بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 17.9°C
Monday, 19 October 2026 | پاکستان: 10 جمادی الاول 1448

زندگی کی تلخ حقیقتیں

Monday, 19 October, 2026

کہنے والے کہتے ہیں تو ٹھیک ہی تو کہتے ہوں گے کہ پاکستان میں جمہوریت کرپشن کی علامت بن چکی ہے بڑے بڑے رہنمائوں نے سیاست کو صرف اپنی ترقی کیلئے مخصوص کررکھاہے یہی لوگ جرائم پیشہ افرادکی سرپرستی کررہے ہیں کراچی ، بلوچستان اور دیگر شہروں میں امن و امان کا مسئلہ بھی اسی لئے الجھاہوا ہے کہ مجرم ذہنیت لوگوںنے سیاست اور جمہوریت کو یرغمال بنارکھا ہے جس کی وجہ سے حالات مزید خراب ہوتے جارہے ہیں یہ عناصر اتنے طاقتور ہیں کہ ان کی مرضی کے بغیر پولیس اور دیگر قانون نافذکرنیوالے ادارے ان کے علاقوں میں قدم بھی نہیں رکھ سکتے اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس میں ہر قسم کی کرپشن کو حرام قرار دیا گیاہے اس کیلئے حرام اور حلال کا ایک وسیع تصور ا س کے مفہوم ومعانی کااحاطہ کرتاہے یہ الگ بات کہ اب پاکستانی معاشرے میں حرام اور حلال کی تمیز ختم ہوگئی ہے یہی مسائل کی اصل جڑ ہے دولت کی ہوس ، ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ، معاشرہ میں جھوٹی شان و شوکت اورراتوں رات امیربننے کی خواہش نے اکثریت کو بے چینی میں مبتلا کرکے رکھ دیاہے۔ پاکستان کے کرپٹ افراد بہت طاقتورہیں اس میں حکمران، بیوروکریسی، سیاستدان،فیوڈل لارڈ ، سرمایہ دار اور بڑی بڑی شخصیات شامل ہیں انہوں نے باقاعدہ مافیا کی شکل اختیارکرلی ہے لیکن نظریات کیلئے قربانیاں دینے والے دنیامیں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں، نبی ٔ اکرم ۖ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام۔ سقرا ط ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام،امام حسین،امام ابو حنیفہ ،سرمدجیسی شخصیات کانام اور مقام آج بھی دنیا میںسر بلندہے جبکہ ان کے دشمن تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہوگئے اور آج ان کا کوئی نام لیوا بھی نہیں ہے۔موافق حالات، طاقت کا بے رحم استعمال اورریاستی جبر بھی ان کے ارادے متزلزل نہیں کرسکتا اور مشکلات بھی راستہ نہیں روک سکتیں ۔ غور سے دیکھا جائے تو دنیا میں صرف دو ہی طبقے ہیں ایک بااختیار ۔ دوسرا بے اختیار اور بے اختیار لوگوںکو اپنی دنیا آپ پیدا کرنا پڑتی ہے یہ اسے انسانیت کی معراج کہاجا سکتا ہے یہ بات ذہن نشین کرنا ضروری ہے کو اپنی دنیا آپ پیدا کرنے والے نئی منزلیں تلاش کرتے ہیں اور دنیا ان کی تقلیدکرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ شاید اسی لئے اقبال نے کہا تھا
میخانہ ٔ یورپ کے دستور نرالے ہیں
دیتے ہیںسرور اول لاتے ہیں شراب آخر
بالکل اسی طرح پاکستان ایک ایسا ملک بن گیا ہے جس میںتعلیمیافتہ نوجوانوںکو جاب کیلئے مقابلے کا امتحان پاس کرنا پڑتاہے لیکن ہمارے سیاستدان اورحکمران کسی قابلیت کے بغیر بار بار اسمبلیوںمیں آتے ہیں اور قابل ترین لوگوںپرحکومت کرتے ہیں اس سے زیادہ اور کیا ستم ظریفی ہوگی کہ نااہل لوگ قابل لوگوںپر حکومت کریں۔ویسے اگر دیکھا جائے تو دنیا میں بہت سے کام بڑی بڑی حکومتیں نہیں کر پاتیں لیکن سماجی شخصیات ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہیں بس تھوڑی سی توجہ، کوشش اور ہمت کی ضرورت ہوتی ہے ملک سے غربت اور بیروزگاری ختم کرنے کیلئے ایسے ہی انقلابی اقدامات کی اشد ضرورت ہے صرف آغاز میں ہی مشکلات ہوتی ہیں پھر دئیے سے دیا جلتا جاتاہے ہم دل کی آنکھوں سے دیکھیں تو بیسیوں ایسے افرادنظر آئیں گے جو تھوڑی سی توجہ سے معاشرے میں با عزت مقام پا سکتے ہیں آئیے!آج صدق ِ دل سے ایک نئے مشن کا آغاز کریں ہر سال ایک فردکو روزگار اور ایک غریب طالبعلم کی فیس کااہتمام کرنے کا عزم کریں۔ یہ قوم کے درخشاں اور روشن مستقبل کی علامت ثابت ہوگا ۔۔پھر دیکھئے غربت کیسے ختم ہوتی ہے اور جہالت کے اندھیرے کب اور کہاں غائب ہو جائیں گے ۔ اس نیکی کے طفیل ہو سکتاہے یہی عمل آپ کیلئے نجات کا سبب بن جائے۔ہمیشہ بلندوبانگ دعوے تو ہر حکمران کرتاہے اگرحکمران واقعی ملک وقوم کیلئے کچھ کرنا چاہتے ہیں اگر وہ” دجلہ کے کنارے کتا بھی بھوکا مر جائے تو قیامت کے روز خدا کے حضور عمر جوابدہ ہوگا”کو اپنی حکومت کا ماٹو قراردیکراس کی روشنی میں حکمت ِ عملی تیار کریں تو اس سے بہتوںکا بھلاہوگا حکومت کے پاس درجنوں خفیہ ایجنسیاں ہیں کسی ایک ایجنسی کو پاکستان کی ہر فیملی بارے حقیقی سروے تیار کرنے کی ہدایت جاری کی جائے جو یونین کونسل سطح پر ان کے وسائل ،ضروریات اور دیگر امورکی مکمل چھان بین کرے جوکسی کاروبار،روزگار یا کسی ملازمت کے اہل ہوںان کو بلا امتیازکسی رشوت یا سفارش اورگارنٹی کے بغیر وسائل مہیا کئے جائیں اس سے نہ صرف معاشرہ میں مثبت تبدیلی آئیگی بلکہ روزگارکے مواقع بھی بڑھیں گے ۔ کیونکہ اکثر غریبوں کو قرضے لینے کیلئے کوئی گارنٹر ہی میسر نہیں آتا جس کی وجہ سے وہ کسی بھی حکومتی سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے عام آدمی کی حالت ِ زار بہتر بنانے کیلئے یہ پروگرام مرحلہ وار بھی شروع کیا جا سکتاہے جن شہروں میں غربت کی شرح زیادہ ہے وہاں ترجیحی بنیادوںپر ایسی سکیمیں جاری کی جا سکتی ہیںسب سے اہم بات یہ ہوگی کہ صرف حقدار وںکو ان کا حق ملے گا یہ بات بھی ریکارڈپرہے کہ غریبوںکو ملنے والے قرضوںکی واپسی کی شرح قریباً90 فیصدتک ہے۔
(……جاری ہے)

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *