یہ امر قابل ذکر ہے کہ بھارت میں خالصتان تحریک محض علیحدہ وطن کے قیام کا مطالبہ نہیں، بلکہ سکھ برادری کی تاریخی شکایات، مذہبی شناخت، سیاسی حقوق اور بھارتی ریاست کی پالیسیوں سے جڑا ایک اہم مسئلہ ہے۔ اسی ضمن میں 18 اکتوبر 2026 کو کینیڈا کے ایڈمنٹن میں سکھ فار جسٹس کے زیرِ اہتمام خالصتان ریفرنڈم میں23 ہزار سے زائد ووٹ ڈالے گئے ۔علاوہ ازیں تنظیم نے یکم نومبر سے 20 لاکھ ووٹرز کے اندراج کی مہم کا اعلان کیا ۔ یاد رہے کہ بھارت کے طول و عرض میں 3 کروڑ سے زیادہ سکھ قوم کے افراد بستے ہیںاورایسے میںسکھ قوم کا یہ مطالبہ بالکل جائز ہے کہ وہ سماجی،تاریخی اور مذہبی ہر لحاظ سے الگ قوم ہونے کے مطلوبہ معیار پر پورا اترتے ہیں ۔کیوں کہ اگر محض 90لاکھ اسرائیلوں کو الگ قوم کا درجہ دیا جا سکتا تو3 کروڑسکھوں کوکیوں نہیں دیا جاسکتا۔ اگرچہ نئی دہلی خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے، لیکن سکھوں، مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کے خلاف تشدد، مذہبی امتیاز اور شہری آزادیوں پر قدغنوں کے واقعات اس دعوے پر سنگین سوالات اٹھاتے ہیں اور اس ضمن میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے ان معاملات پر بارہا تشویش ظاہر کی ہے۔اسی تناظر میں بھارت کی ریاستی پالیسیوں کا جائزہ لیتے وقت ضروری ہے کہ تاریخی حقائق، دستاویزی واقعات اور متاثرین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو نظرانداز نہ کیا جائے۔کسے معلوم نہیں کہ خالصتان ایک آزاد سکھ ریاست کے قیام کا تصور ہے، جس کے حامی اسے سکھ قوم کی سیاسی خودمختاری، مذہبی شناخت اور تاریخی حقوق سے جوڑتے ہیں۔ تقسیمِ ہند کے نتیجے میں پنجاب تقسیم ہوا اور سکھ آبادی کا بڑا حصہ بھارتی پنجاب میں رہ گیا۔ آزادی کے بعد سکھ قیادت نے زبان، صوبائی خودمختاری، پانی کی تقسیم اور چندی گڑھ کی حیثیت سمیت مختلف معاملات پر اپنے مطالبات پیش کیے۔ ان تنازعات نے بھارتی مرکز اور پنجاب کی سیاست میں کشیدگی پیدا کی، جبکہ بعض حلقوں میں علیحدہ ریاست کا مطالبہ زور پکڑتا گیا۔ حالانکہ کسی بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ پرامن سیاسی اختلاف اور مسلح تشدد کے درمیان واضح فرق کرے اور قانون کا اطلاق بلاامتیاز یقینی بنائے۔ یاد رہے کہ جون 1984ء میں بھارتی فوج نے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل کمپلیکس میں آپریشن بلیو اسٹار کیا۔ کارروائی کا ہدف جرنیل سنگھ بھنڈراں والے اور ان کے مسلح ساتھی تھے۔ اس فوجی آپریشن میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا اور سکھوں کے مقدس مقام کو شدید نقصان پہنچا اوراس واقعے نے سکھ برادری کے اندر شدید غم و غصے کو جنم دیا۔اسی ضمن میں31 اکتوبر 1984ء کو سابق بھارتی وزیرِاعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد بھارت میں سکھ مخالف خونریز تشدد پھوٹ پڑا۔ دہلی سمیت مختلف علاقوں میں تقریبا 10ہزار سکھوں کو زندہ جلا دیا گیا، ان کے گھروں اور کاروباروں تباہ کیا گیا اور خاندانوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ ان واقعات کے حوالے سے تحقیقات اور احتساب میں ناکامیوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت مسلسل سوالات اٹھائے ہیں۔مبصرین کے بقول یہ سانحہ بھارتی ریاست کے لیے ایک مستقل سوال چھوڑ گیا: جب شہریوں کو مذہبی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا جائے تو ان کے تحفظ اور انصاف کی ضمانت کون دے گا؟ سکھ کش فسادات کے متاثرین کے لیے انصاف میں تاخیر نے ریاستی اداروں کی جواب دہی کے مسئلے کو مزید سنگین بنایا۔ کیوں کہ کسی بھی جمہوری نظام میں سیاسی قتل کے بعد کسی پوری مذہبی برادری کو نشانہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کو درپیش مسائل بھی انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین تشویش کا باعث ہیں۔ مختلف بین الاقوامی تنظیموں نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر، ہجومی تشدد، امتیازی سلوک اور بعض علاقوں میں گھروں کو مسمار کرنے کی کارروائیوں پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹس میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتی برادریوں کے خلاف بھارت کے امتیازی اقدامات اور حکومتی ناقدین کے خلاف کارروائیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔معاشی ماہرین کے بقول جب کسی شہری کی مذہبی شناخت اس کے خلاف نفرت یا تشدد کا سبب بنے تو یہ محض سماجی تنازع نہیں رہتا بلکہ قانون کی حکمرانی کا امتحان بن جاتا ہے۔ کیوں کہ کسی جرم کا الزام ثابت ہونے سے پہلے سزا دینا، قانونی طریق کار کو نظرانداز کرنا یا اجتماعی طور پر کسی برادری کو مشتبہ قرار دینا بنیادی شہری حقوق سے متصادم ہے۔اسی ضمن پاکستان کا مؤقف پہلے ہی واضح، ٹھوس اور دوٹوک ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کو کسی نئی وضاحت یا مطالبے کی ضرورت نہیں۔ اصل توجہ بھارت میں پیش آنے والے دستاویزی واقعات، ان کے ذمہ داروں کے احتساب اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی پر مرکوز رہنی چاہیے۔بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کے معاملات صرف داخلی سیاست تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ انسانی حقوق کے عالمی اصولوں، مذہبی آزادی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ مستند تحقیقات اور معتبر انسانی حقوق کی رپورٹس کی روشنی میں ایسے واقعات کا جائزہ لے اور جہاں خلاف ورزی ثابت ہو وہاں مؤثر احتساب کی حمایت کرے۔صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ بھارت کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کس حد تک کر سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کس حد تک کرتا ہے۔کیو ں کہ سکھ مخالف قتلِ عام، مسلمانوں کے خلاف تشدد اور عیسائیوں کی مذہبی آزادی سے متعلق شکایات الگ الگ تاریخی اور قانونی پس منظر رکھتی ہیں، لیکن ان سب میں ایک بنیادی اصول مشترک ہے: ریاست کسی بھی شہری کے حقوق کو اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر محدود نہیں کر سکتی۔خالصتان تحریک کے تاریخی اسباب، اقلیتوں کے تحفظ اور بھارتی ریاست کے کردار پر سنجیدہ بحث سے فرار اختیار کرنے کے بجائے نئی دہلی کو شفاف تحقیقات، غیر جانب دار احتساب اور مساوی شہری حقوق کو یقینی بنانا ہوگا۔جمہوریت کا حقیقی معیار حکومتی دعوے نہیں بلکہ عملی اقدامات ہوتے ہیں۔ جب تک اقلیتوں کے خلاف جرائم کے متاثرین کو انصاف اور شہریوں کو بلاامتیاز تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا، بھارت کے جمہوری دعوے عالمی سطح پر سوالات کی زد میں رہیں گے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں