بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 22.9°C
Friday, 23 October 2026 | پاکستان: 13 جمادی الاول 1448
امریکی سفارتخانے کی جانب سے اسلام آباد میں پہلی شاہکار فنکار نمائش کا افتتاح

امریکی سفارتخانے کی جانب سے اسلام آباد میں پہلی شاہکار فنکار نمائش کا افتتاح

Friday, 23 October, 2026

اسلام آباد: امریکی سفارتخانے، یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجوکیشنل فاؤنڈیشن ان پاکستان یعنی یو ایس ای ایف پی اور پاکستان یو ایس ایلومنائی نیٹ ورک کی جانب سے بائیس اکتوبرکو اسلام آباد میں یو ایس ای ایف پی کی عمارت میں قائم کی گئی نئی گیلری میں پہلی شاہکار فنکار ایلومنائی آرٹسٹ نمائش کا افتتاح کیا گیا۔ مذکورہ گیلری کے قیام کا مقصد فنون لطیفہ کے شعبے میں امریکی حکومت کے تبادلہ پروگراموں کے سابق شرکاء کی کامیابیوں کو اجاگر کرنا ہے۔

گیلری میں منعقد کی جانے والی پہلی انفرادی نمائش لاہور سے تعلق رکھنے والی آرٹسٹ مینا ہارون کے فن پاروں پر مشتمل ہے۔ وہ ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کے ایک تبادلہ پروگرام کی سابق شریک ہیں۔ مینا ہارون نے اپنی والدہ کے زیورات سے آغاز کرتے ہوئے وراثت میں ملنے والے زیورات اور آرائشی اشیاء کو اپنے فن پاروں میں یادوں، شناخت اور خاندانی تسلسل کی علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس نمائش کا افتتاح امریکی تعلیمی اور تبادلہ پروگراموں کی کئی دہائیوں پر محیط تاریخ کا مظہر ہے۔ علاوہ ازیں یہ نمائش ایک ایسی سابق شریک کو نمایاں کرتی ہے جن کی کامیابیاں امریکہ اور پاکستان کی باہمی شراکت داری کی عکاس ہیں۔

افتتاحی تقریب میں امریکی محکمہ خارجہ کے مندوبین، سترنگ گیلری کی ڈائریکٹر اور نمائش کی پروگرام ایڈوائزر عاصمہ راشد خان، نمائش کی کیوریٹر سارہ راجپر سمیت فنون لطیفہ کے شعبے سے وابستہ شخصیات، تبادلہ پروگراموں کے سابق شرکاء اور سفارتی حلقوں کے ارکان نے شرکت کی۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سفارتخانہ پاکستان کی ڈائریکٹر پبلک انگیجمنٹ ہائیڈی اسمتھ نے کہا کہ کئی دہائیوں سے جاری تعلیمی اور ثقافتی تبادلہ پروگرام امریکی اور پاکستانی شہریوں کو تعلیم، جدت اور تخلیق کے شعبوں میں شراکت دار کے طور پر قریب لانے کا ذریعہ ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مینا ہارون کا کام ظاہر کرتا ہے کہ تبادلہ پروگرام کا تجربہ کس طرح کسی فنکار کے تصور کو نکھارتا اور دونوں ممالک کے درمیان روابط کو مضبوط بناتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشن آزادی کے موقع پر تبادلہ پروگراموں کے سابق شرکاء پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات کے اگلے باب کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس موقع پر ہائیڈی اسمتھ نے مینا ہارون کو ان کی فنی مہارت اور کامیابیوں کے اعتراف میں تعریفی سند بھی پیش کی۔واضح رہے کہ مینا ہارون ایک ویژوئل آرٹسٹ ہیں اور لاہور آرٹس کونسل میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر فائن آرٹس خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے اپریل ۲۰۲۴ میں امریکی حکومت کے زیر اہتمام کلچرل پریزرویشن پروفیشنل ایکسچینج پروگرام کے تحت بطور وزیٹنگ اسکالر امریکہ کا دورہ کیا۔ اس حوالے سے مینا ہارون کا کہنا ہے کہ تبادلہ پروگرام میں شرکت نے ثقافتی ورثے سے متعلق ان کی سوچ کو مزید گہرائی بخشی۔ ان کے بقول عجائب گھروں اور نمائشی گیلریوں کے دوروں میں انہوں نے مشاہدہ کیا کہ تاریخ اور روایات کو مختلف طریقوں سے کس طرح محفوظ کیا جاتا ہے۔

ان کی تشریح کی جاتی ہے اور انہیں آگے منتقل کیا جاتا ہے۔یو ایس ای ایف پی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر پیٹر کے موران نے اپنے تحریری پیغام میں کہا کہ ایک ثقافتی اور تعلیمی تبادلہ پروگرام ہمارے روزمرہ معمولات کو بدل دیتا ہے۔ اس میں شرکت کے بعد ہم مانوس نشانات کو نئے زاویے سے دیکھنا شروع کرتے ہیں اور ہمارے تصور کا افق نہ صرف علامتی بلکہ عملی طور پر بھی تبدیل ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی تبدیلی اور خیالات، اشکال اور افق کے تبادلے کو سمجھنے کے لیے فن سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے امریکی محکمہ خارجہ کے تبادلہ پروگراموں کے سابق شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ فنکار دنیا کو دیکھنے اور پرکھنے کے اپنے انداز کا اظہار کرتے ہیں اور ہمیں اپنے نقطہ نظر پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں۔اٹلس نقشے دیکھیں

افتتاحی تقریب میں اسلام آباد کی کمپنی ہولا ڈیجیٹل پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے یو ایس ای ایف پی کی عمارت کی بیرونی دیوار پر مینا ہارون کے فن پاروں کی تھری ڈی پروجیکشن بھی پیش کی گئی۔ اسی کمپنی نے چار جولائی کو امریکہ کے ڈھائی سو سالہ جشن آزادی کے موقع پر پاکستان مونومنٹ اور شاہی قلعہ لاہور پر بھی پروجیکشنز پیش کی تھیں۔نمائش ۲۰ نومبر تک اسلام آباد میں یو ایس ای ایف پی کی عمارت میں عوام کے لیے جاری رہے گی۔ شائقین پیر سے جمعہ تک صبح ساڑھے دس بجے سے شام پانچ بجے تک نمائش دیکھ سکتے ہیں۔ ۲۰۲۷ میں تبادلہ پروگراموں کے مزید تین سابق شرکاء کے فن پارے یو ایس ای ایف پی گیلری میں انفرادی نمائشوں میں پیش کیے جائیں گے۔یاد رہے کہ ۱۹۵۰ میں یو ایس ای ایف پی کے قیام سے اب تک ہزاروں پاکستانی اور امریکی اس کے تعلیمی اور تحقیقی تبادلہ پروگراموں میں حصہ لے چکے ہیں۔

 

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *