ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، سیز فائر تو ہوچکا ہے لیکن اس کے بعد کیا ہو گا؟ مڈل ایسٹ کی صورتحال اب کیا رخ اختیار کرے گی؟ اس منظر نامے سے دنیا نے کیا سیکھا اور ایران اور امریکہ کے علاوہ دنیا کے دیگر ممالک اب کیا طریقہ اختیار کریں کہ دنیا کو استحکام کے ساتھ امن بھی نصیب ہو سکے؟ پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے اگرچہ علامہ اقبال نے بر صغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک نئی مملکت کا خواب دیکھا تھا لیکن اس کیساتھ ایک اور خواب بھی دیکھا تھا کہ اگر ایران عالم مشرق کا جنیوا بن جائے تو شاید کرۂ عرض کی تقدیر بدل جائے ۔اقوام متحدہ اور لیگ آف نیشن سے پہلے تمام جنگوں اور بین الاقوامی جھگڑوں کو نبٹانے کے اصول اور ضابطے جنیوا جیسے شہر میں طے ہوتے تھے لیکن یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ”جنیوا” میں ایسی کونسی بات تھی جس نے اسے دنیا کا ایک مرکز بنا دیا؟ کیا جنیوا کے پاس کوئی طاقتور اور بڑی فوج تھی؟ کیا اس نے نیٹو کو جنم دیا؟ تو پھر دنیا کے نقشے پر یہ ایک مشہور اور با اثر ملک کیسے بنا؟ اس کا جواب زیادہ مشکل نہیںہے۔ ڈاکٹر ایم عظیم پولیٹکل سائنس اور ڈاکٹر ابراہیم ظہور کی تاریخ پر گہری نظر ہے ۔ دونوں نے لوکل میڈیا اس پر میں خوبصورت بحث کی ہے۔ ان کے تجزیے کے مطابق دنیا میں ایک مہذب معاشرے کے قیام کیلئے جنیوا کے لوگ قوانین کی بنیاد پر ہی ایک انٹرنیشنل آرڈر کا قیام چاہتے تھے۔دنیا کے بڑے بڑے اداروں کا قیام بھی جنیوا شہر کا ہی مرہون منت ہے۔ہر قسم کی سفارتکاری ، گلوبل پیس اور بڑے بڑے اداروں نے یہیں جنم لیا اور جنیوا دنیا بھر میں ڈپلومیسی کا سمبل بن گیا۔آئیںذرا دیکھتے ہیں کہ ریڈ کراس کی تحریک کیسے شروع ہوئی؟ 18ویں صدری کے شروع میں جب ہر قسم کی جنگ و جد ل جاری تھی تو کچھ لوگ اس نظریے کیخلاف تھے کہ جنگوں میں ہر قسم کے ظلم و ستم کو روا رکھا جائے اور روشن خیالی کے دور کے تحت ان مقاصد کو حاصل کرنے کیلئے 1860 میں صرف ریڈ کراس کی پہلی تحریک شروع کی گئی تو ہینری ڈونیٹ جس نے 1859 سوفیرنو جنگ میں قتل و غارت اور انسانی جانوں کا ضیاع اور نوح انسانی کو تکالیف میں دیکھا اور انہی کی کوششوں کے نتیجے میں 1863 میں انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی وجود میں آئی۔ ریڈ کراس سوسائٹی نے دنیا بھر میں جنگ زدہ ماحول میں زخمیوں کو ریلیف دیا اور ICRSنے 1864 کی ایک ڈپلومیٹک کانفرنس کی بنیادپر ہی جنیوا کنونشن جیسا ادارہ قائم ہوا اور 3سال کے اندر اندر نہ صرف یورپ بلکہ دیگر ممالک نے بھی اس کنونشن کی توثیق کر دی۔ 1906 میں اس میں ترمیم کے بعد 1907 میں اسے بحری فوجوں پر بھی اس قانون کو لاگو کر دیا اور 1929 کے کنونشن کی بنیاد پر متحارب ملکوں کیلئے یہ امر لازمی کر دیا گیا کہ وہ جنگی قیدیوں کے علاج اور انکی زندگی کے بارے میں بنیادی انفارمیشن اور غیر جانبدار ملکوں کے نمائندوں پر مشتمل ، جنگی قیدیوں کے کیمپوں کے معائنے کی اجازت کو ایک بنیاد ی شرط کے طور پر تسلیم کریں۔ جنگ عظیم دوم کے دوران سابقہ کنونشنز کے اصولوں کی خلاف ورزی کے بعد 1948 میں سٹاک ہوم میں ریڈ کراس کی کانفرنس منعقد ہوئی جب اس کے ریگولیشنز کو مزید وسعت دی گئی جس کے نتیجے میں چار بڑے کنونشنز تیار کئے گئے جو 12اگست 1949 کو جنیوا میں منظور کئے گئے۔(1)مسلح افواج میں زخمیوں اور بیماروں کی حالت میں بہتری کا کنونشن ۔ (2)سمندر میں مسلح افواج کے زخمی اور جہازوںکے تباہ ہونیوالے ارکان کی حالت میں بہتری کا کنونشن(3)جنگی قیدیوں کیساتھ بہتر سلوک کا کنونشن (4) ۔ جنگ کے دوران شہری افراد کے تحفظ سے متعلق کنونشن۔ ICRC نے ان کنونشنوں کو تیار کرنے میں مدد دی اور سول اور فوجی حکومتوں کو بھی اسے قبول کرنے پر آمادہ کیا ۔بر سبیل ِ تذکرہ اگرچہ جنیوا کنونش کا قیام اور نفاذ بیسویں صدی کا کارنامہ ہے لیکن ان کنونشنوں اور ضابطوں کو بہتر بنانے کی بنیاد کہاں سے ملی؟ یقینا 14سو سال پہلے چھٹی صدی عیسوی میں دین اسلام نے یہ باتیں ثابت کر دی تھیں اور جنگ اور امن کے اصول دنیا کو بتا دیئے تھے۔ فتح مکہ کے بعد اللہ کے نبی ۖ کے یہ الفاظ تاریخ میں ہمیشہ سنہری الفاظ میں زندہ رہیں گے جب اللہ کے نبی ۖ نے فرمایا تھا ”لا تصریب علیکو ملیوم” آج کے دن آ پ سے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔ انسانوں اور قیدیوں کو گھوڑوں کے پائوں کے نیچے روندنا تو دور کی بات ہے ، انسانوں پر ہر قسم کے ظلم و ستم اور قتل غارت کو چھوڑ کر ، درختوں کو بھی پامال کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اب آتے ہیں ایک حوصلہ افزا ء بات کی طرف اور وہ ہے اسلام آباد کی سفارتکاری اور ڈپلومیسی کے اقدامات ۔ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح امن مذاکرات کی میزبانی کے نتیجے میں پاکستان کا دارالحکومت ایک میڈی ایشن، سفارتکاری اور بات چیت کا اہم مرکز بنتا جارہا ہے۔ یہ ہمارے راہنمائوں اور سفارتکاروں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔ 47سال کے بعد مخالف فریقوں کو ایک ہی میز پر بٹھانا کوئی چھوٹی موٹی کامیابی نہیںہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کئی ممالک نے اس طرح کی کوششیں کی ہیں، لیکن وہ ناکام رہے۔ یقینا اسلام آباد بھی بتدریج لیکن یقینی طور پر مشرق کا جنیوا بن رہا ہے۔ امید ہے کہ اسلام آباد اور تہران عالمی امن کے فروغ کیلئے جڑواں شہر بن جائیں گے۔ پاکستان نے خود کو ایک امن پسند ملک ثابت کیا، اس نے جنگ کو روکنے کی کوشش کی اور اب پاکستان اسلام آباد کی سفارتکاری کا عالمی مرکز بنانے کیلئے ایک اہم اقدامات کر رہا ہے ، یہ سب ہمارے لئے فخر کا مقام ہے۔ انشا اللہ امید ہے کہ پاکستان ہمیشہ عالمی امن کا مینار بن کر رہے گا۔ آج ہم دنیا جہاں کے جھگڑوں کی ثالثی کررہے ہیں۔ نبی ۖ پرجان دینے کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں لیکن نبی ۖ کے فرمان پر عمل نہیں کرتے ۔ آج ہر گھر ، خاندان ، گائوں اور شہروں میں ہمارے آپس کے جھگڑے ختم ہی نہیں ہوتے۔ اگر ہم دنیا کے جھگڑوں کی ثالثی کر سکتے ہیں تو باہمی گفتگو اور مذاکرات سے اپنے مسائل بھی حل کر سکتے ہیں۔ اس لئے ہمیں آخری نبی کے اس فرمان پر بھی عمل کرنا چاہئے کہ دو مسلمان بھائیوں کے درمیان ثالثی اور صلح کرانا درجات کے لحاظ سے ایک اہم اور عمدہ فعل ہے۔

