بین الاقوامی سیاست میں بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو صرف دو ممالک کے درمیان تعلقات کی نوعیت تبدیل نہیں کرتے پورے خطے اور بعض اوقات دنیا کی سمت کا تعین بھی کرتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد امن معاہدے کی جانب پیش رفت بھی ایسا ہی تاریخی موقع قرار دی جا سکتی ہے۔ برسوں سے جاری بداعتمادی، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور عسکری تنا نے مشرق وسطی کو عدم استحکام سے دوچار رکھا اور عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ اب جنیوا میں مجوزہ معاہدے پر باضابطہ دستخط ہونے کے بعد اسے بلاشبہ اکیسویں صدی کی اہم ترین سفارتی کامیابیوں میں شمار کیا جائے گا۔اس پیش رفت سے جہاں مخالف فریق مذاکرات کی میز تک پہنچے ہیں وھاں ایک ایسے تنازعے کے خاتمے کی راہ ہموار ہو رہی ہے جس کے اثرات خلیج فارس سے لیکر یورپ اور ایشیا تک محسوس کیے جاتے رہے ہیں۔ جنگ اور کشیدگی کے ماحول نے عالمی معیشت کو بارہا غیر یقینی صورتحال سے دوچار کیا، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھا پیدا کیا اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا لیکن امن معاہدے کی خبر سامنے آتے ہی عالمی منڈیوں نے مثبت ردعمل دیا، تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی اور اسٹاک مارکیٹوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے۔اس تمام عمل میں پاکستان کا کردار خصوصی اہمیت کا حامل رہا ۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان نے خاموش مگر موثر سفارت کاری کے ذریعے فریقین کے درمیان رابطوں، اعتماد سازی اور مذاکراتی ماحول پیدا کرنے میں اپنا حصہ ڈالا۔ پاکستان کی قیادت نے ایک ایسے وقت میں متوازن اور ذمہ دارانہ سفارتی رویہ اختیار کیا جب خطہ مسلسل کشیدگی کی لپیٹ میں تھا اور کسی بھی غلط فیصلے کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے سیاسی سطح پر مسلسل رابطوں اور سفارتی کوششوں کی قیادت کی۔ متعدد عالمی رہنماں کے ساتھ مشاورت اور رابطوں کے ذریعے پاکستان کا مقف اجاگر کیا کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں ، مذاکرات اور سفارت کاری میں پوشیدہ ہے۔ حکومت نے امن کی حمایت کی اور پاکستان کو ایسے ذمہ دار ریاستی کردار کے طور پر پیش کیا جو تصادم کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دیتا ہے۔چیف آف آرمی سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار بھی اس پوری پیش رفت میں اہمیت کا حامل رہا۔ علاقائی سلامتی کی پیچیدہ صورتحال، مختلف فریقوں کے ساتھ روابط اور خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے مقف کو مثر انداز میں پیش کرنے میں عسکری قیادت نے بھی اہم ذمہ داریاں ادا کیں۔جس وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کا کردار زیادہ سنجیدگی سے دیکھا گیا۔تاہم امن عمل کی کامیابی میں مصر، عمان، قطر ، سوئٹزرلینڈ اور متعدد یورپی ممالک نے بھی مختلف مراحل پر اہم کردار ادا کیا۔امن معاہدے کے ممکنہ نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔ مشرق وسطی میں استحکام پیدا ہونے سے توانائی کی منڈیاں زیادہ متوازن ، تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے بھی یہ پیش رفت اطمینان کا باعث ہوگی کیونکہ خطے میں امن براہ راست روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے تسلسل سے جڑا ہوا ہے۔ پاکستان کیایران اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ اگر خطے میں پائیدار استحکام قائم رہتا ہے تو توانائی، تجارت، ٹرانزٹ اور علاقائی رابطہ کاری کے متعدد منصوبے نئی رفتار حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ تمام عوامل پاکستان سمیت پورے خطے کی اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں ۔ پاکستان نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سفارت کاری میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔عالمی برادری نے پاکستان کی سفارتی اہمیت کو تسلیم کیا ہے اور یہ اعتراف کسی بھی ملک کیلئے ایک بڑی کامیابی سے کم نہیں۔ پاکستان کیلئے ایک بڑا چیلنج ابھی باقی ہے ۔ سفارتی کامیابیاں قومی وقار میں اضافہ ضرور کرتی ہیں لیکن پائیدار طاقت کا سرچشمہ مضبوط معیشت ہوتی ہے۔ پاکستان نے جہاں سفارتی محاذ پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے، وہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اسی اعتماد اور وژن کو معاشی میدان میں بھی بروئے کار لایا جائے۔ توانائی، صنعت، برآمدات، سرمایہ کاری اور اقتصادی اصلاحات کے ذریعے ملک کو حقیقی معاشی استحکام کی طرف لے جانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔آج پاکستان کے پاس موقع موجود ہے کہ وہ اپنی سفارتی کامیابیوں کو اقتصادی ترقی کی بنیاد بنائے۔ اگر قومی قیادت اسی یکسوئی، ہم آہنگی اور دوراندیشی کے ساتھ معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پاکستان خطے میں مثر سفارتی قوت اور مضبوط خود اعتماد معاشی طاقت کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔ یہ وہ منزل ہے جو قومی خودمختاری، عوامی خوشحالی اور عالمی وقار کی حقیقی ضمانت بن سکتی ہے۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں