں مکمل کرلیں، کیونکہ بار بار نیچے اترنا اور دوبارہ اوپر جانا بھی خاصی مشقت تھی۔اسی کمپنی میں ایک واقعہ ایسا پیش آیا جو آج تک میری یادداشت میں محفوظ ہے۔کویت سے شیڈ کا سامان ایک بڑے ٹریلر پر آیا تھا۔ میں اس کا سامان اتروا رہا تھا۔ ایک لبنانی نوجوان کرین چلا رہا تھا۔ اچانک مجھے محسوس ہوا کہ کرین کا ایک بہت بڑا حصہ میری طرف لہراتا ہوا آرہا ہے۔ چند لمحوں میں اندازہ ہوگیا کہ اگر یہ میرے جسم سے ٹکرا گیا تو شاید زندگی ختم ہوجائے گی۔میں نے فوراً اوپر سے چھلانگ لگادی۔میرا اندازہ ہے کہ یہ تقریبا ًتیس فٹ کی بلندی تھی۔ وہ بھاری حصہ میرے بہت قریب سے گزرا۔ چند لمحوں کا فرق تھا۔ آج جب اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو صاف محسوس ہوتا ہے کہ وہاں میری طاقت نہیں، اللہ کی حفاظت تھی۔اسی کمپنی میں ایک اور حادثہ بھی پیش آیا جس کی تفصیل میں بیان نہیں کرنا چاہتا۔ کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جنہیں الفاظ میں منتقل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ میں آج بھی ان لوگوں کی تکلیف یاد کرتا ہوں تو دل بھر آتا ہے۔ پردیس میں مزدور کی زندگی باہر سے شاید صرف ایک ملازمت نظر آتی ہے، لیکن اس کے پیچھے کئی ایسے خطرات ہوتے ہیں جن کا اندازہ گھر بیٹھے نہیں کیا جاسکتا۔ان دنوں پانی بھی آسانی سے دستیاب نہیں تھا۔ ہم یمنی لوگوں سے پانی کے ڈرم خریدا کرتے تھے۔ ایک ڈرم دس ریال میں ملتا تھا۔ جس شخص کی باری ہوتی وہ ڈرم لینے جاتا اور واپس آکر دور سے آواز لگاتا:پانی لے آیا ہوں! آج یہ بات شاید معمولی لگے، لیکن اس وقت پانی کا بھرا ہوا ڈرم واقعی خوشی کی خبر ہوتا تھا۔میں نے اس دور کے سعودی بزرگ بھی دیکھے۔ چھوٹی دکانیں، سادہ زندگی، پیسوں کی پوٹلیاں اور پھٹی ہوئی ایڑیاں۔ آج جب اسی ملک کو جدید دنیا میں اتنی تیزی سے آگے بڑھتے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ ترقی کے پیچھے صرف وسائل نہیں ہوتے، نسلوں کی محنت بھی ہوتی ہے۔ سعودی خاندانوں نے اپنے بچوں کو پڑھایا اور ملک نے آہستہ آہستہ ترقی کی نئی منزلیں طے کیں۔وقت میرے لیے بھی بدلتا گیا۔ میں نے کام سیکھا، تجربہ حاصل کیا اور بہتر ملازمتوں تک پہنچا۔ وہ وقت بھی آیا جب بڑے اداروں میں ذمہ داریاں ملیں، اچھے لباس پہنے، بڑے دفاتر میں بیٹھا اور انتظامی عہدوں پر کام کیا۔لیکن انسان کا ماضی اسکے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ایک مرتبہ میں ایک قومی آٹو کمپنی کے ڈیلرشپ کے دورے پر گیا۔ اس وقت میں ووکس ویگن کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ وہاں اچانک میری نظر ایک کونے پر پڑی تو میں ٹھٹھک کر رہ گیا۔ایک جگہ میرے ہاتھ سے لکھا ہوا نام موجود تھا:افتخار چودھری۔میں نے اپنے دوست سے کہا، یہ نام میں نے خود لکھا تھا۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں میں نے کبھی اپنے ہاتھوں سے شیڈ بنایا تھا۔وہ حیران رہ گیا۔میرے لیے یہ صرف ایک نام نہیں تھا۔ اس چھوٹے سے نشان میں میری پوری جوانی محفوظ تھی۔ وہ دن جب میں ملازمت کی تلاش میں پھرتا تھا، وہ دن جب اونچائی پر کام کرتا تھا، وہ خوفناک لمحہ جب کرین میرے قریب سے گزری اور وہ زمانہ جب پانی کا ایک ڈرم بھی نعمت محسوس ہوتا تھا۔میں نے اس دن اپنے آپ سے کہا کہ انسان کو اپنی منزل جتنی بھی بڑی لگے، اسے اپنا نقطہ آغاز نہیں بھولنا چاہیے اور پھر مجھے صرف اپنی نہیں، ان ہزاروں پاکستانیوں کی یاد آئی جو اسی زمانے میں سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک گئے تھے۔کسی نے ورکشاپ میں کام کیا، کسی نے تعمیرات میں، کسی نے ڈرائیونگ کی، کسی نے دکان پر وقت گزارا اور کسی نے فیکٹری میں راتیں گزاریں۔ ان میں سے بہت سے لوگ اپنے گھر والوں کو بہتر زندگی دینے کیلئے اپنی جوانی پردیس میں چھوڑ آئے۔گھر سے دور رہنا آسان نہیں ہوتا۔بچے بڑے ہوتے رہتے ہیں اور باپ دور ہوتا ہے۔ والدین بوڑھے ہوجاتے ہیں اور بیٹا ہزاروں میل دور بیٹھا ہوتا ہے۔ عید آتی ہے تو گھر کی یاد آتی ہے۔ بیماری کی خبر ملے تو دل بے چین ہوتا ہے۔ لیکن پردیسی اپنی تکلیف کو اکثر چھپا لیتا ہے تاکہ گھر والوں کو یہ محسوس نہ ہو کہ وہ مشکل میں ہے۔ان لوگوں نے اپنے بچوں کی فیسیں بھیجیں، گھر بنائے، کاروبار شروع کیے اور خاندانوں کے مستقبل سنوارے۔ پاکستان کو بھی ان کی محنت سے فائدہ پہنچا۔ آج اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات زر ملک کیلئے ایک اہم معاشی سہارا ہیں، لیکن اعدادوشمار میں وہ جذبات نظر نہیں آتے جو ہر بھیجے ہوئے ریال کے پیچھے موجود ہوتے ہیں۔وہ ریال کسی مزدور کے پسینے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔کسی باپ کی قربانی کا۔کسی ماں کی دعا کا۔کسی بچے کے بہتر مستقبل کا۔مجھے جب اپنے وہ دن یاد آتے ہیں تو دل میں افسوس نہیں، شکر پیدا ہوتا ہے۔ اللہ نے مشکل وقت بھی دکھایا اور پھر آسانی بھی عطا کی۔ شاید یہی زندگی کا سب سے بڑا سبق ہے کہ انسان اپنی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے اپنے گزرے ہوئے دنوں کو نہ بھولے۔میں اپنے بچوں کو کبھی کبھی وہ قصے سناتا ہوں تو خود بھی جذباتی ہوجاتا ہوں۔ انہیں بتاتا ہوں کہ زندگی ہمیشہ آرام سے شروع نہیں ہوتی۔ بعض اوقات انسان کو بہت نیچے سے سفر شروع کرنا پڑتا ہے۔ راستے میں ناکامیاں بھی آتی ہیں، خطرات بھی اور ایسے لمحے بھی جب انسان کو اپنی زندگی ختم ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اگر حوصلہ باقی رہے اور اللہ پر یقین قائم رہے تو حالات بدل سکتے ہیں۔آج بھی میری آنکھوں کے سامنے وہ جگہ آجاتی ہے جہاں میرے ہاتھ سے لکھا ہوا افتخار چودھری موجود تھا۔ وہ چھوٹا سا نام میرے لیے ایک پوری کتاب ہے۔اس کتاب میں ایک نوجوان ہے جو روزگار کی تلاش میں پردیس پہنچا۔ایک پردیسی کی داستان ۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *