کالم

پاک آسٹریلیا ون ڈے کرکٹ سیریز ۔۔۔!

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلی گئی ون ڈے میچوں کی سیریز جس میں کرکٹ کا روایتی توازن بیٹنگ اور بائولنگ کے درمیان مسلسل جھولتا رہا۔ اس سیریز میں سلو پچز نے کھیل کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا اور ہر ٹیم کو رنز بنانے کیلئے غیر معمولی جدوجہد کرنا پڑی۔ تینوں میچوں میں نہ صرف اسکورنگ ریٹ کم رہا بلکہ کھلاڑیوں کی تکنیکی صلاحیتیں بھی اصل امتحان سے گزرتی رہیں۔پہلا ون ڈے راولپنڈی میں کھیلا گیا جہاں آسٹریلیا نے ٹاس جیت کرپہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ آسٹریلوی ٹیم 45ویں اوور میں 200 رنز بنا کر آئوٹ ہو گئی۔ اس اننگز میں سب سے نمایاں بلے باز میتھیو رینشا رہے جنہوں نے 61 رنز اسکور کیے۔ ان کے علاوہ میتھیو شارٹ نے 55 رنز بنا کر مزاحمت ضرور کی لیکن باقی بیٹنگ لائن پاکستانی بولرز کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکی۔پاکستان کی جانب سے اس میچ میں ایک شاندار بولنگ کارکردگی سامنے آئی۔ نوجوان فاسٹ بولر عرفات منہاس نے اپنے ڈیبیو میچ میں ہی 32 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کر کے کرکٹ حلقوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ کپتان شاہین شاہ آفریدی نے بھی اہم وکٹیں حاصل کیں، ابرار احمد اور دیگر بولرز نے دبا برقرار رکھا۔201 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے ذمہ دارانہ آغاز کیا۔ بابر اعظم نے 69 رنز کی خوبصورت اننگز کھیلی اور اننگز کو سہارا دیا۔ ان کے ساتھ غازی غوری نے 65 رنز بنا کر ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ پاکستان نے یہ ہدف 43ویں اوور میں 5 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ اس جیت نے پاکستان کو سیریز میں ابتدائی برتری دلائی اور ٹیم کا اعتماد بلند ہوا۔دوسرا ون ڈے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا جہاں پچ سست ثابت ہوئی۔ آسٹریلیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 232 رنز کا ہدف دیا۔ اس اننگز میں کپتان جاش انگلس اور کیمرون گرین نے نصف سنچریاں اسکور کیں اور ٹیم کو ایک قابل دفاع مجموعے تک پہنچایا۔ آخری اوورز میں اولیور پیک کی بیٹنگ نے آسٹریلیا کو بہتر اسکور تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔پاکستان کی بولنگ ایک بار پھر موثر رہی۔ شاہین شاہ آفریدی نے تین وکٹیں حاصل کیں ،حارث رف، عرفات منہاس اور ابرار احمد نے دو، دو وکٹیں لے کر آسٹریلوی بیٹنگ لائن کو محدود رکھا۔پاکستانی ٹیم جب ہدف کے تعاقب میں اتری تو مشکلات کا آغاز ہو گیا۔ ابتدائی وکٹیں جلد گرنے سے دبا بڑھ گیا۔ تاہم شاداب خان نے شاندار مزاحمت کرتے ہوئے 71 رنز کی ناٹ آٹ اننگز کھیلی۔ غازی غوری نے 37 اور عرفات منہاس نے 33 رنز بنائے لیکن ٹیم ہدف کے قریب نہ پہنچ سکی۔ پاکستان کی پوری ٹیم 44ویں اوور میں 190 رنز پر آٹ ہو گئی اور آسٹریلیا نے یہ میچ 41 رنز سے جیت کر سیریز کو 1-1 سے برابر کر دیا۔آسٹریلیا کی جانب سے میتھیو ایلس نے چار وکٹیں حاصل کیں جبکہ میتھیو شارٹ نے تین وکٹیں لے کر پاکستانی بیٹنگ کو مشکلات میں ڈال دیا۔ یہ میچ سیریز کو فیصلہ کن مرحلے میں لے آیا۔تیسرا اور فیصلہ کن ون ڈے بھی قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلا گیا جہاں پچ پہلے سے بھی زیادہ سلو ثابت ہوئی۔ آسٹریلوی ٹیم صرف 157 رنز پر 42 اوورز میں ڈھیر ہو گئی۔ کپتان جاش انگلس نے سب سے زیادہ 65 رنز بنائے جبکہ مارنس لبوشین اور ایلکس کیری نے 19، 19 رنز اسکور کیے۔ باقی بیٹرز پاکستانی بولنگ کے سامنے زیادہ دیر مزاحمت نہ کر سکے۔پاکستان کی جانب سے بولنگ کا معیار اس معیاری رہا۔ شاہین شاہ آفریدی نے تین وکٹیں حاصل کیں، ابرار احمد اور شاداب خان نے دو، دو وکٹیں حاصل کر کے آسٹریلوی اننگز کو محدود رکھا۔158 رنز کا ہدف بظاہر آسان محسوس ہو رہا تھا لیکن پاکستانی بیٹنگ ایک بار پھر دبا کا شکار ہو گئی۔ ٹیم کو ہدف تک پہنچنے میں 42 اوورز لگے اور اس دوران کئی مواقع پر میچ انتہائی مشکل مرحلے میں داخل ہو گیا۔ پاکستان نے 112 رنز پر چھ وکٹیں گنوا دیں اور صورتحال غیر یقینی ہو گئی۔اس مشکل وقت میں شاداب خان اور عبدالصمد نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو سہارا دیا اور ہدف کے قریب پہنچایا۔ بابر اعظم نے اس اننگز میں 40 رنز بنائے جبکہ معاذ صداقت نے 27 رنز اسکور کیے۔ آخر میں پاکستان نے ہدف حاصل کر کے میچ جیت لیا اور سیریز 2-1 سے اپنے نام کر لی۔اس سیریز کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ پاکستان نے اپنا ہزارواں ون ڈے انٹرنیشنل کھیلا اور دنیا کی تیسری ٹیم بن گئی جس نے یہ سنگ میل عبور کیا۔ یہ لمحہ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔پاکستانی کپتان شاہین شاہ آفریدی نے اس موقع پر کہا کہ یہ ایک تاریخی سنگ میل ہے اور ٹیم کی کوشش یہی ہے کہ اس اہم موقع کو کامیابی کے ساتھ یادگار بنایا جائے۔پورے سیریز میں یہ بات واضح طور پر سامنے آئی کہ پچز انتہائی سست تھیں جس کی وجہ سے بڑے اسکور دیکھنے کو نہیں ملے۔ آسٹریلوی ٹیم نسبتا کم تجربہ کار تھی لیکن پاکستانی بیٹنگ بھی تسلسل برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔ صرف چند کھلاڑیوں نے ذمہ داری دکھائی جبکہ باقی کھلاڑی دبا میں آتے رہے۔بولنگ کے شعبے میں پاکستان نے بہتر کارکردگی دکھائی۔ خاص طور پر شاہین شاہ آفریدی اور نوجوان بولرز نے اہم کردار ادا کیا۔ تاہم بیٹنگ لائن کی غیر مستقل مزاجی ایک واضح مسئلہ بن کر سامنے آئی جس پر مستقبل میں توجہ دینا ضروری ہوگا۔سیریز پاکستان نے 2-1 سے جیتی لیکن مجموعی کارکردگی مکمل اطمینان بخش قرار نہیں دی جا سکتی۔ جیت ضرور حاصل ہوئی مگر کھیل کے کئی شعبوں میں بہتری کی گنجائش موجود رہی۔ پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان کھیلی گئی تین میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز ایک ایسی سیریز ثابت ہوئی جس میں کرکٹ کے میدان کے ساتھ ساتھ انتظامی اور سکیورٹی پہلو بھی نمایاں رہے۔ سلو پچز، کم اسکورنگ میچز اور سخت مقابلے کے ساتھ ساتھ اس سیریز نے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے محفوظ انعقاد پر ایک بار پھر اعتماد کو مضبوط کیا۔اس پورے ٹورنامنٹ میں جہاں کھیل کے میدان میں سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا، وہیں راولپنڈی اور لاہور میں سکیورٹی اور انتظامی اداروں کی کارکردگی بھی قابلِ تحسین رہی۔ لاہور پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے انتہائی منظم، مربوط اور مثر حکمت عملی کے تحت کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنایا۔ اسٹیڈیم کے اندر اور باہر فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے گئے، ٹریفک کی روانی کو بہتر انداز میں برقرار رکھا گیا اور ہر میچ کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے مکمل طور پر بچا ممکن بنایا گیا۔خاص طور پر لاہور پولیس کی پیشگی منصوبہ بندی، مسلسل نگرانی اور جدید سکیورٹی پروٹوکولز کے نفاذ نے یہ ثابت کیا کہ پاکستان بڑے بین الاقوامی ایونٹس کو کامیابی سے منعقد کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور دیگر سکیورٹی اداروں نے بھی بھرپور تعاون کرتے ہوئے اس پورے ایونٹ کو محفوظ اور پرامن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس مجموعی انتظامی کارکردگی نے غیر ملکی ٹیم کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا۔پاک آسٹریلیا ون ڈے کرکٹ سیریز کے کامیاب اور پرامن انعقاد پر پاکستان کرکٹ بورڈ خراجِ تحسین کا مستحق ہے۔ پی سی بی نے بہترین انتظامات، مثر حکمت عملی اور پیشہ ورانہ اندازِ کار کے ذریعے بین الاقوامی ٹیموں کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف پاکستان میں کرکٹ کے فروغ کا ثبوت ہے بلکہ ملک کے مثبت اور روشن تشخص کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کی ایک شاندار مثال بھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے