بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Saturday, 13 June 2026 | پاکستان: 28 ذوالحجۃ 1447

قرضوں کے سائے میں سسکتی عوام آخر کب تک؟

Wednesday, 13 May, 2026

ہم ٹھہرے ہوئے ہیں عالمی ثالث، ایٹمی قوت، بڑی بڑی کانفرنسوں کے میزبانی کرنے والے ایک ایسے ملک کے باسی، جس کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ نظامِ حکومت چلانے کے لیے بھی دستِ سوال دراز کرنا پڑتا ہے۔معاملات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے قرض لیا جاتا ہے، وہ بھی عالمی مالیاتی ادارے IMF سے، اور پھر اس کی شرائط کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے قوم پر مہنگائی کے نئے نئے طوفان مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ جب بھی IMF سے قرضے کی قسط منظور ہوتی ہے تو ایوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے، لیکن غریب عوام کے گھروں میں اس اعلان کے ساتھ ہی ایک نیا خوف جنم لیتا ہے۔ کیونکہ عوام جانتے ہیں کہ اب پٹرول مہنگا ہوگا، بجلی مزید مہنگی ہوگی، گیس کے نرخ بڑھیں گے، اور روزمرہ استعمال کی ہر چیز عوام کی پہنچ سے مزید دور ہو جائے گی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں بجلی موجود تو ہے، لیکن آتی نہیں۔ مگر اس کے باوجود بل باقاعدگی سے وصول کیے جاتے ہیں۔سوئی گیس کے چولہے اکثر ٹھنڈے رہتے ہیں، لیکن بل مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ عوام گیس سلنڈروں کے حصول کیلئے دھکے کھاتے ہیں، قطاروں میں کھڑے رہتے ہیں، اور مہنگے داموں سلنڈر خریدنے پر مجبور ہیں۔پینے کا صاف پانی، جو بنیادی انسانی ضرورت ہے، اب کاروبار بن چکا ہے۔ لوگ خالی بوتلیں اٹھائے پانی کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں، جبکہ منرل واٹر کمپنیوں نے قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا ہے۔گھر پہنچتے ہی جب راشن کے خالی ڈبے نظر آتے ہیں تو انسان کے قدم ڈگمگا جاتے ہیں۔فاقہ کشی اب صرف کتابوں کا لفظ نہیں رہی بلکہ لاکھوں خاندانوں کی حقیقت بن چکی ہے۔ان حالات میں جب انسان اپنے معصوم بچوں کے چہروں کی طرف دیکھتا ہے تو دل پر جو گزرتی ہے، اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔بچے دودھ، تعلیم، علاج اور بنیادی سہولیات سے محروم ہوتے جا رہے ہیں، جبکہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ شاید اس درد کو کبھی محسوس ہی نہیں کر سکتے۔اقتدار کے محلات کی اونچی اونچی دیواروں کے پیچھے رہنے والوں تک نہ عوام کی آہ پہنچتی ہے، نہ خالی برتنوں کی آواز، نہ بچوں کی بھوک، اور نہ ہی بے روزگاری کی اذیت۔روزگار کے دروازے بند ہوتے جا رہے ہیں۔کارخانے خاموش ہیں، مارکیٹیں بے رونق ہیں، اور نوجوان نسل مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دی گئی ہے۔ اسی لیے آج ملک کا نوجوان اپنے خوابوں کیساتھ بیرونِ ملک اڑان بھرنے پر مجبور ہے۔کوئی یورپ کی طرف دیکھ رہا ہے، کوئی امریکہ، کوئی خلیجی ممالک، اور کوئی غیر قانونی راستوں کے ذریعے زندگی بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ ہجرت صرف بہتر مستقبل کی تلاش نہیں بلکہ اپنے ہی وطن میں ناامیدی کے خلاف ایک خاموش احتجاج بھی ہے۔ دوسری جانب معاشرے میں خوفناک رجحانات جنم لے رہے ہیں۔غربت، بے روزگاری اور ذہنی دباؤ نے لوگوں کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔کئی والدین غربت سے تنگ آ کر اپنے ہی بچوں کو قتل کرنے جیسے المناک اقدامات تک پہنچ چکے ہیں۔یہ صرف انفرادی سانحات نہیں بلکہ ایک بیمار معاشرے کی خطرناک علامات ہیں۔لیکن ان تمام حالات کے باوجود قوم کو بار بار یہی سنایا جاتا ہے کہIMF نے قرضے کی نئی قسط منظور کر دی۔مگر کوئی یہ نہیں بتاتا کہ آخر یہ قرضے کب تک لیے جاتے رہیں گے؟ان کی واپسی کیسے ہوگی؟قرضوں کے سود کا بوجھ آنے والی نسلوں پر کب تک ڈالا جاتا رہے گا؟اور آخر وہ کون سا دن ہوگا جب پاکستان معاشی طور پر خودمختار ہوگا؟یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ ان قرضوں کے بدلے ملک کے کتنے ادارے، کتنے وسائل، اور کتنی قومی خودمختاری گروی رکھی جا چکی ہے؟کیا آنیوالے وقت میں قومی اثاثے بھی فروخت کرنا پڑیں گے؟کیا عوام کی سانسوں تک پر ٹیکس لگا دیا جائے گا؟ویسے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اقتدار کے ایوانوں کے مکینوں کے پاس دولت کے انبار موجود ہیں۔بیرونِ ملک جائیدادیں، محلات، کاروبار اور بے شمار اثاثے ان کے اختیار میں ہیں۔اگر وہ چاہیں تو اپنی دولت کے ان پہاڑوں میں سے چند کنکریاں ہی قوم پر قربان کر دیں تو ملک قرضوں کے اندھیروں سے نکل سکتا ہے۔لیکن اس کیلئے صرف دولت نہیں بلکہ بڑا دل چاہیے۔قربانی چاہیے ۔ احساس چاہیے اور سب سے بڑھ کر عوام کے درد کو اپنا درد سمجھنے والا ضمیر چاہیے ۔ پاکستان وسائل سے مالا مال ملک ہے۔یہاں قابل نوجوان موجود ہیں، زرخیز زمینیں موجود ہیں، معدنیات موجود ہیں، سمندر موجود ہیں، اور بے شمار صلاحیتیں موجود ہیں۔ ضرورت صرف مخلص قیادت، دیانتدار نظام، اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے کی ہے۔اگر آج بھی حالات نہ بدلے گئے تو آنے والا وقت مزید خطرناک ہو سکتا ہے۔بھوک، بے چینی، غربت اور ناامیدی کسی بھی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ انصاف، روزگار، تعلیم اور معاشی استحکام سے مضبوط ہوتی ہیں۔عوام اب سوال کر رہے ہیں۔وہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر کب تک وہ مہنگائی، بے روزگاری اور قرضوں کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے؟کب تک بچوں کے خواب غربت کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے؟اور کب تک حکمران عوامی مسائل کے بجائے صرف اقتدار کی سیاست میں مصروف رہیں گے؟وقت آ چکا ہے کہ ملک کو وقتی اعلانات نہیں بلکہ مستقل معاشی اصلاحات دی جائیں۔عوام کو ریلیف دیا جائے۔روزگار پیدا کیا جائے۔تعلیم اور صحت کو ترجیح دی جائے۔اور سب سے بڑھ کر اس قوم کو امید دی جائے، کیونکہ امید ختم ہو جائے تو معاشرے زندہ نہیں رہتے۔پاکستان آج بھی سنبھل سکتا ہے، اگر نیتیں بدل جائیں۔ورنہ قرضوں کے یہ سائے ایک دن پورے نظام کو نگل سکتے ہیں۔مزید برآں ایسے بھی قابل احترام قومی راہنما کہ جنہیں اپنی اربوں اور کھربوں روپے کی دولت کا علم ہی نہیں اور ان کے سوشل میڈیا مینجر اس قدر با اختیار ہیں کہ وہ اپنے معزز مالکان کے علم میں لائے بغیر ہی وفاقی دارالخلافہ کے ریڈزون میں واقع ایک ترین عمارت کے کئی اپارٹمنٹس خرید لیتے ہیں اور اپنے انتہائی شریف النس مالک کے بنک اکاؤنٹ سے ادائیگی کر دیتے ہیں ایسے واقعات پر ایک نہیں بلکہ ہزاروں مرتبہ سبحان اللہ کہنا چاہیے قبل ازیں اسی محترم شخصیت نے لاہور میں اپنی ملکیتی ہاوسنگ سوسائٹی سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا اور آجکل بدستور اسی سوسائٹی کے نظم و نسق چلا رہے ہیں اور یہ حالات ہیں ہمارے قومی راہنماؤں کے اور اس سلسلے میں کسی نے خوب فرمایا کہ جن پہ تکیہ تھا وہی لوگ ہوا دینے لگے۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں