کالم

متاع درد بہم ہے تو بیش و کم کیا ہے

گزشتہ سے پیوستہ
گویا اب میں توہین رمضان کا مجرم تھا ۔آب دیدہ آنکھوں سے کہنے لگے کہ ناکے پر بیٹھے تھانیدار نے پولیس والے سے پوچھا کہ اس نے کیا جرم کیا ہے؟ جواب ملا ؛ یہ سرعام کیلے کھا کر رمضان کی توہین کر رہا تھا۔میں نے تصحیح کرنے کی کوشش کی کہ جناب توہین کا تو تصور نہیں کیا جا سکتا ،بس سخت بھوک لگی تھی ،اس لیے کیلے کھا رہا تھا ،توہین تو نہیں کی۔اس پر تھانیدار نے سزا کا اعلان کرتے ہوئے حکم جاری کیا کہ اسے چار تھپڑ مار کر چلتا کرو ۔ سڑک کنارے بکھری دھوپ ، دوپہر کی گرم ہوا ،پاس سے گزرتے لوگوں ، قریبی درختوں پر بیٹھے پرندوں اور ان سب کے بہت اوپر چھائے خاموش اور متجسس آسمان نے یہ سارا منظر دیکھا،مگر ٹوٹ کر نیچے نہیں گرا کہ؛ایک شخص کو سیدھا کھڑا کر کے ایک پولیس والا اس کے منہ پر تھپڑ مار رہا تھا ، ایک ، دو تین اور یہ چار ۔رنج ، توہین، تکلیف اور تذلیل کے احساس اور بھیگی آنکھوں کے ساتھ سر جھکائے وہ شخص ایک طرف چل پڑا۔
احمد سلیم صاحب کے بیان کردہ اس ایک واقعے سے ضیا الحق کے دور میں مذہب کے نام پر پھیلائی جانے والی تاریکی کا اندازہ قائم کیا جا سکتا ہے۔یقینا یہ واقعہ ایک شخص کا انفرادی واقعہ نہیں ، ضیا الحق کے دور میں پاکستانی معاشرے کا اجتماعی قصہ ہے ۔ان تھپڑوں کے نشان آج بھی ہر پاکستانی کے منہ پر دیکھے جا سکتے ہیں۔احمد سلیم واحد دانشور تھے جو عالم ہونے کی دھونس جمانے کے عوض علم و تحقیق میں مدد اور تعاون کے لیے ہمہ وقت تیار اور آمادہ ایثار رہا کرتے تھے۔ مجھے خود ان کے اس لطف و کرم کا تجربہ ہو چکا ہے۔کئی بار ایسا ہوا کہ مجھے کسی نادر کتاب کی تلاش ہوئی، اشارتا ذکر کیا ،تو فورا اٹھے اور کتاب لا کر سامنے رکھ دی۔ ایک بار مجھے رشید اختر ندوی کی مرتبہ شہید وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی سوانح عمری کی تلاش ہوئی ، یہ کتاب خود رشید اختر ندوی کے اہل خانہ کے پاس بھی دستیاب نہیں تھی۔ لیکن جب احمد سلیم صاحب کو علم ہوا کہ میں یہ کتاب تلاش کر رہا ہوں تو اس کتاب کی دونوں ضخیم ترین جلدیں لا کر میرے سامنے رکھ دیں۔
مسکراتے بڑے منظم سلیقے سے تھے ۔یہ ان کی طرف سے اپنے لیے اظہار اطمینان اور مخاطب کے لیے انعام کی طرح ہوتا تھا ۔ایک بار بلوچستان پر بات ہو رہی تھی ۔انہوں نے اپنی ایک کتاب کا ذکر کیا، بک ریک سے نکال لائے، باتیں ہوتی رہیں۔ میں اٹھتے ہوئے کتاب پر پبلشر کا نام دیکھنے لگا۔انہوں نے یہ کہہ کر کہ یہ اب پتہ نہیں دستیاب بھی ہے یانہیں ، آپ یہی کتاب رکھ لیں ،مجھے مل جائے گی ، کتاب میرے حوالے کردی۔ اس وقت کے صدر پاکستان(آج کل بھی وہی صدر پاکستان ہیں)کی طرف سے ہماری یونیورسٹی میں فیض احمد فیض چیئر کا قیام ایک تاریخی واقعہ تھا۔پاکستان میں مقتدرہ سے رشتہ قدم بوسی استوار رکھنے والے فیض سے نسبت اور محبت کی تشہیر تو خوب کرتے ہیں ،لیکن نجی محفلوں میں ” یہ بڈھا بھی خود کو شاعر سمجھتا ہے ” جیسی معیار اور اعتبار سے گری ہوئی باتیں بھی تواتر سے دھراتے رہتے ہیں۔ہماری یونیورسٹی میں فیض چیئر قائم ہو گئی ، تو اس کے بنے بنائے "چیئرمین” بھی میدان میں اتر کر دائرے کی صورت جھومر ڈالنے لگے۔ لیکن فیض چیئر کے لیے مرتب کردہ قواعد و ضوابط میں چیئرمین کے لیے یونیورسٹی پروفیسر کی قابلیت اور میرٹ والی شرط نے "قدم بوس” امیدواروں کو زمین بوس کرتے ہوئے مایوس کردیا۔بہرحال یہ اعزاز میرے حصے میں آیا ۔ لیکن "ماہرین قدم بوسی و دریوزہ گری” نے مختلف حیلوں بہانوں سے حکومت یا ایچ ای سی کی طرف سے کسی قسم کے فنڈز کا اجرا رکوا دیا۔ اس کے باوجود ہم نے فیض چیئر کی نیشنل ایڈوائزری کونسل بنائی ،جس میں چاروں صوبوں کی نمائندگی شامل تھی۔ متعدد منصوبے بنائے ، متعدد بین الاقوامی کانفرنسز کروائیں ،اور یہ سب یونیورسٹی کے اپنے وسائل سے کیا گیا۔ایسے ہی متعدد منصوبوں میں ایک منصوبہ فیض احمد فیض پر ایک بھرپور دستاویزی فلم تیار کرنے کا بھی تھا ۔اس کے لیے احمد سلیم صاحب نے جس طرح ساری مصروفیات کو ایک طرف رکھتے ہوئے، محض محبت کی بنیاد فیض ڈاکیومنٹری کا طویل ، منظم اور مرتب مسودہ مکمل کر کے ہمارے حوالے کیا ، وہ ناقابل فراموش واقعہ ہے ۔انہوں نے اس ڈاکیومنٹری کیلئے اپنے ذاتی روابط اور تعلقاتِ کو بھی ہماری مدد اور تعاون کے لیے تیار کر لیا۔ہم اسے تیزی سے مکمل کرنا چاہتے تھے ۔لیکن، بات طویل ہے ، بس خلاصہ یہ ہے کہ پاکستانی مقتدرہ”فیض“سے”محبت کا اعلان اور گریز پر عمل“کی حکمت عملی اپنائے رکھتی ہے۔دوسرے خود خانوادہ فیض کا احساس ملکیت ناواجب حد پر متحرک رہتا ہے۔ ان کے اور حضرت علامہ اقبال کے اہل خانہ کے طرز فکر وعمل میں زمین آسمان کا فرق دیکھنے میں آیا ہے۔بہرحال احمد سلیم صاحب کے ہاتھ کا لکھا فیض ڈاکیومنٹری کا مسودہ اب بھی میرے پاس ایک خلوص نامے کے طور پر محفوظ ہے۔یقینی طور پر احمد سلیم نایاب صفات کے حامل دانشور تھے، جن کی تربیت وقت اور زمانے نے خود کی تھی ۔فیض احمد فیض ان کے محسن ، ممدوح اور محب تھے۔ان سے محبت اور عقیدت کے تعلق کا آغاز کراچی شہر سے ہوا ،یہ تعلق 1984 تک قائم رہا۔فیض احمد فیض کی طرح احمد سلیم کو بھی ریاست پاکستان کا شہری ہونے کے سارے رنگوں سے واقف ہونا پڑا ۔حالات جیسے بھی ہوئے ،رہنا سہنا اور جینا پڑا۔وہ خود کو ایک کامیاب اور بامراد شخص خیال کرتے تھے۔میرے خیال میں ایک صاحب دل اور صاحب فراست کے لیے اس سے بڑا اطمینان اور انعام کوئی اور ہو نہیں سکتا؛
بہت ملا نہ ملا زندگی سے غم کیا ہے
متاع درد بہم ہے تو بیش و کم کیا ہے
(ختم شد)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

güvenilir kumar siteleri