دنیا میں میزائلوں، ڈرونز اور بارود کی گھن گرج نے صرف سرحدیں نہیں بدلیں، عالمی نظام کے ان اصولوں کو بھی آزمائش میں ڈال دیا ہے جنہیں دوسری جنگِ عظیم کے بعد امن کی بنیاد سمجھا گیا تھا۔ ایسے وقت میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی آواز کو ایک قومی مقف کی پیش کش سمجھنا شاید اس بحث کے اصل پہلو سے صرفِ نظر ہوگا۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب طاقت قانون پر غالب آنے لگے تو اقوام متحدہ اپنے وجود کے بنیادی مقصد کو کس طرح زندہ رکھے گا، اور پاکستان جیسے ممالک اس بدلتی ہوئی دنیا میں اپنی سفارت کاری کو کس طرح نتیجہ خیز بنا سکتے ہیں؟
وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب کا بنیادی حوالہ یہی تھا کہ جنگ کسی مسئلے کا آخری حل نہیں، مذاکرات اور سفارت کاری ہی پائیدار امن کی طرف جانے کا راستہ ہیں۔ کشمیر اور فلسطین سے لے کر مشرقِ وسطی کی کشیدگی، پانی کے تنازع، دہشت گردی اور عالمی معاشی عدم مساوات تک پاکستان نے اپنے مقف کو ایک ہی بڑے اصول سے جوڑنے کی کوشش کی: بین الاقوامی قانون اگر سب کے لیے ہے تو اس کا اطلاق بھی سب پر یکساں ہونا چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تقریر ایک سفارتی مقدمے میں تبدیل ہوتی ہے۔
کشمیر کے بارے میں پاکستان کا مقف نیا نہیں، مگر اس کی سفارتی معنویت ہر دور کے عالمی حالات کے ساتھ نئے سوالات پیدا کرتی ہے۔ اگر حقِ خودارادیت، اقوام متحدہ کی قراردادیں اور بین الاقوامی قانون عالمی نظام کے تسلیم شدہ اصول ہیں تو ان اصولوں کی عملی حیثیت بھی دکھائی دینی چاہیے۔ فلسطین کا معاملہ بھی اسی کسوٹی پر آتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ پاکستان نے عالمی ضمیر کو پکارا؛ اب دیکھنا یہ ہیکہ عالمی ادارے ان اپیلوں کو عملی سفارتی دباؤ اور قابلِ عمل اقدامات میں کس حد تک بدل سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ ایک ایسا ادارہ جو تنازعات کے خاتمے، عالمی امن اور بین الاقوامی قانون کے احترام کے لیے قائم ہوا، مگر وہ اپنے ہی فیصلوں پر عمل درآمد نہ کرا سکتا تو اس کی قراردادیں اخلاقی اپیل تو رہ سکتی ہیں، مثر عالمی قانون کا احساس پیدا نہیں کر سکتیں۔ دنیا کو ایک ایسے اقوام متحدہ کی ضرورت ہے جو صرف بحران پر اجلاس نہ بلائے بلکہ اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کی موثر صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ ویٹو کے سیاسی تعطل، طاقتور ریاستوں کے مختلف معیارات اور طویل عرصے تک حل طلب رہنے والے تنازعات نے اس ادارے کی ساکھ کے بارے میں سنجیدہ سوالات پیدا کیے ہیں۔ اس لیے پاکستان کا مقف صرف اپنے مسائل کے حل تک محدود نہیں ہونا چاہیے؛ اسے اقوام متحدہ کو مثر، نمائندہ اور قابلِ عمل عالمی ادارہ بنانے کی بحث کا حصہ بھی بننا چاہیے۔اس تناظر میں وزیراعظم کی سائیڈ لائن ملاقاتیں زیادہ اہم دکھائی دیتی ہیں۔ ایران کے صدر سے ملاقات میں کشیدگی کم کرنے، مسلسل سفارتی رابطے اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی بات ہوئی، جبکہ ایرانی قیادت نے پاکستان کی علاقائی امن کے لیے کوششوں کو سراہا۔ یہ پاکستان کے لیے سفارتی اعتراف نہیں؛ اس میں ایک ممکنہ کردار کی بنیاد موجود ہیایسا ملک جو تنازع کا حصہ ہونے کے باوجود مکالمے کے دروازے کھلے رکھنے میں کردار ادا کر سکے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات میں بھی کثیرالجہتی نظام اور عالمی امن میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار پر زور دیا گیا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوام متحدہ بھی پاکستان کی ان کوششوں کو جہاں پاکستان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات آگے بڑھانے یا فریقین کے درمیان رابطے کا راستہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے، وہاں عالمی ادارہ ان کوششوں کو تسلیم اور ممکنہ طور پر سہولت فراہم کرے۔ اگر اقوام متحدہ امن کے لیے دستیاب ہر سنجیدہ سفارتی راستے کو استعمال کرے تو اس کے اپنے کردار کی معنویت بھی بڑھ سکتی ہے ۔ پاکستان کے لیے اس سفارتی سرگرمی کا دوسرا سوال براہِ راست قومی مفاد سے جڑا ہے: آخر اس سب سے پاکستان کو کیا حاصل ہوگا؟ جواب صرف یہ نہیں ہوسکتا کہ دنیا نے پاکستان کا مقف سن لیا۔ حقیقی فائدہ تب ہوگا جب سیاسی سفارت کاری معاشی اور تزویراتی نتائج پیدا کرے؛ علاقائی کشیدگی میں کمی سے تجارت اور سرمایہ کاری کے راستے کھلیں، عالمی طاقتوں کے ساتھ پاکستان کے رابطے وسیع ہوں، توانائی اور علاقائی تجارت کے امکانات بہتر ہوں اور ملک کو بحرانوں سے متاثر ہونے والی ریاست کے بجائے بحرانوں کے حل میں حصہ لینے والے فریق کے طور پر دیکھا جائے۔یورپی یونین کے ساتھ ملاقات میں جی ایس پی پلس، تجارت اور اقتصادی شراکت داری پر توجہ اسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ سفارت کاری کا آخری پیمانہ قومی معیشت سے الگ نہیں۔ اسی طرح آئی ایم ایف کے ساتھ رابطہ اس حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی قوت اس کی معاشی بنیاد سے وابستہ ہے۔ معاشی استحکام کے بغیر عالمی سفارت کاری میں حاصل ہونے والی گنجائش دیرپا نہیں ہوسکتی۔یہاں پاکستان کے لیے ایک اور اہم سبق بھی ہے۔ اصولی مقف ضروری ہے، مگر اصول کو نتیجے میں بدلنے کے لیے مستقل سفارتی حکمتِ عملی درکار ہوتی ہے۔ کشمیر کا مقدمہ ہو یا فلسطین، پانی کا مسئلہ ہو یا علاقائی سلامتی ہر معاملے پر پاکستان کو صرف ردعمل دینے کے بجائے طویل المدت سفارتی اتحاد، قانونی تیاری، اقتصادی شراکت داری اور مسلسل رابطوں کا ایسا نظام بنانا ہوگا جس سے اس کی آواز اجلاس ختم ہونے کے بعد بھی سنائی دیتی رہے۔نیویارک کی اس سرگرمی کا اصل حاصل بھی یہی ہونا چاہیے۔ پاکستان کو عالمی طاقتوں سے حمایت کے بیانات نہیں، عملی شراکت داری درکار ہے؛ اقوام متحدہ سے صرف قراردادیں نہیں، ان پر عمل درآمد کا مثر نظام درکار ہے؛ اور اپنی سفارت کاری سے ایسے نتائج درکار ہیں جو پاکستان کے امن، معیشت اور علاقائی استحکام کے لیے قابلِ محسوس فائدہ پیدا کریں۔ پاکستان کی سفارت کاری کا اصل امتحان یہ نہیں کہ اقوام متحدہ میں اس نے اپنا مقدمہ کتنی مثر زبان میں پیش کیا، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس آواز کو کتنی دیرپا حمایت اور عملی نتائج میں تبدیل کر پاتا ہے۔ اگر پاکستان امن کے لیے اپنے کردار کو مسلسل اورموثر بناتا ہے اور اقوام متحدہ ان کوششوں کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کی صلاحیت مضبوط کرتا ہے تو نیویارک کی یہ آواز ایک تقریر نہیں رہے گی؛ یہ اس عالمی نظام کی ضرورت کی یاد دہانی بن سکتی ہے جس میں طاقتور کی مرضی نہیں، قانون کی بالادستی امن کی بنیاد ہو۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں