کالم

قربانی کیلئے حصہ اونٹ یا گائے میں ڈالیں مرغی میں نہیں

کہا جاتا ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمر کے خلاف شکایت کی تو مقدمہ قاضی کے پاس گیا۔جب مقدمہ شروع ہوا تو قاضی نے حضرت عمر سے کہا "اے امیرالمومنین! آپ آگے تشریف رکھیں۔” یہ سن کر حضرت عمر نے فورا فرمایا "یہ تمہاری پہلی ناانصافی ہے۔ عدالت میں مجھے اور میرے مخالف کو برابر کھڑا ہونا چاہیے۔”یعنی خلیفہ ہونے کے باوجود انہوں نے کہا کہ عدالت میں سب برابر ہیں۔ مگر آج کے دور میں جج ماضی کیحکمران کو دیکھ کر کہتے ہیں "گڈ ٹو سی یو "۔انہیں جج صاحب وہ کچھ بھی دیتے رہے جو انہوں نے مانگا نہیں تھا۔ ابھی کالم لکھ ہی رہا تھا کہ بابا کرموں تشریف لے آئے۔ بابا کرموں آج سخت غصے میں تھے۔ بولے۔ تم امریکا میں پڑھ کر آئے ہو کیا امریکا میں سپریم کورٹ الگ اور آئینی عدالت الگ ہے؟ کہا ایسا نہیں ہے امریکا میں ایک ہی وفاقی سپریم کورٹ ڈی سی واشنگٹن میں واقع ہے۔ہر اسٹیٹ کی اپنی سپریم کورٹ ہے۔وفاقی سپریم کورٹ پورے ملک کے آئینی اور بڑے قانونی معاملات کا آخری فیصلہ کرنے والی واحد وفاقی سپریم کورٹ کی عدالت ہے ۔وفاقی سپریم کورٹ میں عام طور پر 9 ججز ہوتے ہیں۔ اگر کسی ریاست کی سپریم کورٹ عدالت کے فیصلے میں امریکی آئین کا مسئلہ ہو تو پھر کیس آخر میں وفاقی سپریم کورٹ میں جاتا ہے۔ بابا کرموں نے کہا پھر ہمارے ہاں آئینی عدالت الگ اور سپریم کورٹ الگ کیوں ہیں جبکہ ہر صوبے کی اپنی سپریم کورٹ ہونی چاہیے تھی ۔ہم سائل کے لیے اسانیاں کیوں نہیں پیدا کرتے۔عدالت عالیہ، عظمی اور کبری کی بلڈنگ اسلام آباد کے ریڈ زون میں بنانے کا کیا جواز تھا جہاں عام سائل کا پہنچنا مشکل ہی نہیں نا ممکن بھی ہے۔ سائل وہ ہیں جو اپنے کیس ان عدالتوں میں دائر کرتے ہیں۔ اگر یہ سائل نہ ہوتے تو یہ بلڈنگ نہ ہوتیں۔ یہ ججز اور وکلا بھی نہ ہوتے۔ یہ سائل ہی ہیں جن کی بدولت یہ عدالتیں چل رہا ہے مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں، عدالت عالیہ، عظمی اور کبری ایسی جگہ پر واقع ہیں جہاں سائل کے پہنچنے کا کوئی انتظام نہیں۔جب کہ ججز کے لیے سپیشل روٹ لگ جاتے ہیں ٹریفک روک دی جاتی ہے۔ وکلا اور سائل جو قریبی ہوٹل سے سپریم کورٹ آیا کرتے تھے وہ سپریم کورٹ کے مین گیٹ کے سامنے یو ٹرن سے پارکنگ میں داخل ہوجاتے تھے مگر اب اس یو ٹرن کو بند کر دیا گیا ہے کہا جاتا ہے کچھ ہفتے قبل ایک بار پھر ججز کے نا بالغ بچوں نے سرکاری گاڑیوں میں اسی یو ٹرن پر ٹکریں ماری جس کی وجہ سے یہ یو ٹرن اب مکمل بند ہے۔اگر ججز اپنی سرکاری گاڑیاں بغیر لائنس والے بچوں کوچلانے سے منع کرتے تو نہ دو خواتین دو مرد حادثے کا شکار ہو کر جہان فانی سے کوچ نہ کرتے اور نہ ہی یہ یو ٹرن بند ہوتا مگر یہ سلسلہ ججز کے بچوں نے جاری رکھا اور مشکلات کا سامنا اب سائل اور وکلا کو کرنا پڑ رہا ہے لگتا یہی ہے بچوں پر ججز کا کوئی کنٹرول نہیں ہے اور ان پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا۔ ججز کی رہائشی گاہیں ریڈ زون کے قریب مفت۔ ہر جج اپنیسیکورٹی کے ہمراہ سائرن بجاتے سرکاری گاڑی میں سپریم کورٹ میں پہنچتا ہے۔انکی کار کا دروازہ ملازم کھولتا ہے کمرہ عدالت کا دروازہ عدالتی اہل کار کھولتا ہے انہیں کورٹ کا گاون بھی یہی پہناتا ہے اور ان کی کرسی کو یہی اہل کار جناح کیپ پہن کر آگے پیچے کرتا ہے، پانی کا گلاس بھی یہی پیش کرتا ہے۔شکر ہے جج صاحب پانی خود پیتے ہیں ورنہ ہم یہی سمجھتے کہ شائد جج صاحب معزور ہیں۔کہا جاتا ہے تنخواہ تیس لاکھ سے زیادہ، رہائشی، بجلی پانی گیس، فون سیکورٹی فری۔انہیں یہ سب کچھ سائل کو انصاف دینے کے لیے دیا جاتا ہے۔ اگر سائل نہ ہوتیتو ججز کو یہ سہولیات نہ ہوتیں۔یہ جج ہی نہ ہوتے یہ وکلا نہ ہوتے ۔ یہ سب ان مظلوم سائلوں کی وجہ سے ہیں جو انصاف کیلیے یہاں ذلیل و خوار ہوتے رہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے ججز کورٹ میں بیٹھنے سے قبل آے آئی کے ماہر نوجوان سائل کے کیس پر انہیں بریف کرتے ہیں اور فیصلہ لکھنے میں مدد کرتے ہیں یہی وجہ ہے جب کیس پکارا جاتا ہے تو ابھی وکیل روسٹرم پر پہنچتا ہی ہے تو جج صاحب کی آواز آتی ہے ڈس مس اور اگلا کیس پکارا جاتا ہے۔ پہلے کیس فوری لگتے ہی نہیں جب لگتے ہیں تو ججز سنتے ہی نہیں۔ اگر یہ ججز وکلا کے کیس کو پہلے دس منٹ سن لیا کریں تو ججز کو انصاف دینے میں آسانی ہو گی لیکن ایسا ججز کرتے نہیں۔ گیارہ بجے واپس جیمبر چلے جاتے ہیں۔ جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ججز چار بجے تک کیس سنا کریں۔ سائل کو عزت دیں۔سائل کی وجہ سے یہ عدالتی نظام قائم ہے۔ لہذا ان کیلیے آسانیاں پیدا کریں۔ اگر سائلین کو عدالتی دہلیز پر انے کیلئے ٹیکسی یا گاڑی کی سہولت نہیں دے سکتے ہو تو ایک سپیشل بس صبح آٹھ بجے آبپارہ سے عدالت عالیہ، اعظمیٰ اور کبری کے لیے ہی چلا دیں، اسی طرح اس بس کی واپسی بارہ اور دو بجے کا وقت رکھا جائے۔ ریڈ زون آئے روز بند رہتا ہیجب کوئی جلوس کا نعرہ لگادے یا کرکٹ کی ٹیم قریبی ہوٹل میں ٹھہر جائے تو عدالتوں کو جانے والے سارے راستے بند،سائل اور وکلا کی مشکلات شروع ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں سائل اور وکلا کی مشکلات کا بھی سوچ لیا کریں۔ان کیلیے اسانیاں پیدا کریں۔ اسلام اباد میں کوئی بندرگاہ نہیں ہے لیکن بے شمار کنٹینروں کو دیکھ کر لگتا یہی ہے کہ اسلام آباد سمندر کے کنارے واقع ہے۔ ان کنٹینروں کو دیکھ کر کچھ کا کہنا ہے رشوت کا بازار گرم ہے۔ کوئی پیسے بنا رہا ہے کنٹینروں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔کوئی ہے جو حساب کرے کہ فی کس کنٹینر کا خرچہ کیا ہے اور لگانے کا لین دین کون کرتا ہے۔ اسلام اباد کی سڑکوں پر پہلے سے لوہے کے گیٹ موجود ہیں پھر بھی کنٹینروں کی ضرورت کیوں کر ہے۔ کیا اس کے پیچھے کرپشن ہے۔ بابا کرموں نے کہا ایران جنگ کی وجہ سے ساری دنیا مشکلات کا شکار ہے۔ پٹرول کا بحران ہے۔ان حالات میں حکومت نے جو فیصلہ کیا ہے اسے مان لیتے ہیں مگر عدالت عظمیٰ اور کبری نے کہا ہے ہم بھی چار دن کام کیا کریں گیاور تین دن چھٹی۔ یہ سن کر ہم تو حیران ہیں اور کچھ پریشان بھی ہیں کہ کیا ان کا یہ فیصلہ کرنا ٹھیک ہے۔ قربانی میں اگر حصہ ڈالنا تھا تو گائے یا اونٹ میں ڈالتے مرغی میں کیوں۔ عدالتوں کے بارے میں برطانیہ کے وزیرِاعظم چرچل سے ایک مشہور واقعہ منسوب ہے جو دوسری جنگِ عظیم کے زمانے کا ہے، جب جرمنی نے برطانیہ پر لندن اور دوسرے شہروں پر مسلسل بمباری جاری تھی تو حکومت کے ایک وزیر نے چرچل سے کہا کہ ملک کے بہت سے ادارے تباہ ہو رہے ہیں، حالات بہت خراب ہیں۔اس پر چرچل نے ایک سوال کیا کیا عدالتیں اب بھی انصاف دے رہی ہیں؟ وزیر نے جواب دیا جی ہاں، عدالتیں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں اور انصاف بھی دے رہی ہیں۔ چرچل نے اس پر کہاپھر فکر کی کوئی بات نہیں۔ جب تک عدالتیں انصاف دے رہی ہیں، ملک محفوظ ہے چرچل کے کہنیکا مقصد یہ تھا کہ کسی ملک کی اصل طاقت صرف فوج یا حکومت ہی نہیں ہوتی۔ قانون کی حکمرانی اور آزاد عدلیہ ریاست کی بنیاد ہوتی ہے۔ہماری عدالتوں نے اس مشکل گھڑی میں یہ پیغام دے کر قوم کو مایوس کیا ہے کہ عدالتیں بھی چار دن کام کیا کریں گی ۔ پہلے ہی بے شمار کیس پڑے ہیں۔ جن کی باری نہیں آ رہی۔سائل انتظار میں ہیں کہ کب ان کا کیس سنا جائے گا۔ ایسا کرنے سے تو مزید کیسوں میں تاخیر ہو گی۔ بابا کرموں سے پوچھا کہ ججز کو کیا اعلان کرنا چاہے تھا کہا اس مشکل گھڑی میں ججز کو فوری آدھی تنخواہ لینے کا اعلان کرتے، یہ بھی اعلان کرتے کہ سپریم کورٹ تک تمام ججز اپنی اپنی گاڑیوں کیبجائے ایک کوسٹر پر عدالتوں میں آیا جایا کریں گے اور ہمارے بچے گاڑیاں نہیں چلائیں گے تو خوشی ہوتی۔کہتے ملک حالت جنگ میں ہے قیامت قریب ہے لہذا ہم ان حالات میں چھ دن اور شام چار بجے تک کام کیا کریں گے تو یہ اعلان سن کر خدا بھی خوش ہوتا اور اس کی مخلوق بھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے