بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 26.3°C
Friday, 12 June 2026 | پاکستان: 27 ذوالحجۃ 1447

آئی ایم ایف معاہدہ ،معاشی ابتری کے خاتمے کی امید

Thursday, 6 July, 2023

آئی ایم ایف سے ہونے والے نئے معاہدے کے بعد ملک کے معاشی طور پر ڈیفالٹ کر جانے کا خطرہ ٹل گیا ہے اور الحمد اللہ اب دن بدن ملکی معیشت ترقی کی جانب گامزن ہوتی دکھائی دے گی اور اندرون ملک آنے والے مہنگائی کے طوفان میں بتدریج کمی واقع ہوگی ، آئی ایم ایف کے ساتھ کئے جانے والے معاہدے کو کامیاب بنانے میں نہ صرف ملک کی پوری سیاسی قیادت بلکہ افواج پاکستان کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے نہایت لگن کے ساتھ محنت کی جس کا نتیجہ معاہدے کے ہوجانے کی صورت میں نکلا، سابقہ حکومت نے جاتے جاتے اس اہم ادارے کے ساتھ کئے جانے والے معاہدے کو توڑ کر ملک کو معاشی گرداب کی جانب دھکیلا تھا ، ان کا خیال تھا کہ معاشی دلدل میں پھنس کر موجودہ حکومت ناکام ہوجائے گی اور بڑی مشکل سے چند ماہ نکال پائے گی مگر الحمد اللہ موجودہ حکومت نے نہایت خلوص، لگن اور محنت کے ساتھ ملک کو ایک بار پھر معاشی ترقی کی راہ پر ڈالا ہے ، ساٹھ کی دہائی میں پاکستان معاشی ٹائیگر بننے کی جانب گامزن تھا مگر 65اور 71کی پاک بھارت جنگوں نے ملک پر برے معاشی اثرات ڈالے اور ہماری معیشت تنزلی کی جانب جاتی رہی ، نواز شریف جب پہلی بار اقتدار سنبھالا تو انہوں نے ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے دوست ممالک کے ساتھ مل کر ترقی کا ایک نیا سفر شروع کیا اور بیرونی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر راغب کیا مگر ان کی حکومتوں کو مدت پوری نہیں کرنے دی گئی اور یوں بار بار حکومتوں کے ٹوٹنے سے معیشت جب ٹیک آف کرنے لگتی تھی تو اچانک اسے گرادیا جاتا تھا ، رہی سہی کسر امریکا افغان جنگ اور عمران خان کی حکومت نے نکال دی مگر اب ہم پر امید ہیں کہ موجودہ حکومت ملک میں ایک بار پھر معاشی بہتری لائے گی اور بے یقینی کی فضا ختم ہوجائے گی ، اسی حوالے سے گزشتہ روز اسلام آباد میں سی پیک منصوبے کے 10 سال مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ10 سال قبل پاکستان مسلم لیگ ن نے 2013 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور چین کے سابق وزیراعظم پاکستان آئے جن سے میں نے اپنے قائد کے ہمراہ ملاقات کی، چینی وزیراعظم نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو چین آنے کی دعوت دی اور اس طرح سی پیک کے سفر کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد بیجنگ میں مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی یاددگار تقریب ہوئی، ان 10 برسوں میں نواز شریف کی قیادت میں سی پیک نے رفتار پکڑی جو کبھی پاکستان کی معاشی تاریخ میں کبھی نہیں سنی گئی تھی۔ چینی صدر اور وزیراعظم کی مکمل حمایت سے ہم نے پاکستان کی سرزمین کو نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر سب سے تیزی سے بدلتے ہوئے دیکھا، ہم نے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر، ہائیڈل پاور منصوبوں، اورنج لائن، روڈ انفرا اسٹرکچر کے منصوبے مکمل کیے۔ ہزاروں چینی انجینیئرز اور ورکرز کے ساتھ ساتھ پاکستانی انجینیئرز اور ورکرز نے دن رات کام کیا اور ریکارڈ قائم کیے گئے۔آئی ایم ایف معاہدے کی پاسداری کریں گے معاہدے سے اب پاکستان کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ دور دور تک نہیں ہے ، گزشتہ حکومت نے آئی ایم ایف معاہدے کے دھجیاں اڑائیں، آئی ایف معاہدے سے پاکستان کو اب آگے بڑھنے کا موقع ملے گا،محنت کر کے ملک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنا ہے، گزشتہ حکومت نے سی پیک پر کام کی رفتار کو سست کردیا تھا ہم نئے عزم کے ساتھ منصوبے کا آگے بڑھائےں گے۔ سی پیک کے دشمن پاکستان اور خطے میں ترقی، امن اور خوش حالی کے دشمن ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ ہمارے عوام کو غربت سے نجات ملے،بھارت کو سی پیک کے راستے میں رکاوٹ بننے کے بجائے اس کے ثمرات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں معیشت کے بحالی اور سرمایہ کاری سے متعلق اقدامات پر اظہار اطمینان کیا گیا، وزیر اعظم نے غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے اقدامات میں تیزی لانے کی ہدایت کر دی۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کونسل کو غیر ملکی سرمایہ کاری سے متعلق مواقع تلاش کرنے کی بھی ہدایت کی، کونسل اور صوبائی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی، شرکا کو غیر ملکی دوروں اور ملاقاتوں پر بھی اعتماد میں لیا گیا، وزیر اعظم شہباز شریف نے معیشت کی بہتری کیلئے آرمی چیف کے کردار کی تعریف کی۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اتحادی حکومت کو ورثے میں تباہ حال معیشت ملی، مشکل اور دلیرانہ فیصلے ملک کو تعمیر و ترقی کی طرف واپس لا رہے ہیں، ابھی بہت بڑے چیلنجز ہمارے سامنے ہیں، معاشی بحالی کیلئے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کلیدی حیثیت رکھتی ہے، موثر عمل درآمد کیلئے وفاق اور صوبوں میں شراکت داری کا انداز اپنایا جائے گا۔ سرمایہ کار اولین ترجیح، اشتراک عمل کے ذریعے منصوبوں کی منظوری کا عمل تیز کیا جائے، ہمیں مل کر اپنی بھرپور صلاحیتوں سے کام کرنا ہوگا، ہم پاکستان اور عوام کا مقدر بدل سکتے ہیں، مسلسل محنت سے ملک و قوم کو ترقی اور خوش حالی کے راستے پر گامزن رکھنا ہوگا، عوام کو معاشی ترقی اور خوش حالی سے ہم کنار کریں گے۔غیر ملکی سرمایہ کاری سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، نوجوانوں اور خواتین کو روزگار ملے گا، ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی، ہماری توجہ نوجوانوں اور خواتین کو صلاحیتوں کے بل بوتے پر با اختیار بنانا ہے۔
لاہور میں بارش سے ہونے والی تباہی لمحہ فکریہ
بغیر پلاننگ کی جب بستیاں آباد ہوتی ہیں تو پھر آسمانی آفات قیامت ڈھا دیتی ہیں ، گزشتہ روز کی بارش نے یہی کچھ لاہور کے ساتھ بھی کیا ، لاہو ر میں ہونے والی بارش نے نہ صرف 30سالہ ریکارڈ بھی توڑا بلکہ اس کے نتیجے میں 9قیمتیں جانیں بھی ضائع ہوگئیں ، این ڈی ایم اے ، پی ڈی ایم اے ، واسا اور لاہور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کے تمام اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے ، اخباری اطلاعات کے مطابقشہر میں بارش کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، 10گھنٹوں میں 291 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ مختلف حادثات میں 9 افراد جاں بحق ہوئے۔تفصیلات کے مطابق صبح چار بجے سے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے باعث لاہور شہر ڈوب گیا، شہر کی اہم شاہراہوں پر پانی جمع ہوگیا۔شہر بھر کے درجن سے زائد علاقوں میں 200 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ ہوئی جبکہ گزشتہ سال 2022 میں لاہور میں 238 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔کمشنر لاہور محمد علی رندھاوا نے بتایا کہ اس سے قبل 2018 میں لاہور میں 288 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی، گزشتہ 30 سالوں میں لاہور میں اتنے کم وقت میں اتنی بارش نہیں ہوئی۔ایم ڈی واسا غفران احمد کا کہنا تھا کہ بارش تھمنے کے چند گھنٹوں میں ہی تمام نشیبی علاقے کلیئر کر دیے جائیں گے، سسٹم اپنی مکمل استعداد پر نکاسی آب کو ممکن بنا رہا ہے۔بارش کے بعد شہر کے پوش و نشیبی علاقوں میں نکاسی آب کے مسائل دیکھے جا رہے ہیں جبکہ سڑکوں سے واسا کا عملہ بھی غائب ہوگیا۔اب تک سب سے زیادہ بارش لکشمی چوک میں 290 ملی میٹر ریکارڈ ہوئی۔ جیل روڈ پر 147 ملی میٹر، ایئرپورٹ پر 130 ملی میٹر، ہیڈ آفس گلبرگ میں 210، اپر مال میں 199، مغلپورہ میں 220، تاجپورہ میں 225، نشتر ٹاون میں 240، چوک نا خدا میں 205 اور جوہر ٹاو ¿ن میں 235 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔اسی طرح، پانی والا تالاب میں 250، فرخ آباد میں 205، گلشن راوی میں 270، اقبال ٹاون میں 235، سمن آباد میں 169 ملی میٹر اور قرطبہ چوک میں 269 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔
شمالی وزیر ستان میں چیک پوسٹ پر حملہ
دہشتگردی کیخلاف جاری جنگ میں ہماری بہاد ر افواج دہشتگردوں کے مقابلوں میں سینہ سپر ہے اور اپنی جانوں کی نظرانے پیش کرتی چلی آرہی ہیں ، گزشتہ روزشمالی وزیرستان کے ضلع میران شاہ کے علاقے میں ایک گاڑی میں سوار خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں 3 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں نائب صوبیدار صاحب خان ، نائیک محمد ابراہیم اور سپاہی جہانگیر خان شہید جبکہ تین بے گناہ شہری شدید زخمی ہوئے۔ خودکش حملہ آور کا مقصد سیکیورٹی فورسز کی چوکی کو نشانہ بنانا تھا تاہم ڈیوٹی پر موجود سپاہیوں کی جانب سے شبے کی بنا پر خودکش حملہ آور کو بروقت پکڑنے سے بڑی تباہی ٹل گئی۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں