بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 26.2°C
Thursday, 18 June 2026 | پاکستان: 3 محرم 1448

افغانستان میں دہشت گرد تنظیمیں موجود

Monday, 15 June, 2026

اقوامِ متحدہ اور عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں اس وقت 20 سے 40 کے درمیان مختلف دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔ یہ گروہ نہ صرف خطے کے استحکام بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔افغانستان میں موجود اہم ترین دہشت گرد تنظیموں میں ایک داعش خراسان ہے جو خطے میں سب سے زیادہ متحرک اور خطرناک تنظیم ہے۔یہ افغان طالبان کی حکومت کیخلاف برسرِ پیکار ہونے کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیائی ممالک اور روس میں بھی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔دوسری تنظیم القاعدہ ہے اس تنظیم کی جڑیں افغانستان میں تاحال موجود ہیں اور افغان سرزمین پر ان کی موجودگی کے شواہد وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں۔تحریک طالبان پاکستان، پاکستان کے خلاف سرگرمِ عمل ہے اور افغان سرزمین کو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ان کے علاوہ وسطی ایشیاء ، چین اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے شدت پسند گروہ بھی افغان سرزمین پر پناہ لیے ہوئے ہیں، جن میں تحریکِ ازبکستان اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ شامل ہیں۔روسی وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر نے وسطی ایشیائی ممالک کے 19ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیااور کہا کہ افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہ بدستور سرگرم ہیں اور ان کے جنگجوؤں کی تعداد 23 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ کمیونیکیشن جیسی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر رہی ہیں، جو خطے خصوصاً ہمسایہ ممالک کی سلامتی کیلیے تشویش کا باعث ہے۔ ان گروہوں کو منشیات کی اسمگلنگ اور غیر قانونی اسلحے کی تجارت سے بھی مالی وسائل حاصل ہو رہے ہیں۔افغان میں موجود دہشتگرد نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ پورے خطے کیلئے بڑا خطرہ ہے۔عالمی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق عالمی برادری کو خطرے کی شدت تسلیم کرنے کیلئے مزید کتنی دہشت گردی اور درکار ہے؟ دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کے واضح ثبوتوں کے باوجود دنیا کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔افغان طالبان سے عبوری تعلقات کے باوجود بعض ممالک کے سکیورٹی ادارے شدید تشویش کا شکار ہیں، افغانستان میں خواتین کو کم بنیادی حقوق دیئے جاتے ہیں۔افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، عالمی برادری کوافغان طالبان کی دہشت گردانہ پالیسیوں کیخلاف زبانی جمع خرچ کے بجائے سخت ترین رویہ اپنانا ہوگا۔اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان حکومت کے زیرِ اقتدار افغانستان ایک بار پھر عالمی دہشتگرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے جو پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کیخلاف سرگرم ہیں۔ طالبان نے دوحہ امن معاہدے کے تحت یقین دہانی کرائی تھی کہ افغان سرزمین دہشتگردی اور سرحد پار حملوں کیلئے استعمال نہیں ہوگی، تاہم حالیہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ القاعدہ اور طالبان کے روابط بدستور قائم ہیں، بلکہ یہ تعلقات پہلے سے زیادہ فعال ہو چکے ہیں۔ رپورٹ میں ایمن الظواہری کی کابل میں ہلاکت کو اس بات کا ثبوت قرار دیا گیا کہ القاعدہ کے نیٹ ورک اب بھی افغانستان میں موجود ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں زابل، وردک، قندھار، پکتیا اور ہلمند کے راستوں سے بلوچستان میں داخل ہوتی ہیں۔طالبان حکومت کی سرپرستی میں فتنہ الخوارج کی سرگرمیاں بھی بڑھ گئی ہیں، جبکہ اس کے سربراہ نور ولی محسود کو ہر ماہ 50 ہزار 500 امریکی ڈالر فراہم کیے جاتے ہیں۔ محسود کے قبضے میں امریکی افواج کے چھوڑے گئے جدید ہتھیار بھی موجود ہیں۔ جعفر ایکسپریس دھماکے اورژوب کنٹونمنٹ حملوں میں افغانستان سے منسلک ناقابلِ تردید شواہد سامنے آئے ہیں۔ افغانستان کے حکام دہشت گرد گروہوں بشمول القاعدہ اور اس کے اتحادیوں کو کھلی چھوٹ دیے ہوئے ہیں، یہ دہشتگرد گروہ وسطی ایشیا اور دیگر ممالک کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں ۔ افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی کا تعلق زیادہ تر عرب نژاد جنگجوؤں سے ہے، یہ جنگجو وہی ہیں جنہوں نے ماضی میں طالبان کے ساتھ مل کر جنگ کی تھی۔ یہ جنگجو افغانستان کے 6 صوبوں غزنی، ہلمند، قندھار، کنڑ، ارزگان اور زابل میں پھیلے ہوئے ہیں، افغانستان میں القاعدہ سے منسلک کئی تربیتی مراکز کی موجودگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، 3 نئے تربیتی مراکز میں القاعدہ اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کو تربیت دی جاتی ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ سال سلامتی کونسل میں پیش کی گئی اقوام متحدہ داعش، القاعدہ اور ٹی ٹی پی سے متعلق جائزہ رپورٹ میں بھی فتنہ الخوارج کالعدم تحریک طالبان پاکستان افغانستان کا سب سے بڑا دہشت گرد گروپ ہے، جسے افغان طالبان اور القاعدہ دہشت گرد نیٹ ورک کے دھڑوں کی جانب سے آپریشنل اور لاجسٹک سپورٹ حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو پیش کی گئی داعش اور القاعدہ/طالبان سے متعلق مانیٹرنگ ٹیم کی 15ویں رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ طالبان کالعدم ٹی ٹی پی کو دہشت گرد گروپ کے طور پر تصور نہیں کرتے، ان کے درمیان قریبی تعلقات ہیں۔لگ بھگ 6 ہزار سے 6 ہزار 500 جنگجوؤں کا اندازہ لگاتے ہوئے رپورٹ میں نوٹ کیا گیا تھا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اب ان دو درجن یا اس سے زیادہ گروپوں میں سب سے بڑا ہے، جنہیں طالبان حکومت کے دور میں آزادی حاصل ہے۔اس رپورٹ سے اسلام آباد کے مؤقف کی تصدیق ہوئی تھی کہ کابل پاکستان کو درپیش دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار نہیں ہے، جسے وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر داخلہ محسن نقوی جیسے حکام نے بار بار دہرایا ہے ۔ طالبان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اگر وہ ٹی ٹی پی پر دباؤ ڈالیں تو یہ گروہ داعش خراسان سے تعاون شروع کر سکتا ہے، جو خود طالبان حکومت کیلئے بڑا خطرہ بن چکا ہے اور افغانستان سمیت پاکستان، ایران اور روس میں خونریز حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ٹی ٹی پی کے ہر نئے حملے سے پاکستان اور طالبان کے درمیان بداعتمادی مزید گہری ہو رہی ہے۔ پاکستان اب تک مذاکرات اور کارروائی کے درمیان جھولتا رہا، مگر اب اس کا خیال ہے کہ ‘بس بہت ہو گیا’ اور یہی سوچ افغان طالبان کے ساتھ تازہ تصادم کا باعث بنی۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *