بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 27.7°C
Thursday, 18 June 2026 | پاکستان: 3 محرم 1448

اعداد و شمار سے آگے، عوام کہاں ہے؟

Monday, 15 June, 2026

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کیلئے 18 ہزار 771 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں بجٹ دستاویز پیش ہوتے ہی حسبِ روایت حکومتی دعوے ، معاشی اہداف، محصولات کے تخمینے، ترقی کے اعلانات اور سیاسی ردِعمل سامنے آ گئے ہیں۔ حکومت اسے معاشی استحکام اور ترقی کی جانب اہم قدم قرار دے رہی ہے، جبکہ عوام ایک مرتبہ پھر اسی بنیادی سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں کہ کیا اس بجٹ کے نتیجے میں ان کی زندگی میں کوئی حقیقی بہتری آئے گی یا نہیں؟بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو مجموعی حجم کے مقابلے میں قومی وسائل کا ایک بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے۔ تقریبا 42.9 فیصد بجٹ قرضوں کی ادائیگی کی نذر ہو جائے گا، جبکہ دفاع کیلئے تین ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے فنڈز میں اضافہ کیا گیا ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے اور تنخواہ دار طبقے کو ٹیکسوں میں جزوی ریلیف دینے کا اعلان بھی کیا گیا ہے ۔ حکومت کا موقف ہے کہ معاشی استحکام کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں، محصولات میں اضافہ و مالیاتی نظم و ضبط بہتر ہوا ہے اور معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران حکومت کو انتہائی مشکل معاشی حالات، بیرونی ادائیگیوں کے دبا اور عالمی مالیاتی اداروں کی شرائط کا سامنا کرنا پڑا۔ ان حالات میں معاشی نظام کو دیوالیہ پن کے خطرے سے نکالنا یقینا آسان کام نہیں تھا۔عوام کی نظر بجٹ کی ضخیم دستاویزات پر نہیں اپنی روزمرہ زندگی پر ہوتی ہے۔ کسی مزدور، کسان، چھوٹے تاجر، نوجوان گریجویٹ، سرکاری ملازم یا ریٹائرڈ شہری کے لیے یہ سوال زیادہ اہم ہے کہ کیا اس کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق کم ہوگا؟ اشیائے ضروریہ سستی ہوں گی؟ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے؟ علاج اور تعلیم تک رسائی بہتر ہوگی؟ اور کیا اس کی قوتِ خرید میں اضافہ ہوگا؟ یہ وہ سوال ہیں جہاں حکومتی دعوں اور عوامی توقعات کے درمیان فاصلہ نمایاں نظر آتا ہے۔ بجٹ میں تقریبا 650 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔متعدد اشیائے ضروریہ، خدمات اور صارفین کی روزمرہ ضروریات سے متعلق شعبوں پر ٹیکسوں کے بوجھ میں اضافہ متوقع ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے اثرات بالآخر صارفین تک منتقل ہوں گے۔ یہ وجہ ہے کہ عوام کی ایک بڑی تعداد کو فوری ریلیف کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔معاشی استحکام اپنی جگہ اہم ضرورت ہے لیکن اس استحکام کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر معاشی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں تو پھر بازار میں خریداری کی قوت کیوں کمزور ہے؟ اگر محصولات میں اضافہ ہو رہا ہے تو عوامی خدمات کا معیار کیوں بہتر نہیں ہو رہا؟ اگر ترقی کی رفتار تیز ہو رہی ہے تو لاکھوں نوجوان روزگار کیلئے کیوں پریشان ہیں؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب صرف اعداد و شمار نہیں دے سکتے ۔ پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ آج بھی قرضوں پر حد سے زیادہ انحصار ہے۔ ہر سال قومی آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں اور سود کی ادائیگی میں صرف ہو جاتا ہے اور پھر انہی ادائیگیوں کیلئے نئے قرضے لینے پڑتے ہیں۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس سے نکلنے کیلئے وقتی اقدامات نہیں بلکہ طویل المدتی قومی حکمتِ عملی درکار ہے۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے کمزوری نہیں بہتری کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اپوزیشن کی تنقید اور تجاویز کو صرف سیاسی مخالفت سمجھ کر مسترد نہیں کیا جانا چاہیے۔ قومی معیشت کسی جماعت کا نہیں پورے ملک کا مشترکہ معاملہ ہے۔ بجٹ پر پارلیمانی بحث ابھی جاری رہے گی، کٹوتی کی تحریکیں بھی آئیں گی اور مختلف تجاویز بھی سامنے آئیں گی۔ حکومت کیلئے ضروری ہے کہ وہ ان تجاویز کا سنجیدگی سے جائزہ لے اور جہاں عوامی مفاد کا پہلو موجود ہو وہاں مناسب ترامیم سے گریز نہ کرے۔ اچھا بجٹ صرف وہ نہیں ہوتا جو کاغذ پر متوازن نظر آئے بلکہ وہ ہوتا ہے جو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرے۔ ایسا بجٹ جو ٹیکس دہندگان کو یہ احساس دلائے کہ ان کی دی گئی رقم ان کی زندگی بہتر بنانے، تعلیم و صحت کے نظام کو مضبوط کرنے، روزگار پیدا کرنے اور عوامی سہولتوں میں اضافے پر خرچ ہو رہی ہے۔ بجٹ میں صحت اور تعلیم جیسے شعبے اب بھی وہ ترجیح حاصل نہیں کر سکے جس کے وہ مستحق ہیں۔ ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں اور منصوبوں سے نہیں آتی، تعلیم یافتہ، صحت مند اور بااختیار شہریوں سے آتی ہے۔ اگر حکومت واقعی مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھنا چاہتی ہے تو انسانی ترقی کو بجٹ کی اولین ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ بجٹ میں حکومت نے ا معاشی نظم و ضبط اور استحکام کے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کا اعتراف کیا جانا چاہیے، لیکن بجٹ کی اصل کامیابی کا فیصلہ اعداد و شمار نہیں کرینگے۔اس کا فیصلہ وہ کروڑوں پاکستانی کرینگے جو مہینے کے اختتام پر اپنے گھریلو اخراجات پورے کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ اگر بجٹ کے نتیجے میں ان کی آمدنی بڑھی، روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، مہنگائی کا دبا کم ہوا، بچوں کی تعلیم بہتر ہوئی اور انہیں اپنے ملک میں آگے بڑھنے کے حقیقی مواقع ملے تو یہ بجٹ کامیاب کہلائے گا۔ بجٹ پر پارلیمانی بحث کا مرحلہ باقی ہے، حکومت کے پاس موقع موجود ہے کہ وہ تمام مثبت تجاویز کا بغور جائزہ لے اور حتمی بجٹ کو زیادہ عوام دوست بنائے۔ اگر بجٹ کی آخری شکل میں عام آدمی کو حقیقی ریلیف، بہتر مواقع اور معاشی تحفظ نظر آیا تو یہ اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں حقیقی عوامی بجٹ ثابت ہوگا۔ بصورتِ دیگر یہ پھر دعوں، وعدوں اور تخمینوں کی ایسی داستان بن کر رہ جائے گا جس کا عکس عوام کی زندگی میں دکھائی نہیں دے گا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *