بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 31.5°C
Tuesday, 30 June 2026 | پاکستان: 15 محرم 1448

ایران۔امریکہ مفاہمت اور پاکستان کا کردار

Monday, 29 June, 2026

مشرقِ وسطیٰ کئی دہائیوں سے عالمی سیاست کا مرکز رہا ہے۔ اس خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی نہ صرف علاقائی ممالک بلکہ پوری دنیا کے سیاسی، اقتصادی اور تزویراتی مفادات کو متاثر کرتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری اختلافات، جو جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور سلامتی کے معاملات کے گرد گھومتے ہیں، بین الاقوامی سیاست کے اہم ترین موضوعات میں شمار ہوتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک مرتبہ پھر دنیا کو ایک بڑے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔اگرچہ جنگی حالات میں مختلف فریق اپنی کامیابی اور نقصان کے بارے میں متضاد دعوے کرتے ہیں، تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی نے پورے خطے میں بے یقینی کی فضا پیدا کی۔ امریکہ کی شمولیت اور خطے میں موجود اس کے فوجی اڈوں کو لاحق خطرات نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کیا۔ جنگ کے دوران خلیجی ریاستوں، بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز کی سلامتی سے متعلق خدشات نے عالمی معیشت کو براہِ راست متاثر کیا۔آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم سمندری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس آبی راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے بلکہ عالمی سپلائی چین کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے اختیار کیے گئے سخت مقف نے عالمی برادری کو متبادل سفارتی راستے تلاش کرنے پر مجبور کیا۔ توانائی کی عالمی منڈی میں بے چینی، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھا اور عالمی معیشت کے ممکنہ بحران نے بڑی طاقتوں کو احساس دلایا کہ اس تنازعے کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ایسے نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنے سفارتی کردار کو موثر انداز میں استعمال کیا۔ پاکستان ہمیشہ سے امتِ مسلمہ کے اتحاد، علاقائی استحکام اور تنازعات کے پرامن حل کا داعی رہا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں میں علاقائی امن، باہمی احترام اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کا حل شامل رہا ہے۔حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے نہایت متوازن سفارت کاری کا مظاہرہ کیا۔ ایک جانب پاکستان نے ایران کے ساتھ اپنے تاریخی، مذہبی اور جغرافیائی تعلقات کو مدنظر رکھا، تو دوسری جانب سعودی عرب، خلیجی ممالک اور امریکہ کے ساتھ اپنے سفارتی روابط کو بھی موثر انداز میں استعمال کیا۔ اسلام آباد کی یہ کوشش رہی کہ تنازع مزید نہ بڑھے اور خطہ ایک وسیع جنگ کی لپیٹ میں نہ آئے۔پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے کشیدگی میں کمی لانے کی کوشش کی۔ سفارتی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پاکستان نے ایران اور عرب ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان نے اس امر پر زور دیا کہ خطے میں کسی بھی نئی جنگ کے نتائج نہ صرف مشرقِ وسطی بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کسی مفاہمتی یادداشت یا جنگ بندی کے معاہدے کی راہ ہموار ہوئی ہے، تو یہ عالمی سفارت کاری کی کامیابی کے ساتھ ساتھ ان ممالک کی بھی کامیابی ہے جنہوں نے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے پر اصرار کیا۔ پاکستان کا کردار اسی تناظر میں اہمیت اختیار کرتا ہے۔ پاکستان کی مسلسل کوششوں نے یہ ثابت کیا کہ درمیانے درجے کی ریاستیں بھی مثبت سفارت کاری کے ذریعے عالمی امن میں موثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔کسی بھی ممکنہ مفاہمت کے اقتصادی فوائد بھی انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی آتی ہے، منجمد مالی وسائل تک رسائی حاصل ہوتی ہے اور تیل کی برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے، تو اس کے مثبت اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ اقتصادی استحکام سیاسی استحکام کو فروغ دیتا ہے، جبکہ معاشی تعاون تنازعات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔پاکستان اور ایران کے درمیان اقتصادی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ دونوں ممالک طویل سرحد، ثقافتی قربت اور مشترکہ اقتصادی مفادات رکھتے ہیں۔ ایران ۔ پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ، سرحدی تجارت، توانائی کے شعبے میں تعاون اور علاقائی راہداریوں کی ترقی ایسے شعبے ہیں جو دونوں ممالک کو قریب لا سکتے ہیں۔ اگر خطے میں پائیدار امن قائم ہوتا ہے تو پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔اسی طرح چین پاکستان اقتصادی راہداری اور ایران کی بندرگاہی صلاحیتوں کے درمیان ممکنہ تعاون پورے خطے کو اقتصادی ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کر سکتا ہے۔ علاقائی روابط، تجارتی راہداریوں اور توانائی کے منصوبوں سے نہ صرف پاکستان اور ایران بلکہ وسطی ایشیا، مشرقِ وسطی اور جنوبی ایشیا کے ممالک بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔علاقائی سلامتی کے تناظر میں بھی نئی صف بندیوں پر بحث جاری ہے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ مستقبل میں پاکستان، ایران، ترکی، سعودی عرب، قطر اور مصر جیسے ممالک کے درمیان دفاعی اور تذویراتی تعاون میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ تاہم ایسی کسی بھی ممکنہ شراکت داری کی کامیابی کا انحصار باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور سیاسی عزم پر ہوگا۔ خطے کے ممالک کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ باہمی تنازعات اور پراکسی جنگوں کے بجائے اقتصادی تعاون اور علاقائی انضمام ہی ترقی کا راستہ ہے۔ اس تناظر میں پاکستان ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب، ترکی، چین اور مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات اسے ایک منفرد سفارتی حیثیت عطا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان مستقبل میں بھی علاقائی تنازعات کے حل اور اعتماد سازی کے عمل میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ دنیا اس وقت جن چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، ان میں جنگ، دہشت گردی، موسمیاتی تبدیلی، غربت اور اقتصادی عدم مساوات سرفہرست ہیں۔ ایسے حالات میں جنگوں کے بجائے مذاکرات، تصادم کے بجائے تعاون اور دشمنی کے بجائے شراکت داری ہی انسانیت کیلئے بہتر راستہ ہے۔ پاکستان کی امن دوست پالیسی اور سفارتی کوششیں اس امر کی مظہر ہیں کہ عالمی اور علاقائی امن صرف عسکری طاقت سے نہیں بلکہ دانشمندانہ سفارت کاری، مکالمے اور باہمی احترام سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر خطے کے ممالک اس راستے کو اختیار کرتے ہیں تو نہ صرف مشرقِ وسطی بلکہ پوری دنیا ایک زیادہ محفوظ، مستحکم اور خوشحال مستقبل کی جانب گامزن ہو سکتی ہے۔ بلاشبہ، اگر پاکستان مستقبل میں بھی اسی متوازن اور فعال سفارتی کردار کو جاری رکھتا ہے تو تاریخ اسے ایک ایسی ریاست کے طور پر یاد رکھے گی جس نے کشیدگی کے دور میں امن، استحکام اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *