بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 29.4°C
Wednesday, 01 July 2026 | پاکستان: 16 محرم 1448

آپریشن سندور میں 6 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف

Wednesday, 1 July, 2026

بھارت نے آپریشن سندور کے دوران ہلاک ہونے والی چھ فوجیوں کی ہلاکتوں کا 14 ماہ بعد سرکاری طور پر اعتراف کرتے ہوئے ان کے نام نیشنل وار میموریل کے رول اف انر میں شامل کر دیئے ہیں۔ بھارتی حکومت کی جانب سے جن 6 اہلکاروں کے نام ظاہر کیے گئے ہیں، ان میں صوبیدار میجر پون کمار (ان کا تعلق اسی 10 انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر سے ہے جسے پاکستان نے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا) ، رائفل مین سنیل کمار ، لانس نائک دنیش کمار ، ایوی ایشن ٹیکنیشن مود مرلی نائیک ، حوالدار سنیل کمار سنگھ اور سارجنٹ سریندر کمار ( جو ادھم پور میں ہلاک ہوئے اور انہیں وایو میڈل سے نوازا گیا) شامل ہیں۔معرکہ حق کے تناظر میں مودی حکومت کی جانب سے پہلی بار بھارتی فوجی ہلاکتوں کے اعتراف کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔معرکہ حق میڈیا کی آنکھوں سے فتح کی داستان، ڈاکومنٹری عالمی میڈیا کے منظرنامہ کی عکاسی کرتی ہے۔ معرکہ حق میں بھارت کوعبرتناک شکست ہوئی اور مودی حکومت نے پہلی بار فوجی اموات کا باضابطہ اعتراف کیا ہے۔مودی حکومت کے اس عمل پر بھارتی اپوزیشن سمیت بھارتی صحافیوں اور عوام نے سوالات اٹھا دیئے ۔ بھارت کے ڈی جی ایم او نے 11 مئی 2025 کو پریس کانفرنس میں پانچ فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔جولائی 2025 میں بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے پارلیمان میں کسی بھی قسم کے نقصان نہ ہونے کا بیان جاری کیا تھا۔بھارتی پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے اپنے پریس ریلیز میں راجناتھ سنگھ کے پارلیمان کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کیا گیا۔پریس انفارمیشن بیورو ڈیفنس ونگ کو جھوٹ چھپانے کیلئے پریس ریلیز کے ذریعے وضاحت دینی پڑی۔ بھارتی سرکار کو اب ایک جھوٹ چھپانے کیلئے اب ہزار جھوٹ بولنے پڑ رہے ہیں۔بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع نے فوجی نقصان چھپا کر قوم سے جھوٹ کیوں بولاہے۔ حالیہ اعلان میں گزشتہ سال فوجی اعزاز حاصل کرنے والے بھارتی بی ایس ایف جوانوں دیپک اور رام بابو سنگھ کے نام ہی شامل نہیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق مودی نے اپنی سیاسی ساکھ بچانے کیلئے آپریشن سندور میں ہونیوالی شکست اور فوجی اموات پر 13 ماہ تک پردہ ڈالے رکھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کے صرف چھ ہی فوجی آپریشن سندور میں مارے گئے یا تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ حکومتی سطح پر مسلسل جھوٹ کے ذریعے شکست کے دعووں کو مسترد کرنے والی مودی سرکار آئندہ مزید نقصانات کا بھی اعتراف کریگی جو سرکار محض جھوٹ اور بیانیے پر چل رہی ہو اس کا عالمی سطح پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا ۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارتی حکومت سیاسی مفادات کی خاطر طویل عرصے تک اپنے ہی فوجیوں کی قربانی اور فوجی نقصانات کو عوام سے چھپاتی رہی، تاہم فوجیوں کے ورثا کے مسلسل دباؤ اور شدید احتجاج کے بعد بالآخر مودی حکومت ان ناموں کو نیشنل وار میموریل کے ‘ رول آف آنر’ میں شامل کرنے پر مجبور ہو گئی، اس اعتراف نے پاکستانی مؤقف کی سچائی پر سرکاری مہر ثبت کر دی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان نے ادھم پور میں بھارت کے جدید ترین ایس 400 میزائل شکن سسٹم کی بیٹری کو بھی تباہ کیا تھا، جس کی تباہی کی تردید بھارت اپنی عوام کو دھوکا دینے کیلئے کرتا رہا تاہم اب سیٹلائٹ تصاویر اور خود بھارت کے اپنے ریکارڈز تصدیق کر رہے ہیں کہ یہ اہم فارورڈ بیس مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا۔اس کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس آپریشن کے دوران پاکستان نے بھارت کے انتہائی مہنگے اور جدید ترین رافیل ، میراج 2000 اور متعدد دیگر لڑاکا طیاروں کو مار گرایا تھا۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اب خفت مٹانے کیلئے اپنے بھاری نقصانات کو مرحلہ وار سامنے لا رہا ہے۔بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے آپریشن سندورمیں ہزیمت چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے کہاکہ آنیوالے چیلنجز مختلف ہوں گے، ہمیں پچھلے سندورکو بھول کراب اگلے سندور کی تیاری کرنی چاہیے ۔ بھارتی چیف آف اسٹاف کا شکست کا ذمے دار ٹیکنالوجی کو ٹھیرانااور نئی ٹیکنالوجی کو واحد حل قرار دیناہرگزحقیقت پسندانہ موقف نہیں۔بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کا اپنی خفت مٹانے کیلئے ٹرائی سروسز ہم آہنگی بہتر بنانے کی بات کرنا، دراصل شکست کا برملا اعتراف ہے۔ماہرین کے مطابق نئے سندور کی بات دراصل اس امر کی غمازی ہے کہ ماضی کی شکست اور ہزیمت کو پس پردہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ان بیانات سے واضح ہے کہ بھارت نے آپریشن سندورکی شکست سے کوئی سبق نہیں سیکھا جبکہ کسی بھی مہم جوئی کاجواب پاکستان کی جانب سے انتہائی سخت، موثراور فیصلہ کن ہوگا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *