بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Saturday, 13 June 2026 | پاکستان: 28 ذوالحجۃ 1447

”کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ”

Wednesday, 15 April, 2026

تاریخ ہمیشہ ان قوتوں سے عبارت ہوتی ہے جو تصادم کے طوفان میں مکالمے کی شمع روشن کرتی ہیں جنگ کے دو متحارو فریقوں کو قائل کرکے مذاکرات کی میز پر بٹھانا کوئی معمولی کام نہیں اس کے لئے صرف سیاسی ارادرے کی نہیں بلکہ خلوص نیت اور کمال سفارت کاری کی ضرورت ہوتی ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دے مشرق وسطی کے صحرائوں سے اٹھنے والی جنگ کی چنگاریاں جب یورپ اور ایشیا کی معیشتوں کو اپنی لپیٹ میں لینے لگیں تو دنیا امن کی تلاش میں تھی اس بحران کے دوران پاکستان کی سول اور عسکری قیادت نے جس دور اندیشی کا ثبوت دیا وہ آنے والے وقتوں میں سٹریٹجک سٹڈیز کا حصہ بنے گا فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے پس پردہ رابطوں میں سے کچھ ریکارڈ کا حصہ بن چکے ہیںجب کبھی مورخ اس کی تفصیلات سے پردہ اٹھائے گا تو دنیا دنگ رہ جائے گی کہ پاکستان نے کس مہارت کے ساتھ ان شعلوں پر پانی ڈالا جو عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے تھے پاکستان نے ایک بار پھر دنیا کو دکھا دیا کہ وہ محض جغرافیائی طور پر ہی اہم نہیں بلکہ عالمی امن کا ایک ایسا ناگزیر ستون ہے جس کے بغیر خطے اور دنیا میں استحکام کا خواب ادھورا ہے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی دور اندیشی اور کمال سفارت کاری کی بدولت اسلام آج آج ایک ایسے ناگزیر سفارتی کوریڈور میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں سے گزرے بغیر عالمی امن کا سفر ممکن دکھائی نہیں دیتا امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز تک لانا پاکستان کی سفارتی صلاحیتوں کی معراج ہے مشرقِ وسطی میں جاری جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران نے 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد پہلی مرتبہ آمنے سامنے بیٹھ کر طویل مذاکرات کئے مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نمائندہ خصوصی سٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شریک ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا مذاکرات کے باقاعدہ آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کیلئے فریقین کے درمیان پیشرفت میں اپنی سہولت کاری کا عمل جاری رکھنے کا خواہاں ہے پاکستانی حکام کی موجودگی میں اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کا پہلا دور ڈھائی گھنٹے طویل رہا وائٹ ہاوس کے سینئر اہلکار کے مطابق امریکی وفد میں قومی سلامتی کے مشیر اینڈریو بیکر اور ایشیائی امور کے مشیر مائیکل وینس بھی شامل ہوئے جبکہ واشنگٹن ڈی سی سے معاونت کرنے والے دیگر ماہرین کے ساتھ مختلف معاملات پر امریکی ماہرین کی ٹیم بھی اسلام آباد میں موجود رہی ایرانی مذاکراتی وفد بھی 70 سے زائد ارکان پر مشتمل تھا جس میں ایران کے مرکزی بینک کے گورنر ڈاکٹر ناصر ہمتی سمیت تکنیکی ماہرین موجود تھے سربراہان کی سطح پر بات چیت کا پہلا دور ختم ہونے پر مختصر وقفے کے بعد تکنیکی ماہرین کی سطح پر مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہوا جو رات گئے تک جاری رہاجس میں دونوں فریقین کی جانب سے پیش کردہ مطالبات کے تکنیکی پہلووں کا جائزہ لیا گیا بعدازں معاملہ زیرِ بحث امور پر تحریری مسودوں کے تبادلے تک پہنچا پھر تیسرا دور شروع ہوا جس کے بارے میں ایرانی میڈیا نے کہا یہ امریکا کے ساتھ کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کا آخری موقع دکھائی دیتا ہے ایرانی حکومت کی انفارمیشن کونسل کے ترجمان محمد گلزاری کے مطابق جیسے جیسے سہ فریقی مذاکرات کا ماحول سنجیدہ ہوتا گیا بات چیت ماہرین کے مرحلے میں داخل ہو گئی جس کے بعد ایرانی وفد کی خصوصی کمیٹیوں کے بعض ارکان بھی مذاکرات میں شامل ہونے کے لیے روانہ پاکستان پہنچ گئے۔امریکہ اور ایران کے درمیان طویل مذاکرات کا سلسلہ کم و بیش21 گھنٹے جاری رہا تاہم فریقی کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچ سکے نائب امریکی صدر جے ڈی وینس نے مذاکرات کے بعد اسلام آباد میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ ہمارے ایران کے ساتھ طویل مذاکرات ہوئے ہیں لیکن بری خبر یہ ہے کہ ابھی تک حتمی معاہدے تک نہیں پہنچے اور یہ امریکا سے زیادہ ایران کیلئے بری خبر ہے انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں نیک نیتی کے ساتھ شرکت اور اپنی شرائط واضح طور پر پیش کی ہیں ایران نے امریکی شرائط تسلیم نہ کرنے کا انتخاب کیا کسی ڈیل کے بغیر ہم واپس امریکا جا رہے ہیں ایرانی وفد سے جوہری ہتھیاروں سے متعلق کوئی واضح عزم نہیں سنا ہمیں واضح اور مثبت تصدیق درکار ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا پریس بریفنگ کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بھی شکریہ ادا کیا بعدازاں نائب امریکی صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ اسلام آباد سے واپس امریکا روانہ ہوگئے قبل ازیں ایرانی حکومت نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ پاکستان کی ثالثی میں ایران امریکا مذاکرات 14گھنٹے بعد مکمل ہوگئے فریقین کے تکنیکی ماہرین اس وقت تحریری مسودوں کا تبادلہ کر رہے ہیں بعض اختلافات رہ گئے ہیں اس کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کی کامیابی کا دار و مدار امریکا کی جانب سے سنجیدگی اور نیک نیتی پر ہے، ایک ہی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچنے کی توقع نہیں کی جانی چاہئے ایک اور نکتہ مسائل اور حالات کی پیچیدگی تھی کچھ نئے موضوعات بھی ان مذاکرات میں شامل کیے گئے ہم سفارتی محاذ پر اپنے حقوق اور مفادات کے حصول کی جدوجہد جاری رکھیں گے انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں متعدد نکات پر اتفاق ہوا ہے تاہم دو تین اہم معاملات پر اختلاف رائے کے باعث جامع معاہدہ طے نہیں پا سکا ایران پاکستان اور خطے کے دیگر دوستوں کے درمیان رابطے اور مشاورت کا سلسلہ جاری رہے گا سفارت کاری کبھی ختم نہیں ہوتی یہ قومی مفادات کے تحفظ کا ایک ذریعہ ہے اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ہم مذاکرات کی میزبانی اور اس عمل کو آگے بڑھانے میں نیک نیتی پر مبنی کوششوں پر پاکستان کی حکومت اور اس کے گرم جوش اور باوقار عوام کے شکر گزار ہیں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ امید کرتے ہیں دونوں ملک خطے اور دنیا میں پائیدار امن اور خوشحالی کیلیے مثبت سوچ سے آگے بڑھیں گے دونوں ملکوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر مثبت ردعمل دیا یہ ضروری ہے دونوں ملک جنگ بندی جاری رکھنے کے عزم پر قائم رہیں پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں فریقین کا کسی حتمی معاہدے تک نہ پہنچنے کے باوجود مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق انتہائی خوش آئند ہے عرب میڈیا کے مطابق ایران کی سپریم نیشنل کونسل کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات 15 دن تک جاری رہ سکتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ وفود کے کچھ ارکان طویل قیام کر سکتے ہیں یا ہو سکتا ہے اگلے دور کے لئے پھر واپس آئیں وقت جتنا بھی لگ جائے نتیجہ خیر کی صورت میں نکلنا چاہیے امید یہی ہے کہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے قبل فریقین کسی نہ کسی حتمی معاہدے پر پہنچ جائیں گے ایران امریکہ کشیدگی کا خاتمہ عالمی امن اور معاشی استحکام کے لئے بھی ناگزیر ہے حالیہ چھ ہفتوں کی جنگ نے توانائی کی قیمتوں پر جو اثرات مرتب کئے اس سے عالمی سطح پر اس سوچ کو تقویت ملی ہے کہ جنگ انسانوں کے مستقبل کے لئے بے پایاں خطرہ ہے یہ احساس مغرب اور مشرق میں یکساں موجود ہے یہی وجہ ہے کہ یورپی ممالک نے شروع دن اس جنگ سے دامن بچائے رکھا جبکہ امریکہ کے دیگر اتحادیوں میں سے کوئی بھی جنگ کے پھیلا میں دلچسپی نہیں رکھتا بطور ثالث پاکستان دنیا کے امن کو یقینی بنانے کے لئے جو کچھ کرسکتا تھا وہ کر چکا ہے اور آئندہ بھی خطے میں پائیدار امن کیلئے فریقین کے درمیان پیشرفت میں اپنی سہولت کاری کا عمل جاری رکھنے کا خواہاں ہے اب امریکہ اور ایران دونوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اپنی انائوں کے خول سے باہر نکل کر دنیا بھر کے امن کے لئے سوچیں یہی دونوں ممالک کے عوام بھی چاہتے ہیں امریکہ سپر پاور سہی مگر جنگیں اس کی معیشت پر بھی بھاری پڑتی ہیں مہنگائی میں اضافہ عوام کے لئے ناقابل برداشت ہوجاتا ہے اس جنگ کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے امریکی عوام کو دو سال کی بلند ترین مہنگائی کا سامنا ہے اس صورت حال کے سیاسی اثرات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا الغرض اب کسی بھی لحاذ سے اس جنگ کا جواز نہیں بنتا لہذا اس بکھیڑے کو جتنا جلد ہوسکے سمیٹنے میں ہی دونوں ملکوں کے ساتھ ساتھ دنیا کی بھلائی ہے امریکہ اور ایران دونوں کو اس جنگ کو ختم کرکے نئی شروعات کرنی چاہیے اور یہ ناممکنات میں سے نہیں پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے اسلام آباد مذاکرات کے ذریعے اس کے لئے زمین ہموار کردی ہے اب یہ دونوں ملکوں قیادت پر منحصر ہے کہ وہ اس سے کتنا فائدہ اٹھاتی ہے۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں