کالم

دنیا میں بھارتی شیئر کی گراوٹ

ایران جنگ کے باعث ملک اور دنیا بھر کے شیئر بازاروں میں گراوٹ دیکھنے کو مل رہی ہے۔ بھارت میں صرف چار دنوں کے اندر 1.75 لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ ریلائنس اور ایچ ڈی ایف سی بینک کو سب سے زیادہ خسارہ اٹھانا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ عالمی شہرت یافتہ صنعتکار مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز اور ایچ ڈی ایف سی بینک جیسے بڑی کمپنیوں کو سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ خلیج میں جنگی صورتحال کے بھارتی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کار بھارتی بانڈز اور اسٹاک مارکیٹ سے ریکارڈ رفتار سے سرمایہ نکال رہے ہیں۔ خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک سرمایہ کار بھارت سے مجموعی طور پر 12.14 ارب ڈالر کا سرمایہ واپس نکال چکے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خلیجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بھارت میں مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔ جنگ شروع ہونے کے بعد سے بھارتی روپیہ تقریباً 4.2 فیصد تک کمزور ہو چکا ہے۔نااہل مودی سرکار کی ناقص معاشی و سفارتی پالیسیوں نے بھارت کو پیٹرول، گیس اور معاشی بحرانوں میں دھکیل دیا۔عالمی خبر رساں ادارہ ”رائٹرز” نے یہود و ہنود گٹھ جوڑ کے بھارتی معیشت پر گہرے منفی اثرات عیاں کر دیے۔ غیر ملکی سرمایہ کار بھارتی بانڈز اور حصص سے ریکارڈ رفتار کے ساتھ سرمایہ نکال رہے ہیں۔ ایران جنگ کے آغاز سے اب تک غیر ملکی سرمایہ کار بھارت سے تاریخی 12.14 ارب ڈالر سرمایہ نکال چکے ہیں۔ ایران کی جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بھارت میں مہنگائی میں مزید اضافہ متوقع ہے، حالیہ کشیدہ صورتحال نے بھارت کی معاشی ترقی کے امکانات کو شدید متاثر کیا جبکہ بھارتی روپیہ شدید دباؤ کا شکار ہے۔مشرق وسطیٰ میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک بھارتی روپیہ تقریباً 4.2 فیصد گر چکا ہے۔ماہرین کے مطابق مودی کی ناکام اور دوغلی پالیسیوں کے باعث بھارت اب غیرملکی سرمایہ کاری کیلئے ایک ”رسکی” مارکیٹ بن چکا ہے۔ بھارت کے تیزی سے زوال پذیر ہوتے معاشی اشاروں نے نااہل مودی کے بھارتی معاشی ترقی کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے ۔ بھارت کی جارحانہ سفارتی اور عسکری پالیسیوں کے مہنگے اثرات اب معیشت پر نمایاں ہونے لگے ۔ مالی سال 2024ا۔25 کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں غیر ملکی سرمایہ کاری تقریبا 96.5 فیصد تک کم ہوگئی ہے، جو عالمی سرمایہ کاروں کے گرتے ہوئے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ گزشتہ برس بھارت کو 10 بلین ڈالرز تک کی غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل ہوئی تھی، جب کہ رواں مالی سال کے دوران یہ رقم محض 353 ملین ڈالرز تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ کمی صرف ایک عددی گراوٹ نہیں، بلکہ بھارت کی عالمی پالیسیوں پر عدم اعتماد کی عکاسی بھی کرتی ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی جارحیت ، ہمسایہ ممالک کے ساتھ بڑھتی کشیدگی، اور سفارتی تنازعات نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سخت تحفظات میں مبتلا کر دیا ہے ۔ نتیجتاً وہ بھارت میں سرمایہ لگانے کے بجائے دیگر نسبتاً مستحکم اور پرامن مارکیٹس کی جانب منتقل ہو رہے ہیں۔اس سرمایہ کاری کے بحران کے براہ راست اثرات بھارتی معیشت پر بھی پڑنا شروع ہوچکے ہیں۔ بھارتی روپیہ دبائو کا شکار ہے جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی بتدریج کمی دیکھی جا رہی ہے۔ معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو بھارت کو جلد ہی سنگین مالی بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔دوسری جانب، مودی سرکار کی پالیسیوں کو اپوزیشن اور معاشی تجزیہ کار شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ حقیقت ہے کہ بھارت میں جاری سیاسی کشیدگی اور خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی تناؤ نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں مالی سال 2024۔25 کے دوران غیر ملکی سرمایہ کاری میں تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق یہ کمی محض ایک وقتی رجحان نہیں بلکہ بھارت کی جارحانہ خارجہ پالیسی، خطے میں کشیدگی اور غیر یقینی سیاسی ماحول کا نتیجہ ہے۔سرمایہ کار عمومی طور پر استحکام، شفاف قوانین اور پرامن سفارتی رویے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ بھارت کی حالیہ پالیسیاں ان تمام اصولوں کے برخلاف سمجھی جا رہی ہیں ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ”ملک کو عسکری بیانیے کے بجائے اقتصادی استحکام کی ضرورت ہے جبکہ موجودہ حکومت نے سفارتی محاذ پر غیرضروری محاذ آرائی کو ترجیح دی ہے۔غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بھارت سے پیچھے ہٹنا نہ صرف داخلی معاشی دباؤ کی علامت ہے بلکہ عالمی برادری کیلئے ایک اشارہ بھی ہے کہ خطے میں سیاسی اور دفاعی توازن برقرار رکھنا کتنا اہم ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے