پاکستان کی گلیوں، محلوں اور بازاروں میں جائیں تو ایک الگ ہی حقیقت سامنے آتی ہے۔ عوام کی زندگیوں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی بے روزگاری، عدم تحفظ، دہشت گردی، اداروں پر عدم اعتماد افراتفری ، خوف اور مستقبل کے حوالے سے شدید بے یقینی دکھائی دیتی ہے معیشت کے اعداد و شمار کا جائزہ لیں یا سرمایہ کاری اور صنعتوں کی بات کریں تو نہ ہونے کے برابر ہے مگر سرکار کے نعرے اور دعوئے اور ساری باتیں پرانی ہیں جب ٹیلی وژن اسکرین روشن ہوتی ہیں یا اخبارات کے صفحات کھلتے ہیں تو ایک بالکل مختلف تصویر دکھائی جاتی ہے ہر طرف ترقی، استحکام اور کامیابی کے قصیدے سنائے جاتے ہیں۔ گویا راوی A سے Z تک سب چین لکھ رہا ہوتا ہے یہی تضاد دراصل اس سوال کو جنم دیتا ہے جو کسی بھی زندہ جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔جمہوری نظام میں میڈیا کا بنیادی کردار محض خبریں دینا نہیں بلکہ حکمرانوں، پالیسی سازوں سے سوال کرنا ہے۔ مغربی جمہوری نظاموں میں اسی اصول کو ریاست کی طاقت سمجھا جاتا ہے کمزوری نہیں۔ برطانیہ میں بی بی سی اور آزاد اخبارات نے عراق جنگ جیسے حساس معاملے پر وزیرِاعظم ٹونی بلیئر کو سخت عوامی اور پارلیمانی دباؤ کا سامنا کرنے پر مجبور کیا عراق کے خلاف جنگ اور کیمیائی ہتھیاروں کا جواز بھانڈا اور ڈھونگ قرار دیا امریکہ میں واٹرگیٹ اسکینڈل کی مثال آج بھی دی جاتی ہے جہاں آزاد صحافت نے ایک طاقتور صدر کو استعفیٰ دینے پر مجبور کر دیا۔ فرانس اور جرمنی میں میڈیا نہ صرف حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے بلکہ عسکری، عدالتی اور معاشی اداروں کے کردار پر بھی کھلے عام بحث ہوتی ہے اور اسے جمہوریت کے خلاف سازش نہیں سمجھا جاتا۔یہ کوئی پتھر کا زمانہ نہیں ہے دنیا بہت آگے نکل چکی ہے آج کے دور میں ریاستیں بند کمروں میں بیانیے نہیں بناتیں بلکہ کھلے مباحثوں، تنقیدی تجزیوں اور شفاف اطلاعات کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کرتی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہم بھی سیکھیں اور یہ حقیقت تسلیم کریں کہ سوال سے گھبرانا ایک کمزور اور بوکھلائے ہوئے نظام کی علامت ہوتا ہے۔ طاقتور نظام وہی ہوتا ہے جو تنقید برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔بدقسمتی سے پاکستان میں میڈیا کا کردار دن بدن محدود کیا جا رہا ہے۔ یہاں سوال اٹھانا ہضم نہیں ہو رہا اختلافِ رائے کو فورا غداری، انتشار یا منفی بیانیہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا کا بڑا حصہ یا تو خاموش ہے یا پھر سرکاری بیانات کو ہی خبر بنا کر پیش کر رہا ہے۔ اس ماحول میں ریاست کے لیے کوئی مضبوط اور قابلِ اعتماد قومی بیانیہ تشکیل نہیں پا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے ساتھ جنگی محاذ پر شاندار کامیابی خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنا، اور بیک وقت واشنگٹن، ریاض، بیجنگ اور تہران کے ساتھ پاکستان کی سفارت کاری میں توازن قائم رکھنا کوئی معمولی بات نہیں۔ بین الاقوامی سیاست میں ایسی متوازن سفارت کاری کو بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح معاشی محاذ پر کچھ سخت مگر ضروری فیصلے ادارہ جاتی نظم و ضبط اور ریاستی رِٹ کی بحالی جیسے اقدامات بھی قابلِ توجہ ہیں لیکن ہم اس کامیابی پر قوم کے اتحاد کو معیشت کو ٹھیک کرنے اور سیکورٹی ایشوز پر قومی ہم آہنگی پیدا کرنے اور سیاسی طور پر عدم استحکام پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔مغربی جمہوری ممالک میں ایسی کامیابیوں پر آزاد میڈیا تفصیلی تجزیے کرتا ہے عوام کی ذہن سازی کرتا ہے فوائد اور نقصانات دونوں کو سامنے لاتا ہے اور قوم کو بالغ نظری کے ساتھ آگاہ کرتا ہے۔ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ جب سیاسی تقسیم حد سے بڑھ جائے، اداروں پر اعتماد مجروح ہو اور میڈیا دبا کا شکار ہو تو اچھے کام بھی محض سرکاری فائلوں اور پریس ریلیز تک محدود رہ جاتے ہیں۔ کوئی مضبوط قومی بیانیہ تشکیل نہیں پاتا۔ عوام ناراض ہوں تو محض سرکاری سطح پر کام کرنے سے اعتماد بحال نہیں ہوتا اعتماد تب بنتا ہے جب آزاد میڈیا، سول سوسائٹی، نجی ذرائع ابلاغ اور نوجوان نسل سوشل میڈیا پر حقائق کی بنیاد پر کھل کر بات کریں۔مغربی جمہوری معاشروں میں نوجوان سوشل میڈیا پر حکومتوں کیخلاف بھی بولتے ہیں اور اچھی پالیسیوں کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ وہاں ریاست اس آواز کو دبانے کے بجائے اسے پالیسی سازی میں شامل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہی رویہ قوموں کو مضبوط بناتا ہے۔ ہمارے ہاں اگر نوجوان صرف تنقید کریں اور تعریف کرنے سے گریز کریں یا تعریف کو فوراً سرکاری ایجنڈا سمجھ لیا جائے، تو معاشرہ مزید تقسیم کا شکار ہو جاتا ہے۔جمہوری نظام میں میڈیا کی اصل طاقت توازن میں ہوتی ہے۔ نہ اندھی مخالفت، نہ اندھی حمایت۔ سوال بھی، احتساب بھی، اور جہاں کارکردگی ہو وہاں اعتراف بھی۔ جب میڈیا آزاد ہو کر یہ کردار ادا کرتا ہے تو ریاست مضبوط ہوتی ہے اداروں پر اعتماد بحال ہوتا ہے اور قوم کو ایک سمت ملتی ہے۔ لیکن جب سوال دبائے جائیں، مباحثے محدود کر دیئے جائیں اور تعریف کو محض سرکاری تشہیر بنا دیا جائے تو جمہوریت ایک کھوکھلا خول بن کر رہ جاتی ہے۔آج پاکستان کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ آزاد، ذمہ دار اور باخبر میڈیا ہے ایسا میڈیا جو حکمرانوں سے سوال بھی کرے، اداروں کی خامیوں کی نشاندہی بھی کرے اور قومی مفاد میں ہونے والے اچھے کاموں کو دیانت داری سے اجاگر بھی کرے۔ یہی جمہوری نظام کی روح ہے اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر ہم اس دور کی حقیقتوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ پتھر کا زمانہ نہیں یہ سیکھنے، ماننے اور آگے بڑھنے کا زمانہ ہے۔آج سوال کریں تو عمران نڈو، یوتھیا فتنہ باز، ملک دشمن، غدار اور سیکورٹی رسک قرار دیا جاتا ہے کیا یہ سوال نہیں پوچھا جانا چاہیئے ہم سب پاکستانی ہیں تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے حال کا جائزہ لیں اور مستقبل کی پیش بندی کریں۔ عدلیہ پارلیمنٹ آئین قانون ادارے میڈیا سب ریاست کی اکائیاں ہیں ان کی بقا عوام اور قوم کی مدد اور سپورٹ سے جڑی ہوئی ہے۔

