وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18ہزار 771 ارب روپے ہوگا،سود کی ادائیگی پر 8ہزار 54 ارب روپے مختص کرنے، پنشن پر مجموعی طور پر 1169ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جس میں ملٹری پنشن پر 822ارب روپے خرچ کرنے جبکہ سول پنشن پر 272ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے۔دفاع کیلئے 3ہزار ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے جبکہ سبسڈی کی مد میں 1091ارب روپے رکھے گے ہیں ۔ سرکار نے اس عزم کا اظہار بھی کیا ہے کہ مالی خسارے کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کا پرائمری سرپلس کا ہدف مقرر کرنا بھی خوش آیند ہے۔ در حقیقت معرکہ حق کے بعد بھارتی عزائم اب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں رہے چنانچہ لازم تھا کہ پڑوسی ملک کی جانب سے درپیش خطرات اور خدشات کے پیش نظر وطن عزیز کیدفاعی بجٹ میں مناسب اضافہ کیا جاتا۔ عصر حاضر میں ترقی کے تسلسل کیلئے جدید علوم کا فروغ لازم ہے لہٰذا حکومت کی جانب سے تعلیم کیلئے مختص فنڈز میں اضافہ قابل تحسین کہا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان میں عام آدمی کیلئے صحت کی سہولیات ناکافی ہیں لہٰذا صحت کے شعبے کیلئے مزید وسائل رکھنے کا اعلان قابل تحسین ہے۔ایک اور حکومتی اقدام کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی کہ پنشن میں اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے ۔ درحقیقت مہنگائی کے اس دور میں چھوٹے سرکاری ملازمین کیلئے جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنا بڑی حد تک ناممکن ہوچکا چنانچہ حکومت کی جانب سے نچلے درجہ کے ملازمین میں تنخواہوں میں اضافہ کو وقت کی ضرورت بھی کہا جاسکتا ہے۔ ادھر پنشنرز کی پنشن میں اضافہ اس لیے ناگزیر تھا کہ بیشتر ریٹائرڈ بزرگ مرد و خواتین کا گزر اوقات ان ہی پیسوں سے ہوتا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے کم اجرت والے ملازمین میں فوری اضافے کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔ ایک نقطہ نظر یہ بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافہ کے ساتھ ساتھ خواتین کو ہنر مند بنانا ہوگا تاکہ ضرورت مند میں ہاتھ پھیلانے کے رجحان کا سدباب کیا جاسکے۔اب احساس پروگرام کیلئے حکومت کی جانب سے وسائل مختص کرنا خوش آئند ہے مگر اس پر کیے جانیوالے اعتراضات کو بھی دور کرنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کہنے کو ایک زرعی ملک ہے مگر اس شعبے میں ٹھوس اصلاحات کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جارہی ہے ۔ حکومت کو ایک طرف کسان کی حالت زار بہتر بنانا ہوگی تو دوسری طرف مجموعی ترقی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہوگا ۔لازم ہے کہ کسانوں کیلئے آسان قرضوں کی فراہمی ممکن بنائی جائے۔زرعی مشینری پر قابل زکر مراعات دی جاہیں،بیج اور کھاد کی فراہمی میں حکومت سہولت کاری کا کردار ادا کرے۔ ہمارے ہاں فری لانسرز کیلئے سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔پاکستان میں طویل عرصے برآمدات بڑھانے اور درآمدات میں کمی کی حکمت عملی کی کوشش کی جارہی ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ اس بار بات وعدوں اور یقین دہانیوں سے بات آگے بڑھے گی ۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد تیل کا بحران ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا چنانچہ ضروری ہے کہ توانائی کے شعبے میں دور رس اصلاحات لائی جائیں ۔ حکومتی حلقے تسلسل سے یہ دعوی کرتے کہ لوڈشیڈنگ کی اہم وجہ بجلی چوری ہے ۔ وقت آگیا ہے حکومت عملا بجلی چوروں کیخلاف سخت خلاف اقدامات اٹھائے ،سرکاری حکام گردشی قرضے میں کمی کی کوشش کرتے چلے آرہے مگر تاحال اس میں یقینی کامیابی ممکن نہیں ہوسکی ۔سولر انرجی منصوبوں کی سرکاری حمایت اپنی جگہ مگر اس کا خیال رکھنا ہوگا کہ ایسے منصوبے کسی طور عام شہری کی جیب پر بھاری نہیں پڑنے چاہیے ۔ حکومت کی جانب سے نوجوانوں کیلئے قرضہ اسکیمیں کی اہمیت اور افادیت سے بھی انکار ممکن نہیں ۔بجٹ میں ہائوسنگ سیکٹر کیلئے مراعات کا اعلان تعمیراتی صنعت کی حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتا ہے،چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبارکی معاونت کے منصوبوں کو بھی مزید پھیلانے کی ضرورت ہے ۔بجٹ میں خواتین کی اہمیت بھی تسلیم کی گئی ہے۔مثلاً خواتین آبادی کا نصف ہیں چنانچہ ان کو بھی کاروبار کرنے کی حقیقی سہولیات دینا ہوں گی ۔پاکستان میں میں سیاحت کا مستقبل روشن ہے بجٹ میں سیاحت کے فروغ کیلئے مناسب فنڈز کی موجودگی یقینی بنانا کا وعدہ کیا گیا ہے۔انفراسٹرکچر منصوبوں کیلئے سرمایہ کاری اور سڑکوں کی تعمیر کے منصوبوں کو یقینا آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ بجٹ میں موٹرویز کی توسیع اورریلویز کی بہتری کے اقدامات معاشی استحکام کو مزید آگے بڑھابے کی بات بھی کی گئی ہے پاکستان میں بڑھتے ہوئے پانی کے بحران سے انکار نہیں کیا جاسکتا یوں پانی ذخیرہ کرنے کے منصوبے اورڈیموں کی تعمیر کا تذکرہ بھی بجٹ دستاویزات میں موجود ہے ،موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے فنڈز،گرین پاکستان منصوبیجنگلات کے فروغ کا پروگرام دراصل صحت مند ماحولیات کے تصور کو آگے بڑھا سکتا ہے،نوجوانوں کی فنی تربیت کے پروگرامز سے ہنر مند افراد کی تعداد بڑھائی جاسکتی ہے ۔ ماہرین کا خیال ہے ڈیجیٹلائزیشن کے حکومتی منصوبے ای گورننس کو فروغ کے علاوہ ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنے کی پالیسی میں بھی معاون بن سکتے ہیں،نان فائلرز پر مزید پابندیاں ٹیکس چوری کیخلاف سخت اقدامات کے پس منظر میں ہی دیکھی جارہی ہیںاس طرح رئیل اسٹیٹ سیکٹر پراپرٹی لین دین کی نگرانی کو موثر بنا سکتا ہے،آن لائن کاروبار پر ٹیکس نظام ای کامرس سیکٹر کی دستاویز بندی،بینکنگ لین دین کی نگرانی کی سرکاری کاوشوں کو مزید موثر بنا سکتا ہے۔ یقینا حالیہ وفاقی بجٹ مثالی نہیں مگر اس پر عام آدمی کے نقطہ سے عمل کیا جائے تو یقینا قومی مشکلات میں کمی آنا خارج از امکان نہیں۔اقبال نے کہا تھا ۔
نہیں ہے اقبال نہ امید اپنی کشت ویراں سے
زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں