بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 27.7°C
Monday, 15 June 2026 | پاکستان: 30 ذوالحجۃ 1447

مودی،ٹرمپ ملاقات پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ!

Monday, 15 June, 2026

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں کھڑا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگ کے بعد ممکنہ معاہدے کی خبریں نہ صرف تہران اور واشنگٹن بلکہ پورے خطے کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ اتوار کی صبح ایرانی اخبارات کے صفحہ اول پر شائع ہونے والی سرخیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ ایرانی معاشرہ اور سیاسی قیادت اس مجوزہ معاہدے کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہی ہے۔ ایک طرف ایسے حلقے موجود ہیں جو اسے جنگ کے بعد امن اور معاشی بحالی کی امید قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب وہ عناصر بھی سرگرم ہیں جو اس معاہدے کو ایران کی عسکری اور سیاسی کامیابیوں کے ضائع ہونے کے مترادف سمجھتے ہیں۔کیہان اخبار کی سرخی ”جنگ میں ملی جیت کو ایک خراب معاہدے سے شکست میں نہ بدلیں” دراصل ایرانی قوم پرست حلقوں کی سوچ کی ترجمان ہے۔ ان کا سوال یہ ہے کہ اگر جنگ کے نتیجے میں ایران نے اپنی دفاعی صلاحیت اور سیاسی استقامت کا مظاہرہ کیا ہے تو پھر کسی ایسے معاہدے کا کیا فائدہ جو امریکہ کو نئی رعایتیں دے اور ایران کے بنیادی مفادات کو محفوظ نہ بنا سکے۔ دوسری جانب سرکاری اخبار اور اصلاح پسند حلقے اس معاہدے کو ایک نئے آغاز کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر اس کے نتیجے میں پابندیاں نرم ہوتی ہیں، منجمد اثاثے بحال ہوتے ہیں اور جوہری تنازع کے حل کی راہ نکلتی ہے تو یہ ایران کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔ یہ اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بار بار یہ کہنا کہ معاہدہ قریب ہے، عالمی سفارتی حلقوں میں توقعات کو بڑھا رہا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے معاہدے کے امکانات پر مثبت اظہارِ خیال بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور سفارتی حل کا حامی رہا ہے۔ اسلام آباد بخوبی جانتا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مسلسل تصادم نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا کے امن اور معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔تاہم اس تمام منظرنامے میں ایک اور پیش رفت ایسی ہے جو غیر معمولی توجہ کی متقاضی ہے۔ سترہ جون کو پیرس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی متوقع ملاقات کو محض ایک معمول کی سفارتی سرگرمی قرار دینا شاید درست نہ ہو۔ بین الاقوامی سیاست میں ملاقاتوں کی اہمیت صرف ان کے اعلانات میں نہیں بلکہ ان کے وقت اور پس منظر میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے کے مبصرین اس ملاقات کو گہری نظر سے دیکھ رہے ہیں۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے آغاز سے قبل وزیر اعظم مودی اسرائیل کے ساتھ قریبی رابطوں میں تھے۔ اگرچہ کسی بھی واقعے کو براہِ راست دوسرے واقعے سے جوڑنا محتاط صحافت کے اصولوں کے خلاف ہے، تاہم تاریخ ہمیں یہ ضرور سکھاتی ہے کہ عالمی طاقتیں اکثر بیک وقت مختلف خطوں میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے متعدد سفارتی اور تزویراتی اقدامات کرتی ہیں۔ ایسے میں یہ سوال فطری ہے کہ کیا مودی اور ٹرمپ کی ملاقات محض دوطرفہ تعلقات تک محدود رہے گی یا اس میں جنوبی ایشیا کی صورتحال بھی زیر بحث آئے گی؟پاکستان کے لیے یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ اس وقت خطے میں کئی حساس معاملات بیک وقت موجود ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے۔ کشمیری عوام کی سیاسی اور انسانی حقوق کی جدوجہد بدستور جاری ہے۔ دوسری جانب گلگت بلتستان کے حوالے سے بھی مختلف سیاسی اور انتظامی مباحث جاری ہیں۔ ایسے حالات میں اگر عالمی توجہ کسی بڑے بحران سے ہٹ کر کسی اور سمت منتقل ہو جائے تو بعض علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کے حصول کے لیے نئی چالیں چلنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔بین الاقوامی تعلقات کی تاریخ بتاتی ہے کہ بڑی جنگوں اور سفارتی تبدیلیوں کے دوران بعض ریاستیں پیدا ہونے والے خلا سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو محض بیرونی حالات کا تماشائی بننے کے بجائے اپنی قومی حکمتِ عملی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ قومی سلامتی صرف سرحدوں کے دفاع کا نام نہیں بلکہ سیاسی استحکام، معاشی طاقت اور قومی یکجہتی کا مجموعہ ہے۔ جب اندرونی محاذ کمزور ہو تو بیرونی خطرات زیادہ سنگین محسوس ہونے لگتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان گزشتہ چند برسوں سے سیاسی کشیدگی کے ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جس نے قومی توانائی کا بڑا حصہ اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی، انتخابی تنازعات، عدالتی مقدمات اور سیاسی بیانیوں کی جنگ نے قومی اتفاقِ رائے کی فضا کو متاثر کیا ہے۔ ایسے ماحول میں ریاستی اداروں اور سیاسی قوتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قومی مفاد کے بنیادی نکات پر کم از کم اتفاق پیدا کریں۔ دنیا کے اکثر کامیاب ممالک میں سیاسی اختلافات کے باوجود قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے معاملات پر ایک مشترکہ سوچ موجود ہوتی ہے۔معاشی استحکام بھی سیاسی استحکام سے الگ نہیں۔ سرمایہ کار، صنعت کار اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے ہمیشہ ایسے ملک کو ترجیح دیتے ہیں جہاں پالیسیوں کا تسلسل اور سیاسی ماحول نسبتاً پرامن ہو۔ اگر سیاسی غیر یقینی برقرار رہے تو معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہوتی ہے، بیرونی سرمایہ کاری کم ہوتی ہے اور عوامی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کو صرف خارجہ محاذ پر نہیں بلکہ داخلی سطح پر بھی ایک جامع قومی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدہ اگر حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو یہ پورے خطے کے لئے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو سکتا ہے۔ لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہر معاہدہ اپنے ساتھ نئے سوالات اور نئے چیلنجز لے کر آتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن، امریکہ کی علاقائی حکمتِ عملی، اسرائیل کے مفادات، خلیجی ریاستوں کا کردار اور بھارت کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں ایسے عوامل ہیں جن پر پاکستان کو مسلسل نظر رکھنی ہوگی۔اس وقت سب سے اہم ضرورت یہ ہے کہ پاکستان جذبات کے بجائے حقیقت پسندانہ اور دور اندیش پالیسی اختیار کرے۔ سفارتی محاذ پر فعال کردار، علاقائی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات، قومی معیشت کی مضبوطی اور اندرونی سیاسی ہم آہنگی ہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی ممکنہ بحران کے اثرات کو کم کر سکتے ہیں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور بین الاقوامی اتحاد بھی مستقل نہیں ہوتے۔ ایسے میں وہی ریاستیں کامیاب ہوتی ہیں جو داخلی طور پر مضبوط اور خارجی طور پر متحرک ہوں۔آج جب دنیا ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مفاہمت کی طرف دیکھ رہی ہے اور پیرس میں ٹرمپ اور مودی کی ملاقات کے لئے قیاس آرائیاں جاری ہیں، پاکستان کے لئے اصل پیغام یہی ہے کہ قومی اتحاد کو ہر دوسری ترجیح پر فوقیت دی جائے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، اور معاشی استحکام کے بغیر قومی سلامتی کا خواب بھی ادھورا رہتا ہے۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں پاکستان کو اپنی قوتِ فیصلہ، قومی یکجہتی اور ریاستی بصیرت کا بھرپور مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ کوئی بھی بیرونی سازش یا علاقائی بحران ہمارے قومی مفادات کو نقصان نہ پہنچا سکے۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں