بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 16.2°C
Saturday, 24 October 2026 | پاکستان: 14 جمادی الاول 1448

معدنی وسائل۔ معاشی خودمختاری کا نیا راستہ

Friday, 16 January, 2026

کسے معلوم نہیں کہ عالمی معیشت اس وقت ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں قدرتی وسائل بالخصوص معدنیات کی اہمیت محض صنعتی پیداوار تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ قومی سلامتی، معاشی خودمختاری اور عالمی طاقت کے توازن سے براہِ راست جڑ چکی ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتیں اب توانائی، دفاع، ٹیکنالوجی اور جدید صنعتوں کے لیے اہم معدنیات کو اسٹریٹجک اثاثہ سمجھتی ہیں۔ اسی تناظر میں *دی نیشنل انٹرسٹ* میں شائع ہونے والا حالیہ مضمون اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اپنے کھربوں ڈالر مالیت کے غیر استعمال شدہ معدنی وسائل کو اب ایک سنجیدہ قومی حکمتِ عملی کے تحت معاشی ترقی کی بنیاد بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان طویل عرصے تک معدنی دولت سے مالا مال ہونے کے باوجود اس شعبے میں واضح پالیسی، شفاف قوانین اور طویل المدتی وژن سے محروم رہا۔ نتیجتاً معدنیات یا تو خام شکل میں برآمد ہوتی رہیں یا پھر زمین کے نیچے ہی دفن رہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں حکومت کی جانب سے مائننگ پالیسیوں میں اصلاحات، سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی تشکیل اور بین الاقوامی شراکت داری کے فروغ نے اس تاثر کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ *دی نیشنل انٹرسٹ* کے مطابق پاکستان اب اپنی مائننگ پالیسیوں کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ایک ایسی معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں وسائل کے بہتر استعمال کو ترجیح دی جا رہی ہے۔اسی حکمتِ عملی کا ایک عملی مظہر **پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 ** ہے، جو اپریل میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔ سفارتی اور معاشی ماہرین کے بقول اس فورم کا مقصد محض سرمایہ کاروں کو مدعو کرنا نہیں بلکہ پاکستان کو ایک ایسی مائننگ معیشت کے طور پر پیش کرنا ہے جہاں شفاف قوانین، ریگولیٹری استحکام اور طویل المدتی سرمایہ کاری کا واضح فریم ورک موجود ہو کیوں کہ حکومت اس فورم کے ذریعے عالمی کان کنی کمپنیوں، مالیاتی اداروں اور جدید ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے شراکت داروں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ پاکستان اب غیر یقینی سے نکل کر ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد سرمایہ کاری منزل بننے کے لیے تیار ہے۔اسی تناظر میں بلوچستان میں واقع **ریکوڈک منصوبہ** خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ *دی نیشنل انٹرسٹ* کے مطابق ریکوڈک دنیا کے بڑے کاپر اور گولڈ منصوبوں میں شامل ہے، جہاں تقریباً 5.9 ارب ٹن معدنی ذخائر موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ منصوبہ نہ صرف اربوں ڈالر کی آمدن پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ اس سے ہزاروں براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ریکوڈک ماضی میں قانونی تنازعات اور پالیسی کی کمزوریوں کا شکار رہا، تاہم حالیہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ ریاست اب اس منصوبے کو ایک جامع اور شفاف فریم ورک کے تحت آگے بڑھانے کے لیے سنجیدہ دکھائی دیتی ہے۔پاکستان کے معدنی شعبے کا ایک اور اہم مگر طویل عرصے سے نظرانداز کیا گیا پہلو **قیمتی پتھروں** کا ہے۔*دی نیشنل انٹرسٹ* کے مطابق پاکستان کے قیمتی پتھروں کی مجموعی مالیت تقریباً 450 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے، لیکن اس کے برعکس ان کی سالانہ برآمدات محض 5.8 ملین ڈالر تک محدود ہیں۔ یہ فرق اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان اب تک اس شعبے میں ویلیو ایڈیشن، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی مارکیٹ تک رسائی کے مواقع سے فائدہ نہیں اٹھا سکا۔اسی خلا کو پُر کرنے کیلئے حکومت نے پہلی مرتبہ **قومی جیم اسٹون پالیسی** متعارف کروائی ہے۔ اس پالیسی کے تحت جدید سرٹیفیکیشن سسٹم، مقامی سطح پر کٹنگ اور پالشنگ، ویلیو ایڈیشن اور نوجوانوں کی کاروباری شمولیت کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ پالیسی مؤثر انداز میں نافذ ہو گئی تو آئندہ پانچ برسوں میں پاکستان کی جیم اسٹون برآمدات ایک بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں، جو نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری لائے گا بلکہ پہاڑی اور پسماندہ علاقوں میں روزگار کے نئے در بھی کھولے گا۔یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ پاکستان صرف روایتی معدنیات تک محدود نہیں بلکہ لیتھیم، کوبالٹ اور نایاب زمینی عناصر جیسے اہم معدنی وسائل میں بھی نمایاں صلاحیت رکھتا ہے۔ موجودہ عالمی منظرنامے میں یہ معدنیات الیکٹرک گاڑیوں، بیٹری اسٹوریج، جدید دفاعی نظام اور ہائی ٹیک الیکٹرانکس کے لیے ناگزیر حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔ اسی تناظر میں اگر پاکستان اپنی معدنی اصلاحات کو درست سمت میں آگے بڑھاتا ہے تو وہ مستقبل کی عالمی سپلائی چین میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔معاشی ماہرین کے بقول معدنی اور جیم اسٹون سیکٹر کی منظم اور مربوط ترقی سے اگلے دس برسوں میں پاکستان کی جی ڈی پی میں سالانہ 5 سے 7 بلین ڈالر تک اضافہ ممکن ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں غربت اور پسماندگی ایک دیرینہ مسئلہ رہی ہے۔یہ امر بھی اہم ہے کہ حکومت معدنی شعبے کو محض آمدن کا ذریعہ نہیں بلکہ **ٹیکنالوجی ٹرانسفر**، **صنعتی ترقی** اور **ادارہ جاتی مضبوطی** کے ایک اہم وسیلے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے جدید کان کنی ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ کے عالمی معیارات اور مقامی افرادی قوت کی تربیت کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ حکمتِ عملی پاکستان کو عالمی معدنی منڈی میں ایک ذمہ دار اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر منوانے میں مدد دے سکتی ہے۔آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ *دی نیشنل انٹرسٹ* میں شائع ہونے والا مضمون اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان اب اپنے معدنی وسائل کو محض زمین میں دفن دولت نہیں بلکہ معاشی خودمختاری، صنعتی استحکام اور عالمی اسٹریٹجک اہمیت کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ایسے میں سنجیدہ ماہرین کے بقول اگر پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا، شفاف عملدرآمد یقینی بنایا گیا اور قومی مفاد کو مقدم رکھا گیا تو آنے والے برسوں میں معدنی شعبہ واقعی پاکستان کی معیشت کا ایک مضبوط ستون بن سکتا ہے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *