ایک جانب بھارت اورافغانستان اپنی مکروہ سازشوں کے ذریعے پورے خطے میں بدامنی کو فروخت دینے پر آمادہ ہیں۔اسی تناظر میں یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال محض داخلی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے ایک سنجیدہ خطرے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی حالیہ پابندیوں سے متعلق نگرانی رپورٹس میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ افغان طالبان کی حکومت تاحال کسی بھی بڑی دہشت گرد تنظیم کو مؤثر طور پر ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان تنظیموں میں تحریکِ طالبان پاکستان اور داعش خراسان سرفہرست ہیں، جو افغانستان کی سرزمین کو اپنی سرگرمیوں کیلئے بدستور استعمال کر رہی ہیں۔سفارتی ماہرین کے بقول طالبان حکومت کے یہ دعوے کہ افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔افغانستان کے مختلف صوبوں میں خوارج گروہوں کی موجودگی، آزادانہ نقل و حرکت اور تنظیم نو اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ افغانستان میںریاستی رِٹ کمزور اور عملداری محدود ہے۔ یہی حالات ان خوارجیوں کیلئے ایک محفوظ ماحول فراہم کر رہا ہے، جہاں وہ بغیر کسی مؤثر مزاحمت کے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔اس تناظر میں ایک نہایت ٩تشویشناک پہلو یہ سامنے آ رہا ہے کہ پاکستان میں کارروائیوں کے دباؤ کے بعد داعش خراسان کے کئی جنگجو افغانستان منتقل ہوئے۔ ان ٩٩٩میں سے بعض نے مقامی سطح پر ہتھیار ڈالنے کا دعویٰ کیا، جبکہ کئی عناصر عام شہری آبادی میں گم ہو گئے۔ اگرچہ افغان طالبان کی جانب ٩سے کچھ گرفتاریوں کا اعلان کیا گیا، تاہم شفاف رپورٹنگ کے فقدان اور آزاد ذرائع کی عدم دستیابی کے باعث یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان عناصر کا اصل انجام کیا ہوا۔سلامتی ذرائع کے مطابق انہی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے داعش خراسان کے متعدد ہتھیار ڈالنے والے اور فرار ہونیوالے عناصر نے افغانستان میں تحریکِ طالبان پاکستان کے ساتھ روابط قائم کیے۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ ٹی ٹی پی کی اعلیٰ قیادت نے داعش خراسان کے جنگجوؤں کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہی حکمتِ عملی داعش خراسان کے کمزور اور دباؤ کا شکار عناصر کیلئے ایک محفوظ راستہ فراہم کر رہی ہے۔ نظریاتی مماثلت، مشترکہ دشمن اور عملی مفادات کی بنیاد پر دونوں تنظیموں کے درمیان ایک غیر اعلانیہ مفاہمت بنتی دکھائی دے رہی ہے۔اس مفاہمت کے نتیجے میں داعش خراسان کے عناصر نہ صرف ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں میں پناہ حاصل کر رہے ہیں بلکہ اس کے نیٹ ورک کا حصہ بن کر اپنی بقا بھی یقینی بنا رہے ہیں۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی جانب سے داعش خراسان کے خلاف سخت آپریشنز کے بعد کئی جنگجوؤں نے یا تو ہتھیار ڈال دیے یا اپنی شناخت تبدیل کر کے دیگر شدت پسند گروہوں میں شمولیت اختیار کر لی۔البتہ افغان سرزمین پر موجود غیر منظم اور نیم خودمختار علاقوں میں یہ عمل نسبتاً آسان ہے، جہاں نگرانی کا نظام کمزور اور قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر مؤثر ہیں ۔ انہی علاقوں میں ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور دیگر گروہ آزادانہ طور پر بھرتیاں کرتے اور اپنی صفیں مضبوط کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ مبصرین کے مطابق داعش خراسان کے عناصر کا ٹی ٹی پی میں ضم ہونا محض وقتی پناہ نہیں بلکہ پورے خطے کیلئے ایک طویل المدتی خطرہ ہے ۔ اس انضمام کے ذریعے یہ عناصر نہ صرف اپنے تجربے اور مہارت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ مستقبل میں مشترکہ یا بالواسطہ کارروائیوں کے امکانات بھی بڑھا رہے ہیں ۔ اس صورتحال سے یہ تاثر بھی زائل ہوتا ہے کہ داعش خراسان مکمل طور پر کمزور یا ختم ہو چکی ہے، کیونکہ اس کے عناصر نئی شناخت کے ساتھ سرگرم رہنے میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔ یہ تمام صورتحال افغانستان میں مؤثر حکومتی کنٹرول کے فقدان کی عکاس ہے۔ ایسے علاقے جہاں مختلف دہشت گرد تنظیمیں بلا خوف و خطر کام کر رہی ہوں، عالمی سلامتی کیلئے مستقل خطرہ بن جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب تک ان علاقوں میں مؤثر نگرانی، شفاف احتساب اور عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، دہشت گردی کے یہ نیٹ ورک ایک تنظیم سے دوسری تنظیم میں منتقل ہو کر زندہ رہتے رہیں گے۔ان حقائق کے بعد پاکستان پر داعش خراسان کی مبینہ سرپرستی کے الزامات بھی کمزور پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ زمینی شواہد اور بین الاقوامی رپورٹس اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ داعش خراسان اور دیگر شدت پسند تنظیموں کیلئے اصل محفوظ پناہ گاہ افغانستان کی غیر منظم سرزمین ہے، نہ کہ پاکستان ۔ یہ امر عالمی برادری کیلئے ایک واضح پیغام ہے کہ مسئلے کی جڑ کہاں موجود ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بھارت کی ایماء پر افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون ایک خاموش مگر نہایت خطرناک رجحان ہے۔ اگر عالمی طاقتیں اور متعلقہ ادارے اس صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لیں اور افغان طالبان پر مؤثر دباؤ نہ ڈالیں تو یہ تعاون مستقبل میں نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے دیگر حصوں کیلئے بھی بڑے سکیورٹی بحران کو جنم دے سکتا ہے اور یہی وہ حقیقت ہے جسے نظر انداز کرنا کسی کے مفاد میں نہیں۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں