بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 18.1°C
Tuesday, 13 October 2026 | پاکستان: 4 جمادی الاول 1448

ایس ای سی پی اصلاحات اور نتائج

Wednesday, 14 January, 2026

بظاہر یہ کہنا کسی طور پر غلط نہ ہوگا کہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کی ڈیجیٹل اور انتظامی اصلاحات نے نہ صرف کمپنی رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنایا بلکہ ملکی معیشت میں شفافیت، اعتماد اور پائیدار ترقی کی بنیاد بھی مضبوط کی ہے۔ درحقیقت دنیا تیزی سے ڈیجیٹل اکانومی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے ایسے میں پاکستان کے کارپوریٹ ریگولیٹر کی یہ پیش رفت ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا ہے۔ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کمپنیوں کی رجسٹریشن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سال 2020 کے مقابلے میں کمپنی رجسٹریشن میں 51 فیصد اضافہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اصلاحات محض کاغذی دعووں تک محدود نہیں بلکہ زمینی حقائق میں بھی ان کے مثبت اثرات نظر آ رہے ہیں۔مالی سال 2024-25کے دوران 35 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹر ہونا بلاشبہ حوصلہ افزا ہے یاد رہے کہ گزشتہ برس یہ تعداد 27 ہزار سے کچھ ہی زیادہ تھی، یقینا یہ رجحان اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ حکومتی معاشی پالیساں عملا اپنی افادیت ثابت کررہی ہیں۔ ادھر رواں مالی سال میں جولائی سے دسمبر 2025کے دوران ہی 21ہزار سے زائد کمپنیوں کا اندراج اس امر کا ثبوت ہے کہ کاروباری سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اس میں دوآرا نہیں کہ ملک میں دہشت گردی کے اکا دکا واقعات ہورہے ہیں مگر دوسری طرف ہماری سیکورٹی فورسز پوری قوت سے ان کا مقابلہ کررہی ہیں۔ماہرین کے مطابق اصلاحات کا سب سے اہم پہلو کمپنی رجسٹریشن کے عمل کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن ہے۔ ایس ای سی پی کے مطابق اب 99.9فیصد کمپنیوں کا اندراج مکمل طور پر آن لائن نظام کے ذریعے ہو رہا ہے۔ دراصل یہ غیر معمولی کامیابی ہے، مذکورہ پیشرفت اس تناظر میں خاصی اہم ہوجاتی ہے کہ کہ ماضی میں کاروبار شروع کرنے کیلئے مختلف دفاتر کے چکر لگانا، فائلوں کا انتظار کرنا اور غیر ضروری تاخیر ایک معمول کی بات سمجھی جاتی تھی،درحقیقت ڈیجیٹل نظام نے نہ صرف وقت اور لاگت میں نمایاں کمی کی بلکہ بدعنوانی کے امکانات کی شرح بھی گرائی ہے ۔ ایک نمایاں پیش رفت یہ ہوئی کہ حکومت کے و ن ونڈو نظام کے انضمام کے بعد کمپنیوں کو اندراج کا سرٹیفکیٹ جاری کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں کاروبار شروع کرنے کا عمل پہلے سے کہیں زیادہ آسان اور تیز ہو چکا۔ دراصل اب ایک سرمایہ کار یا کاروباری شخص کو مختلف اداروں کے درمیان بھاگ دوڑ نہیں کرنا پڑتی اس کے برعکس ایک ہی پلیٹ فارم سے تمام ضروری مراحل مکمل ہو جاتے ہیں۔ ۔ کاروبار شروع کرنے اور چلانے کے اخراجات کم ہونے سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے برنس مین کو فائدہ پہنچا ہے، جو کسی بھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ یوں کم لاگت اور آسان طریقہ کار نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا جس کا براہ راست اثر نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ایس ای سی پی کے اقدامات کو قومی سطح پر ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی پذیرائی ملی ہے۔ قومی ریگولیٹری اصلاحات کے اجرا کے موقع پر وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے ایس ای سی پی کو ریفارمز چمپئن قرار دینا اس بات کا اعتراف ہے کہ ادارہ حکومتی وژن کے مطابق کاروباری ماحول کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیرِ اعظم کی جانب سے ادارے کے کردار کی تعریف اس اعتماد کی عکاس ہے جو حکومت کو ایس ای سی پی کی کارکردگی پر حاصل ہے۔بین الاقوامی سطح پر ورلڈ بینک کی بزنس ریڈی 2024رپورٹ میں پاکستان کو کاروبار کے آغاز کے اشاریے میں 50 ممالک میں چھٹا نمبر ملنا ایک بڑی کامیابی ہے۔ یہ درجہ بندی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں کاروبار شروع کرنے کا ماحول خطے اور دنیا کے کئی ممالک کے مقابلے میں بہتر ہو رہا ہے۔ اسی طرح انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے سروے میں ایس ای سی پی کو گورنمنٹ ٹو بزنس ڈیجیٹل سروسز اور آئی ٹی تیاری کے حوالے سے65وفاقی ریگولیٹری اداروں میں سرفہرست قرار دیا جانا ادارے کی تکنیکی صلاحیت اور وژن کی عکاسی کرتا ہے۔دراصل شفافیت اور کارپوریٹ گورننس کو مضبوط بنانا بھی ان اصلاحات کا اہم ستون ہے ۔ اس اقدام سے نہ صرف سرمایہ کاروں کو درست اور قابلِ اعتماد معلومات میسر آتی ہیں بلکہ کمپنیوں کی جواب دہی بھی بڑھتی ہے۔ ایک شفاف نظام ہی کسی بھی معیشت میں پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکتا ہے۔اس تناظر میں اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے فریم ورک کو مضبوط کیا گیا ہے۔ کارپوریٹ الٹی میٹ بینیفیشل اونر رجسٹری کا قیام ایک اہم پیشرفت ہے جس کے ذریعے کمپنیوں کے اصل مالکان کی نشاندہی ممکن ہو گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایف اے ٹی ایف معیارات کے مطابق رسک بیسڈ نگرانی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے، جو پاکستان کے عالمی تشخص کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایس ای سی پی کی اصلاحات محض ادارہ جاتی بہتری تک محدود نہیں بلکہ ان کے اثرات قومی معیشت پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ کاروبار میں آسانی، شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ریگولیٹری نظام سرمایہ کاری کے فروغ ، روزگار کے مواقع اور معاشی استحکام کیلئے ناگزیر ہیں ۔ ماہرین کے مطابق یہی اصلاحاتی سفر اسی تسلسل اور سنجیدگی سے جاری رہا تو بعید نہیں کہ پاکستان آنیوالے برسوں میں خطے میں ایک مضبوط اور پرکشش کاروباری مرکز کے طور پر ابھرے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *