بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 19.3°C
Tuesday, 29 September 2026 | پاکستان: 18 ر بیع الثانی 1448

آر ایل این جی کی درآمد میں عارضی وقفہ

Tuesday, 29 September, 2026

خلیجی خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے والی موجودہ جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں پیدا ہونیوالا حالیہ بحران، خوش قسمتی سے پاکستان کی معیشت کیلئے ویسا تباہ کن ثابت نہیں ہو رہا جیسا کہ 2022 اور 2008 کے بحرانوں کے دوران ہوا تھا۔مالیاتی پہلو سے صورتحال سنبھلی ہوئی ہے کیونکہ حکومت قیمتوں میں اضافے کا بوجھ مکمل طور پر صارفین پر منتقل کر رہی ہے اور ساتھ ہی مکمل لیوی بھی وصول کر رہی ہے۔مزید برآں قطر سے آر ایل این جی کی فراہمی کا تعطل بھی ایک طرح سے’چھپی ہوئی نعمت’ثابت ہو رہا ہے۔تجارتی خسارے میں جو بھی اضافہ ہو رہا ہے،اسے بیرونِ ملک سے آنیوالی ترسیلاتِ زر اور خدمات کی برآمدات میں اضافے کے ذریعے بخوبی متوازن کیا جا رہا ہے جس سے کرنٹ اکانٹ کی صورتحال تسلی بخش بنی ہوئی ہے ۔ اصل مسئلہ اشیا کی برآمدات میں جمود ہے،جہاں کوئی نیا نمایاں شعبہ سامنے نہیں آ رہا۔برآمدات میں جو بھی اضافہ نظر آتا ہے،وہ حکومت کی جانب سے فراہم کردہ مالیاتی اور مانیٹری مراعات کا نتیجہ ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ چاہے ٹیکسٹائل کا شعبہ ہو یا کوئی اور، برآمدات حکومتی سہارے کے بغیر بڑھنے میں ناکام ہیں۔یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔مرکزی بینک کے کرنٹ اکائونٹ سے متعلق اعداد و شمار کی بنیاد پر،یہاں جنگ کے چھ ماہ کا تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے۔حیرت انگیز طور پر،برینٹ آئل کی قیمتیں اوسطا 99 ڈالر فی بیرل رہنے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس سے بھی زیادہ ہونے کے باوجودکرنٹ اکانٹ میں مجموعی طور پر 49 ملین ڈالر کا معمولی سرپلس ریکارڈ کیا گیا ۔ اس کے برعکس 2025 کی اسی مدت میں، جب تیل کی قیمتیں اوسطا 69 ڈالر فی بیرل تھیں،سرپلس 586 ملین ڈالر رہا تھا۔مارچ تا اگست 2026 کے دوران اشیا کی درآمدات 34.3 ارب ڈالر رہیں،جن کا ماہانہ اوسط 5.7 ارب ڈالر رہا؛یہ گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہے۔یہ کارکردگی بری نہیں ہے،خاص طور پر اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ تیل کی قیمتوں میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اس سے بھی بلند سطح پر ہیں ۔ درآمدات میں کم اضافے کی ایک وجہ آر ایل این جی کی کم درآمدات ہیں،جو قیمتوں میں اضافے کے باوجود نصف رہ گئی ہیں۔اس کی وجہ ہمارے طویل مدتی معاہدے کے سپلائر، ‘ قطر انرجی کی جانب سے’فورس میجرکا اعلان ہے۔یہ صورتحال ایک طرح سے’چھپی ہوئی نعمت’ ثابت ہوئی ہے کیونکہ ہمارا معاہدہ ماہانہ 10 کارگوخریدنے کا ہے جبکہ طلب اس سطح کے نصف کے قریب ہے ۔گزشتہ چھ ماہ کے دوران ہمیں سامان کا ایک تہائی سے بھی کم حصہ موصول ہوا،جس کے نتیجے میں درآمدی بل کم رہا۔رسد میں اس کمی کا اثر محدود رہا۔اگر رسد معمول کے مطابق ہوتی تو بلند قیمتوں کے پیشِ نظر درآمدی بل 1.5 ارب ڈالر زیادہ ہو سکتا تھا۔اس طرح، 1.5ارب ڈالر کی بچت کی بنیادی وجہ آر ایل این جی کی فراہمی میں کی گئی کٹوتی ہے ۔ دوسری جانب،مارچ سے اگست کے دوران پیٹرولیم کی درآمدات میں 19 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ تاہم یہ بل 2022 کے بحران کے اسی عرصے کے مقابلے میں اب بھی 25 فیصد کم ہے۔اس کی ایک وجہ تیل کی بلند قیمتوں کا بوجھ صارفین پر منتقل کرنے کے باعث طلب میں کمی ہے ۔ دوسری وجہ گزشتہ چار سالوں کے دوران شمسی توانائی اور دیگر قابلِ تجدید ذرائع کے وسیع پیمانے پر استعمال کی بدولت زراعت اور بیک اپ بجلی کی پیداوار میں ڈیزل کی طلب میں کمی ہے۔خلیجی بحران کے تناظر میں درمیانی سے طویل مدت کیلئے تشویش کی بات ان معیشتوں میں ممکنہ سست روی اور اس کے نتیجے میں کارکنوں کی طلب میں کمی ہے۔اس کا براہِ راست اثر پاکستان کی ترسیلاتِ زر پر پڑ سکتا ہے،جن میں سے نصف سے زیادہ جی سی سی ممالک سے آتی ہیں ۔ تاہم ایک بلند سطح سے بھی رقوم کی آمد میں اضافہ جاری ہے۔مارچ سے اگست 2026 کے دوران ان میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ ایک اور مثبت پہلووہ رقم ہے جو جی سی سی ممالک،خاص طور پر متحدہ عرب امارات سے واپس آ رہی ہے یا وہاں نہیں جا رہی۔اس کا اندازہ ہنڈی حوالہ مارکیٹ میں’نیگیٹو اسپریڈسے ہوتا ہے ، جس کا مطلب ہے کہ گرے مارکیٹ میں رقوم کی خالص آمد ہو رہی ہے ۔ مزید برآں،بہت سے لوگ شاید جی سی سی ممالک میں جمع شدہ اپنی بچت وطن واپس بھیج رہے ہیں ۔ تیسرا عنصر خدمات کی برآمدات کی شاندار کارکردگی ہے،جن میں مارچ سے اگست کے دوران 23 فیصد اضافہ ہوا ہے،جبکہ خدمات کی تجارت کا خسارہ کم ہو کر ایک تہائی رہ گیا ہے۔بہتر ترسیلاتِ زر اور خدمات کی برآمدات کی ایک وجہ کم ٹیکس ہے۔پاکستان میں مقیم پیشہ ور افراد کیلئے فری لانسر کے طور پر کام کرنے میں ترغیب موجود ہے،کیونکہ ایسا کرنے سے ٹیکس میں 30 فیصد سے زیادہ فائدہ ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ،کم ٹیکس کی وجہ سے کچھ ایسے معاملات بھی ہو سکتے ہیں جہاں اشیا کی برآمدات کو خدمات کی برآمدات یا ترسیلاتِ زر کے طور پر ظاہر کیا جا رہا ہو۔ایف بی آر کو اس معاملے کا جائزہ لینا چاہیے اور ان آمدنیوں پر معمولی ٹیکس لگانا شروع کرنا چاہیے تاکہ باضابطہ مقامی کارکنوں اور فری لانسرز کے درمیان فرق کو کم کیا جا سکے۔بہر حال اہم بات یہ ہے کہ تیل کی قیمتوں کی وجہ سے معاشی کمزوری کم ہو رہی ہے،اور قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے استعمال کی بدولت توانائی کے مسائل کسی حد تک کم ہوئے ہیں۔یہ اقدامات بحران کو تو ٹال سکتے ہیں لیکن شاید معاشی ترقی کا پہیہ تیزی سے نہیں گھما سکیں گے کیونکہ اس سلسلے میں’ٹیکس اصلاحات’کا عنصر ابھی غائب ہے۔
نگرانی کے دائرہ کار میں توسیع
پنجاب کی جانب سے اپنے ڈیجیٹل نگرانی کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے فیصلے کو سراہا جانا چاہیے۔تاہم،سوال یہ ہے کہ حکومت اس بڑے پیمانے پر جمع کئے جانیوالے ڈیٹا کا کیا کرتی ہے ۔ 98 تحصیلوں تک توسیع سے یہ نیٹ ورک اپنے موجودہ شہری دائرہ کار سے کہیں آگے نکل جائیگا۔موجودہ نیٹ ورک میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹ خودکار شناخت، چہروں کی شناخت،ویڈیو اینالیٹکس اور جرائم کے نمونوں کے تجزیے جیسے نظام استعمال کیے جاتے ہیں۔اس کے ممکنہ فوائد بہت زیادہ ہیں۔نگرانی پولیس کے ردعمل کو بہتر بنا سکتی ہے،مشتبہ افراد اور چوری شدہ گاڑیوں کی شناخت میں مدد دے سکتی ہے،ڈیجیٹل شواہد فراہم کر سکتی ہے،جرائم کے نمونوں کی نقشہ سازی کر سکتی ہے اور پولیسنگ کے محدود وسائل کو موثر طریقے سے استعمال کرنے کی سہولت دے سکتی ہے ۔ یہ ٹریفک کے انتظام اور خواتین کی حفاظت و جرائم کی رپورٹنگ پر ردعمل کو بھی بہتر بنا سکتا ہے ۔ لیکن صرف کیمرے ہی شہروں کو محفوظ نہیں بناتے۔ایسا لگتا ہے کہ حکومت ہارڈویئر میں تو بہت تیزی سے توسیع کر رہی ہے لیکن ڈیٹا کو انٹیلی جنس میں تبدیل کرنے کی ادارہ جاتی صلاحیت اس رفتار سے تیار نہیں کر رہی۔یہیں پر اس منصوبے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پنجاب کیمروں ، ہنگامی کالوں،ٹریفک سسٹمز،پولیس ریکارڈز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ممکنہ طور پر قیمتی ڈیٹا کا ایک وسیع سلسلہ حاصل کر رہا ہے۔تاہم،اس بات کا بہت کم عوامی ثبوت موجود ہے کہ جرائم کی وجوہات،نمونوں اور جغرافیائی محل وقوع کو سمجھنے کیلئے اس معلومات کو منظم طریقے سے یکجا اور تجزیہ کیا جا رہا ہے۔سنگین جرائم میں 70 فیصد کمی کی اطلاعات حوصلہ افزا ہیںلیکن ایسے دعوئوں کی آزادانہ تصدیق کی ضرورت ہے۔کیمروں کے دائرہ کار میں آنیوالے علاقوں میں رپورٹ ہونیوالے واقعات میں کمی بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ نگرانی ہی اس کمی کا سبب بنی ۔ اصل موقع اس نیٹ ورک کو محض نگرانی کے منصوبے کے طور پر دیکھنے کے بجائے عوامی تحفظ کے انٹیلی جنس نظام کے طور پر استعمال کرنے میں مضمر ہے۔ڈیٹا کو پولیس کی تفتیش،استغاثہ اور عدالتی فیصلوں کے ساتھ مربوط کیا جانا چاہیے۔اس سے یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ مقدمات کیوں ناکام ہوتے ہیں،تفتیش کہاں تعطل کا شکار ہوتی ہے اور پولیسنگ کے کون سے اقدامات موثر ثابت ہوتے ہیں۔ذاتی ڈیٹا تک رسائی،اسے محفوظ رکھنے،اس کے اشتراک اور استعمال سے متعلق قواعد و ضوابط کا ہونا ضروری ہو جاتا ہے۔چہروں کی شناخت اور دیگر مصنوعی ذہانت کے ٹولز اندھا دھند نگرانی کا لائسنس نہیں بننے چاہئیں۔حساس ڈیٹا تک رسائی کا ریکارڈ رکھا جانا چاہیے اور اس کا آڈٹ ہونا چاہیے،نیز غلط استعمال کی صورت میں سزائیں مقرر ہونی چاہئیں۔یہ ٹیکنالوجی پولیسنگ کے نظام کو بہتر بنا سکتی ہے، لیکن صرف اس صورت میں جب حکام اس سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے درکار تجزیاتی صلاحیت،احتساب اور ادارہ جاتی نظم و ضبط پیدا کریں۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *