پاک افغان سرحد آج ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ پشاور، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتے ہوئے حملے، فضائی کارروائیاں، اور ہلاکتیں عوام کے لیے سوالیہ نشان بن چکی ہیں: یہ دہشت گردی کہاں سے آ رہی ہے؟ آج ہم اسے افغانستان کی سرپرستی قرار دیتے ہیں، مگر حقیقت کہیں زیادہ پیچیدہ اور تاریک ہے۔ اصل کہانی یہ ہے کہ آج جنہیں ہم "دہشت گرد” کہتے ہیں، ان میں سے اکثر کل امریکی سی آئی اے کے "مجاہدین” تھے۔ اور آج کی کشیدگی، جو امریکہ اور چین کی اسٹریٹجک پالیسیوں، ٹی ٹی پی کے بڑھتے حملے، اور طالبان کے اثرات سے جڑی ہے، اسی تاریخی دھاگے کا تسلسل ہے۔ 1970 کی دہائی تک کابل ایک خوشحال، کھلا اور ترقی پذیر شہر تھا۔ یہاں خواتین یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہی تھیں، نوجوان جدید علوم سے آراستہ ہو رہے تھے، اور کابل یونیورسٹی پورے خطے کے لیے کشش رکھتی تھی۔ پاکستانی طلبہ بھی یہاں اسکالرشپس پر آتے تھے۔ کابل واقعی "سنٹرل ایشیا کا پیرس” کہلاتا تھا، جہاں مغربی طرز زندگی اور مقامی روایات کا حسین امتزاج موجود تھا۔محمد ظاہر شاہ کے طویل اور مستحکم دور (1933–1973) نے جمہوری اصلاحات، تعلیم اور معیشت میں استحکام فراہم کیا۔ مگر 1973 میں محمد داؤد خان نے بادشاہت کا خاتمہ کیا، اور سیاست میں وہی ہلچل شروع ہو گئی جو بعد میں پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے گئی۔ داؤد خان کے دور میں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی، اور داخلی سیاست میں سوویت یونین کی بڑھتی ہوئی رسائی نے ماحول مزید پیچیدہ بنا دیا۔1978 میں ثور انقلاب نے افغانستان کی سیاست کو مکمل طور پر بدل دیا۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کے رہنما نور محمد ترہ کئی اور حفیظ اللہ امین اقتدار میں آئے اور کچھ اصلاحات نافذ کیں۔ یہ اصلاحات، زمینوں سے متعلق، خواتین کے حقوق، قبائلی نظام کی کمزوری، شدت اور جبر کے ساتھ نافذ کی گئیں۔ اس کے نتیجے میں اچانک مذہبی اور قبائلی طبقات میں شدید ردعمل پیدا ہوا اور مسلح مزاحمت شروع ہو گئی اور دیکھا دیکھی اس کے اثرات بڑھتے گئے یہاں تک کہ اس کے اثرات پاکستان تک پھیل گئے اور پشاور اس کا ایک مرکزی نیٹ ورک بن گیا۔ ابتدا میں یہ افغان پناہ گزینوں کی پناہ گاہ تھی، مگر جلد ہی یہاں سے کابل حکومت کے خلاف مسلح کارروائیاں اور سازشیں شروع ہو گئیں۔ اور پھر گلبدین حکمت یار، برہان الدین ربانی ، صبغت اللہ مجددی، سید علی گیلانی، محمد نبی محمدی اور عبدالرب رسول سیاف جیسے رہنما یہاں سے اپنی تحریکیں چلا رہے تھے۔یہاں کے مخصوص عناصرنے ان گروہوں کو تربیت، پناہ اور اسلحہ فراہم کیا، جبکہ سی آئی اے نے مالی اور عسکری مدد فراہم کی تاکہ سوویت یونین کا راستہ روکا جا سکے۔ سعودی عرب نے مالی امداد اور مذہبی بیانیہ فراہم کیا، جس سے “جہاد” کا بیانیہ ایک عالمی تحریک میں بدل گیا۔ اسی دوران افغانستان کی مزاحمت کو ”افغان جہاد“ کا نام دیا گیا اور لڑنے والوں کو مجاہدین قرار دیا گیا۔ اردو، پشتو اور عربی میں لٹریچر شائع ہوا، اور جو لوگ اس جنگ کو جہاد کی بجائے فساد قرار دیتے تھے، ان کے خلاف سخت فتوے جاری کیے گئے۔ اس دوران پیپلز ڈیمو کرٹیک پارٹی آف افغانستان کے رہنما ڈاکٹر نجیب اللہ کا بیہمانہ قتل ہوا۔ یہ قتل نہ صرف افغان عوام کیلئے المناک تھا بلکہ پاکستان میں بھی کئی حلقوں نے خوشی کا اظہار کیا، جشن منایا اور مٹھائیاں، حلوہ تقسیم کیا گیا۔ اس واقعے نے واضح کیا کہ افغانستان کی داخلی کشیدگی کس طرح پاکستان میں سیاسی رجحانات اور ردعمل پیدا کرتی ہے مگر سوویت یونین کے انخلا کے بعد افغانستان خانہ جنگی میں الجھ گیا۔ مجاہدین گروپس آپس میں لڑنے لگے اور پاکستان نے طالبان کو جنم دیا۔ 11 ستمبر 2001 کے حملے اسی تاریخی دھاگے کا نتیجہ تھے، جب وہ بیس سال پہلے تخلیق کئے گئے نیٹ ورک نے عالمی سطح پر دہشت گردی کی شکل اختیار کر لی۔2001 کے بعد امریکہ افغانستان میں داخل ہوا اور 2021 تک موجود رہا۔ جب امریکہ نے افغانستان سے انخلا کیا، تو پاکستان میں خوشی کے شادیانے بجائے گئے اور ایک بار پھر، لڈو، مٹھائیاں اور حلوہ کے دیگ تقسیم کئے گئے، اور طالبان حکومت کو خوش آمدید کہا گیا، گویا امریکہ کو شکست دی گئی ہے۔ مگر یہ خوشی عارضی تھی، کیونکہ خطے کی پیچیدگی اور دہشت گرد نیٹ ورک موجود رہے یاد رہے کہ اس وقت حلوہ تقسیم کرنے والے وہی تھے جنہوں نے بھٹو کی پھانسی پر بھی حلوہ کے دیگیں تقسیم کی تھی اور خوب حلوہ کھایا گیا تھا خوشی میں۔امریکی سی ئی اے کا شروع کردہ افغان جہاد کے اثرات ج ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر ہے ہیں ملک میں دہشت گردی فتنہ اور فساد ہے اور اس وقت پاک افغان سرحد پر فائرنگ اور دھماکے معمول بن چکے ہیں، اور تحریک طالبان پاکستان کے حملے بڑھ رہے ہیں۔ افغانستان کی غیر مستحکم سیاست، پشاور نیٹ ورک، اور بیرونی مداخلت آج بھی خطے کو ہلا رہی ہے۔ دہشت گردی صرف تاریخی مسئلہ نہیں، بلکہ کرنٹ افئیر کا اہم عنصر ہے، جو پاکستان اور افغانستان دونوں پر اثر ڈال رہا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے توامریکہ اور چین کے درمیان نئی جغرافیائی کشیدگی نے افغانستان کو ایک نیا محاذ بنایا ہے۔ پاک افغان سرحد پر بڑھتی دہشت گردی، بلوچستان میں امریکی مفادات اور معدنی ذخائر کی حفاظت، اور سی پیک کے راستے میں رکاوٹیں، سب اسی عالمی اور تاریخی کھیل کا حصہ ہیں۔ پاکستان اور افغانستان دونوں اس کھیل میں گھاس کی طرح روندے جا رہے ہیں۔تازہ ترین واقعات یہ بتاتے ہیں کہ دہشت گردی کا مقابلہ صرف عسکری کارروائیوں سے ممکن نہیں۔ بنیادی امن، استحکام اور سیاسی حل ہی واحد راستہ ہیں۔ ماضی سے سبق حاصل کرتے ہوئے ہمیں امریکی عزائم سے بچنا ہوگا اور چین کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری برقرار رکھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ اوریہ حقیقت کہ جو پہاڑوں میں چھپے ہیں وہ پکے دہشت گرد ہیں اور جو ان پہاڑوں میں دہشت گردی کے بیج بو کر چلے گئے وہ ان سے بھی برے دہشت گرد ہیں۔

