بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Saturday, 10 October 2026 | پاکستان: 29 ر بیع الثانی 1448

قومی استحکام کا تقاضا اور عالمی بحران

Wednesday, 22 April, 2026

پاکستان اس وقت تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سرحدوں کے باہر ابھرتے ہوئے تنازعات اور سرحدوں پر موجود کشیدگی براہِ راست ہماری داخلی سلامتی اور سماجی استحکام کو چیلنج کر رہی ہے۔ مشرقِ وسطی میں ایران اسرائیل کشیدگی کی نئی لہر ہو یا مغربی سرحد پر افغانستان کے ساتھ پیدا ہونے والی تلخی، یہ واقعات محض جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہتے بلکہ پاکستان کے اندر عوامی جذبات، مذہبی وابستگیوں اور مختلف مکاتبِ فکر کے بیانیوں پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ان حالات میں جہاں ریاستی ادارے سفارتی محاذ پر توازن برقرار رکھنے اور سرحدی سلامتی یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہیں، وہاں عوامی سطح پر مسلکی اتحاد اور داخلی ہم آہنگی کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی خطے میں کوئی بڑی تبدیلی یا بحران جنم لیتا ہے، انتہاپسند عناصر اور دشمن قوتیں اسے پاکستان کے اندرونی امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ایران اسرائیل تنازع کی صورت میں پیدا ہونیوالے جذباتی ردعمل کو اگر دانشمندی اور دور اندیشی سے نہ سنبھالا گیا تو یہ فروعی اختلافات اور فرقہ وارانہ تقسیم کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی قومی مفادات اور عالمی امن کے اصولوں پر مبنی ہے، لہٰذا کسی بھی بیرونی معاملے کو مسلکی رنگ دینا نہ صرف قومی یکجہتی کو کمزور کرتا ہے بلکہ انتہا پسندانہ بیانیوں کیلئے سازگار ماحول بھی فراہم کرتا ہے۔
ایسے میںپیغامِ پاکستان کی صورت میں موجود متفقہ ضابطہ اخلاق کی اہمیت دوچند ہو جاتی ہے، جو تمام مسالک کے مابین احترام اور بقائے باہمی کا درس دیتا ہے۔قومی استحکام کی اس جدوجہد میں منبر و محراب اور میڈیا کا کردار کلیدی ہے۔ علمائے کرام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو یہ باور کرائیں کہ امتِ مسلمہ کا اتحاد کسی بھی فروعی اختلاف سے مقدم ہے۔ جب ملک بیرونی دبا اور سرحدی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہو، تو داخلی محاذ پر خلفشار پیدا کرنا دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ ریاست کے تمام طبقات، بشمول دانشوروں اور نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے استعمال میں بھی انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ کوئی بھی اشتعال انگیز مواد ہماری قومی صفوں میں دراڑ نہ ڈال سکے۔موجودہ صورتحال کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی شناخت کو صرف ایک پاکستانی کے طور پر ابھار یں۔
سرحد پار کی کشیدگی ہمیں دست و گریبان ہونے کے بجائے ایک مٹھی ہونے کی دعوت دے رہی ہے۔ اگر ہم اندرونی طور پر متحد ہوں گے، تب ہی ہمارے ادارے سرحدوں کا دفاع اور سفارت کار عالمی سطح پر ملک کا مقدمہ مضبوطی سے لڑ سکیں گے۔ آج کے دور میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی محض ایک اخلاقی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کی بقا اور دفاع کا ناگزیر حصہ ہے۔ امن، رواداری اور بین المسالک مکالمے کے ذریعے ہی ہم ان کٹھن حالات سے سرخرو ہو کر نکل سکتے ہیں اور ایک مستحکم و پرامن پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔بین الاقوامی واقعات پر عوامی ردعمل کا آنا ایک فطری عمل ہے، تاہم اس ردعمل کا پرامن اور تعمیری رہنا ملک کے داخلی استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔ جذبات کی رو میں بہہ کر کیے جانے والے پرتشدد مظاہرے یا اشتعال انگیز بیانات سے عالمی سطح پر کسی مسئلے کا حل نکلے نہ نکلے، خود پاکستان کا امن ضرور داؤ پر لگ جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی قومی مفادات اور عالمی امن کے اصولوں پر مبنی ہے، لہٰذا کسی بھی بیرونی معاملے کو مسلکی رنگ دینا یا احتجاج کے نام پر توڑ پھوڑ کرنا نہ صرف قومی یکجہتی کو کمزور کرتا ہے بلکہ انتہاپسندانہ بیانیوں کے لیے سازگار ماحول بھی فراہم کرتا ہے۔اس نازک صورتحال میں تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام مسالک کے جید علما ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہوں اور مشترکہ طور پر یہ واضح کریں کہ یکجہتی کے نام پر تشدد یا قانون ہاتھ میں لینا کسی بھی مذہبی یا سیاسی مقصد سے زیادہ پاکستان کو نقصان پہنچاتا ہے۔
علمائے کرام کا یہ متفقہ بیانیہ کہ داخلی انتشار جہاد نہیں بلکہ کمزوری ہے، ان عناصر کے ہاتھ کاٹ دے گا جو مذہبی جذبات کو ریاست کے خلاف استعمال کرنے کی تاک میں رہتے ہیں۔قومی استحکام کی اس جدوجہد میں منبر و محراب کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہوگا۔ جب ملک بیرونی دبا اور سرحدی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہو، تو داخلی محاذ پر خلفشار پیدا کرنا دشمن کے ایجنڈے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔ ریاست کے تمام طبقات کو یہ باور کرانا ہوگا کہ ہماری پہلی اور آخری شناخت صرف ایک پاکستانی کی ہے۔ اگر ہم اندرونی طور پر متحد ہوں گے، تب ہی ہمارے ادارے سرحدوں کا دفاع اور سفارت کار عالمی سطح پر ملک کا مقدمہ مضبوطی سے لڑ سکیں گے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ سرحد پار کی کشیدگی ہمیں دست و گریبان ہونے کے بجائے ایک مٹھی ہونے کی دعوت دے رہی ہے۔ آج کے دور میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور پرامن احتجاج کی روایت محض ایک اخلاقی ضرورت نہیں بلکہ پاکستان کی بقا اور دفاع کا ناگزیر حصہ ہے۔ امن، رواداری اور بین المسالک مکالمے کے ذریعے ہی ہم ان کٹھن حالات سے سرخرو ہو کر نکل سکتے ہیں اور ایک مستحکم و پرامن پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کر سکتے ہیں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *