اسلام آباد سے نیویارک کے ہوائی سفر میں چارلی چپلن کی فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ میرے ساتھ والی سیٹ پہ پانچ سالہ بیٹا اور اس کا باپ یہ فلم دیکھ رہے تھے۔ فلم ختم ہوئی تو بچے نے رونا شروع ترین کہ مجھے یہ فلم پھر سے دیکھنی ہے۔ باپ نے مجھ سے اجازت لی اور پھر سے فلم لگا دی۔ اس دوران باپ نے چارلی چپلن کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ آج مہنگائی غربت کے شور نے مجھے یہ کالم لکھنے پر مجبور کیا۔ کبھی کبھی تاریخ کے بڑے نام محلوں میں پیدا نہیں ہوتے۔ وہ تنگ گلیوں، خالی جیبوں، بھوکے پیٹوں اور آنکھوں میں چھپے خوابوں سے جنم لیتے ہیں۔ چارلی چپلن بھی ایسی ہی ایک داستان کا نام ہے۔دنیا جس شخص کو دیکھ کر ہنستی تھی، اس کی اپنی زندگی میں ایسے دن بھی آئے جب روٹی ایک نعمت اور پیٹ بھر کھانا ایک خواب ہوتا تھا۔ آج چارلی چپلن کی تصویر دیکھتے ہی ہمارے چہروں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے، مگر بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس مسکراہٹ کے پیچھے غربت، تنہائی، محرومی اور مسلسل جدوجہد کی ایک طویل داستان چھپی ہوئی تھی۔چارلی چپلن 1889 میں لندن میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن آسائشوں میں نہیں بلکہ مشکلات میں گزرا۔ والدین کے گھریلو اور مالی مسائل نے کم عمری ہی میں انہیں زندگی کی تلخیوں سے آشنا کر دیا۔ ان کی والدہ ہنا چپلن خود ایک فنکارہ تھیں، مگر بیماری اور غربت نے خاندان کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا۔چپلن نے بہت چھوٹی عمر میں اسٹیج پر قدم رکھا۔ وہ عمر جس میں دوسرے بچے کھیلتے ہیں، چپلن روزگار تلاش کر رہے تھے۔ وہ عمر جس میں بچے والدین کی انگلی پکڑ کر دنیا دیکھتے ہیں، اس عمر میں چپلن زندگی کے بازار میں اپنی جگہ تلاش کر رہے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ بعد میں جب انہوں نے ایک غریب، بے سہارا اور بھٹکتے ہوئے انسان کا کردار تخلیق کیا تو وہ کردار محض اداکاری محسوس نہیں ہوتا تھا۔ وہ چپلن کی اپنی زندگی کا سچا عکس محسوس ہوتا تھا۔ 1914 میں فلمی دنیا میں ان کا سفر شروع ہوا۔ یہ خاموش فلموں کا زمانہ تھا۔ نہ مکالمے تھے، نہ جدید ٹیکنالوجی اور نہ آواز کا سہارا۔ صرف ایک چہرہ تھا،ایک چھڑی تھی، ایک چھوٹی سی ٹوپی تھی، بڑے بڑے جوتے تھے اور ایک عجیب و غریب چال تھی۔ پھر دنیا نے اس کردار کو پہچان لیا۔دی لیٹل ٹرنپ۔بظاہر ایک معمولی، غریب اور بے سہارا شخص، مگر دل کا بادشاہ۔ وہ بھوکا ہوتا تو بھی مسکراتا، مصیبت میں پھنس جاتا تو بھی کوئی راستہ نکال لیتا، طاقتور کے سامنے آتا تو اس کی کمزوری کو مزاح میں بدل دیتا اور جب دنیا اسے دھکیلتی تو وہ اپنی چھڑی گھماتا ہوا دوبارہ چل پڑتا۔یہ کردار دنیا کے کروڑوں غریبوں کا ایک خاموش نمائندہ بن گیا۔چپلن کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ غربت کا مذاق نہیں اڑاتے تھے وہ غربت میں بھی انسان کی عزت تلاش کرتے تھے۔ ان کی فلموں میں ہنسی ضرور تھی، مگر اس ہنسی کے پیچھے آنسو بھی ہوا کرتے تھے۔اس دی گڈ میں بچے اور ایک غریب آدمی کا رشتہ ہمیں بتاتا ہے کہ خاندان ہمیشہ خون کے رشتوں سے نہیں بنتا، کبھی محبت بھی رشتہ بن جاتی ہے۔ سٹی لائٹس میں خاموشی کے باوجود جذبات بولتے ہیں۔ ایک غریب آدمی کی محبت دنیا کی دولت سے کہیں زیادہ قیمتی دکھائی دیتی ہیاسی طرح فلم ماڈرن ٹائم میں چپلن نے مشینی دور کے انسان کو دکھایا؛ وہ انسان جو فیکٹری کی رفتار میں کہیں خود کو انکی مشہور زمانہ فلم گریڈ ڈکٹیٹر بنی یہ صرف ایک کامیڈ فلم ہی نہیں تھی۔ یہ ایسے دور میں بنائی گئی جب دنیا جنگ، آمریت اور خوف کی لپیٹ میں تھی۔ چارلی چپلن نے کامیڈین کی حیثیت سے آمرانہ طاقت کا مذاق اڑانے اور انسانیت کی بات کرنے کی جرات کی۔ جس شخص نے ساری زندگی لوگوں کو ہنسایا تھا، اس نے ایک دن دنیا کے سامنے کھڑے ہو کر انسانیت کی بات کی۔یہ چپلن کے فن کا ایک اور رخ تھا۔ وہ صرف ہنسانا نہیں چاہتے تھے؛ وہ انسان کو انسان کے قریب لانا چاہتے تھے۔ان کی زندگی کا سب سے خوبصورت پہلو شاید یہی تھا کہ انہوں نے اپنی محرومی کو نفرت نہیں بننے دیا۔ غربت نے انہیں سخت دل نہیں بنایا۔ تنہائی نے انہیں انسانوں سے دور نہیں کیا۔ ماضی کے دکھوں نے انہیں دوسروں کے دکھ سے بے خبر نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے اپنے دکھ کو فن میں ڈھال دیا۔ یہی بڑے فنکار کی پہچان ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ دولت سے بڑے بنتے ہیں، بہت سے اقتدار سے بڑے بنتے ہیں، کچھ اپنے عہدے سے بڑے بنتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ اپنے فن سے بڑے ہوتے ہیں۔ چارلی چپلن انہی لوگوں میں شامل تھے۔1977 میں جب وہ دنیا سے رخصت ہوئے تو ایک فنکار چلا گیا، مگر ان کی چھوٹی سی ٹوپی،چھڑی، مونچھ اور مخصوص چال آج بھی زندہ ہے۔شاید اس لیے کہ چپلن نے صرف ایک کردار نہیں بنایا تھا؛ انہوں نے انسان کی امید کا کردار بنایا تھا۔ایک ایسا انسان جو گرتا ہے مگر دوبارہ اٹھتا ہے۔جو بھوکا ہوتا ہے مگر مسکراتا ہے۔جو دنیا کی سختیوں کے باوجود محبت کرنا نہیں چھوڑتا۔اور یہاں چارلی چپلن کی زندگی کا ایک پہلو ہمیں اسلامی تعلیمات کی طرف بھی لے جاتا ہے۔رسولِ اکرم ۖ نے فرمایا:اپنے بھائی کے چہرے پر تمہاری مسکراہٹ بھی تمہارے لیے صدقہ ہے ۔ اسلام کی کیا خوبصورت تعلیم ہے کہ ایک مسکراہٹ بھی صدقہ بن سکتی ہے۔کسی غم زدہ انسان کو مسکرانے کا موقع دینا، کسی مایوس شخص کو امید دینا، کسی پریشان انسان کو تسلی دینا اور کسی غریب کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا بھی انسانیت ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں لوگوں کے ساتھ اچھے برتا کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا اے لوگوں سے اچھی بات کہا کرو۔ قرآن ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اصل عزت اس کے مال و دولت میں نہیں:بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔فرمایا گیا ہے غربت کسی انسان کی توہین نہیں۔ غریب آدمی قابلِ تمسخر نہیں، قابلِ احترام ہے ہو سکتا ہے جس شخص کو دنیا معمولی سمجھ رہی ہو، اسکے دل میں انسانیت موجود ہو جو بڑے بڑے محلوں میں رہنے والوں کے پاس بھی نہیں ہوتی۔ چارلی چپلن کی زندگی ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ انسان اپنے دکھ کو دوسروں کے لیے خوشی میں تبدیل کر سکتا ہے۔ وہ خود بھوک اور محرومی سے گزرے، مگر دنیا کو ہنسی دی۔ وہ مشکلات میں پلے، مگر انسانیت سے محبت کا پیغام دیا۔وہ غربت کے قریب رہے، مگر غربت کو اپنی روح کی شکست نہیں بننے دیا۔ شاید اسی لیے چارلی چپلن آج بھی زندہ ہیں ۔ ان کی فلمیں صرف ہنسانے کیلئے نہیں دیکھی جاتیں، بلکہ اس لیے بھی دیکھی جاتی ہیں کہ ان میں ہمیں اپنا عکس نظر آتا ہے۔ ایک ایسا انسان جو زندگی کی دوڑ میں کبھی گرتا ہے، کبھی بھوکا رہتا ہے، کبھی تنہا ہوتا ہے، مگر پھر بھی اٹھتا ہے اور چل پڑتا ہے۔زندگی بھی شاید ایک خاموش فلم ہی تو ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس فلم کے مکالمے ہم خود لکھتے ہیں۔ اگر حالات آپ کو رونے پر مجبور کریں تو کسی اور کے چہرے پر مسکراہٹ بننے کی کوشش کریں۔اگر آپ نے غربت دیکھی ہے تو غریب کا مذاق نہ اڑائیں۔اگر آپ نے دکھ دیکھا ہے تو کسی دوسرے کے دکھ کو سمجھیں اور اگر اللہ نے آپ کو آسودگی دی ہے تو کسی محروم انسان کی عزتِ نفس نہ چھینیں کیونکہ ایک اچھا لفظ، ایک چھوٹی سی مدد اور ایک سچی مسکراہٹ کبھی کبھی کسی انسان کی پوری زندگی بدل سکتی ہے۔ مسکراہٹ صرف چہرے کی کیفیت نہیں، دل کی سخاوت بھی ہیاور شاید چارلی چپلن کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے غربت انسان کو چھوٹا نہیں کرتی، حالات انسان کو نہیں توڑتے اصل شکست اس وقت ہوتی ہے جب انسان امید، محبت اور مسکرانے کا حوصلہ کھو دے اور اسلام ہمیں اس سے بھی خوبصورت سبق دیتا ہے: ایک مسکراہٹ صدقہ ہے۔اس لیے مسکرائیے، کسی کا دل نہ توڑیے اور جہاں ممکن ہو، کسی کی زندگی میں آسانی پیدا کیجیے۔کانٹے نہیں پھول بکھیرنا سیکھیں،کیونکہ بعض اوقات انسان کے پاس دینے کیلئے دولت نہیں ہوتی، مگر پھولوں کی مسکراہٹ ہوتی ہے۔اور کبھی کبھی وہی مسکراہٹ کسی کیلئے دنیا کی سب سے بڑی دولت بن جاتی ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں