سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے ۔یہ سات فیصد اضافہ بھی سرکار اگر نہ کرتی تو سرکاری ملازمین نے کیا بگاڑ لینا تھا ۔ایک خبر کے مطابق بجٹ میں ایوان صدر کیلئے دو ارب اسی کروڑ جبکہ وزیر اعظم آفس کیلئے بانوے کروڑ روپے رکھے گئے ہیں ۔ پنجاب میں پنشن کی مد میں ساڑھے تین فیصد اضافہ تجویز کرنیوالے طبقے کا ہر فرد ارب پتی نہیں تو کروڑوں پتی ضرور ہے ۔ایسے لوگ بھلا کیا سمجھیں گے کہ پنشن میں ساڑھے تین فیصد اضافہ نہیں طمانچہ ہے ۔اس اضافے کو اضافہ کہتے ہوئے ندامت محسوس ہوتی ہے ۔گزشتہ سال بھی بجٹ کے موقع پر پنجاب حکومت نے پنشنرز کا استحصال کیا تھا اور یہ سلسلہ تا حال جاری ہے ۔یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ صوبے ہمیشہ وفاق کی پیروی کرتے ہیں لیکن پنجاب حکومت کو نہ جانے وفاق سے عداوت کیوں ہے ۔کیا پنجاب میں مہنگائی کم ہے اور یہاں شہد اور دودھ کی نہریں بہتی ہیں ۔گزشتہ سال ارکان اسمبلی اور وزراء نے خود ساختہ نظام کے تحت اپنی تنخواہوں ،مراعات اور یوٹیلٹی بلز میں سہولت کیلئے کئی سو گنا من مانا اضافہ کر لیا تھا اور یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا تھا جب ملک شدید مالی اور معاشی بحران سے گزر رہا تھا ۔معزز قارئین بات سیاست یا طریق حکمرانی کی ہو یا مختلف شعبوں اور اداروں کی گڈ گورننس کا بھی ذکر خیر ضرور ہوتا ہے ۔یہی سبب ہے کہ وطن عزیز کے اکابرین اختیار کی طرف سے گڈ گورننس کی یونیورسٹیوں کے بیانات تواتر سے جاری ہوتے رہتے ہیں ۔ بیرونی دنیا میں تو گڈ گورننس کو بطور سبجیکٹ پڑھایا جاتا ہے یورپ کی یونیورسٹیوں میں تو باقاعدہ اس کے ڈپارٹمنٹ قائم ہیں اور اس مضمون میں ایم اے ،ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں جاری ہوتی ہیں ۔ہمارے ہاں بھی گڈ گورننس کی اصطلاح خاصی مقبول ہے اور ہمارے صاحبان قتدار بھی صوبوں میں اچھی گورننس کیلئے کوشاں اور مختلف اداروں میں شفافیت اور مثالی طرز حکومت کے خواہش مند ہیں ۔انرجی اور پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ،مہنگائی کا بے قابو جن ،غربت میں روز افزوں اضافے کے ساتھ ساتھ گھریلو اخراجات میں بے پناہ اضافہ ،روزگار ناپید ،عوام خود کشی نہ کریں تو کدھر جائیں ۔مہنگائی کا طوفان دن بدن طغیانی پر ہے اور غریب و متوسط طبقے کا خاتمہ کرنے پر کمر بستہ، اس سے بڑھ کر غربت کا خاتمہ کیا ہو گا کہ غریب غریب ہی نہ رہے ہر طرف امیر ہی نظر آئیں اور خوشحالی کا دور دورہ ہو جائے ۔مہنگائی کے زخموں سے تڑپتے کراہتے ملازمین سرکار خصوصاً پنشنرز کی زندگی کٹھن بنا دی جائے ۔شاید پنشنرز کیلئے مخصوص بجٹ پنجاب حکومت نے کسی ترقیاتی منصوبے یا کسی اور غریب پال سکیم میں خرچ کر دیا ہے جس کے کارن ان کو بجٹ میں صرف ساڑھے تین فیصد اضافے کا مستحق گردانا گیا ہے ۔یہ سسکتے سرکاری پنشنرز خاموشی سے زہر ہلاہل پینے پر مجبور ہیں کیونکہ اس عمر میں وہ احتجاج بھی کرنے سے معذور ہیں اور احتجاجی مزاحمت کے قابل نہیں ۔ان کی رگوں میں لہو کے سوتے خشک ہوتے رہتے ہیں ۔یہ اسے ناگزیر سمجھ کر آہیں بھرتے ہوئے برداشت کر رہے ہیں ۔اس کمزور و ناتواں بے بسوں کے ریوڑ کو کربناک اذیت سے دوچار کیا جا رہا ہے ۔مہنگائی اپنی پوری شدت سے انہیں شدید ضربات لگا کر بے بس کر رہی ہے ان کی حالت زار تو کچھ ایسی بنا دی گئی ہے ۔
سہمے ہوئے دن بھی سیاہ رات کی طرح
آنکھیں کھلی ہوئی ہیں سوالات کی طرح
چھوٹے ملازمین سرکار اور پنشنرز تو پہلے ہی ایسا پسا ہوا طبقہ ہے جن کی تنخواہیں اور پنشن ہر سال بجٹ پر اتنی بڑھتی نہیں جتنا کہ سارا سال گھٹنی رہتی ہیں ان کی تنخواہ اور پنشن تو مہینہ کے پہلے ہفتہ میں ہی اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتی ہے ۔پھر پورا ماہ قرض کا سرکل چلتا ہے اگر اچانک کوئی افتاد آن پڑے تو یہ خستہ حال لوگ شکنجہ قرض میں ایسے جکڑے جاتے ہیں کہ ان کا نام تمام عمر نادہندگان کی فہرست میں رہتا ہے ان کی مثال تو بقول شاعر ایسے ہی ہے ۔زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں،ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں ۔ حکومتیں جمہوری ہوں یا سیاسی آتی دھوم دھڑکے کے ساتھ لیکن ڈھائی تین سال بعد ہی ان کا حال کرائے پر چلنے والی بائیسکل جیسا ہو جاتا ہے اگر اس کے رم ٹیڑھے ہیں تو باڈی بھی کھڑ کھڑا رہی ہے کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد اس کے تکے فیل ہو جاتے ہیں اور یہ چلنے سے بھی معذور ہو جاتی ہے ۔ہماری موجودہ حکومتیں بھی وہی کچھ کر رہی ہیں جو ماضی کی حکومتیں کرتی رہیں لیکن پھر بھی ماضی حال سے قدرے بہتر ہی نظر آتا ہے۔اس وقت تنخواہوں اور پنشن کیلئے تو بجٹ پورا رکھا جاتا تھا۔ اب تو صورتحال اتنی پیچیدہ اور عوام کی بے یقینی اتنی گہری ہے کہ اعتبار قائم ہی نہیں رہا ۔تیزی سے بگڑتی ہوئی حالت پر قابو کیسے پایا جائے ۔مداوے کی صورت ہی نظر نہیں آ رہی ۔نا امیدی کا یہ عالم کہ امید کا دامن بھی چھوٹ جائے ۔شاید سرکار کے اپنے اخراجات کا پھیلائو اس قدر زیادہ ہو چکا ہے کہ اس کے اپنے تن و توش کو سنبھالا دینا مشکل ہو چلا ہے ۔اب تو بیرونی ادارے بھی ہمیں قرض دینے میں کسی بخل سے کام نہیں لے رہے ۔ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ہر طرح کے قرضوں کے حصول کو ہر شرط پر ممکن بنانے کے سامان کئے جا رہے ہیں لیکن حالات ہیں کہ کنٹرول میں نہیں آ رہے ۔قومی خزانہ کی بڑھوتری کی تازہ ترین صورتحال بقول غالب کچھ ایسی نظر آتی ہے ۔درو دام اپنے پاس کہاں ،چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں ۔پرانے زمانے کی کہانیوں میں ایک حسینہ نے اپنی شادی کی شرط کے طور پر اپنے عاشق کو مصروف رکھنے کیلئے اسے چھلنی میں پانی لانے کو کہا وہ اس عمل میں تھک ہار کر شادی کرنے سے ہی دستبردار ہو گیا ۔کچھ ایسی ہی کیفیت و صورتحال کا سامنا پنجاب کو بھی ہے ۔خزانہ بھرنے کا کام بھی زور و شور سے جاری ہے لیکن اسے خالی کرنے اور بھرنے کے دونوں کام شاید ایک ساتھ انجام دئیے جا رہے ہیں۔بڑے بڑے ترقیاتی منصوبے ،تعلیم کی بہتری کے اقدامات اور صحت کی سہولیات بہم پہنچانے کے انتظامات اسی سلسلہ کی کڑی ہیں
ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی
اب تو چھوٹے ملازمین اور پنشنرز اپنے مطالبے کیلئے آواز اٹھانے سے بھی دست بردار ہو چکے ہیں ۔راقم کو تو وہ کہانی یاد آ رہی ہے ۔ جب بادشاہ وقت کو نجومیوں نے بتایا کہ تم فلاں شکل و صورت کے ایک لڑکے کا خون پیو گے تو تندرست و صحت یاب ہو جائو گے ۔مطلوبہ شکل و شباہت کا لڑکا ڈھونڈا گیا ۔والدین بھی منہ مانگی قیمت پر اسے فروخت کرنے پر راضی ہو گئے ۔ جب لڑکے کو ذبح کیا جانے لگا تو بادشاہ حیرت میں ڈوب گیا کہ لڑکا نہ رو رہا ہے نہ چیخ و پکار کر رہا ہے ۔بادشاہ نے لڑکے سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ انسان سب سے پہلے اپنا ہمدرد والدین کو سمجھتا ہے اور ان کے سامنے رو کر اپنی مشکل کا حل تلاش کرتا ہے ۔میرے والدین تو مجھے فروخت کر چکے ہیں ۔اس کے بعد بادشاہ وقت سے فریاد کی جاتی ہے لیکن یہاں بادشاہ خود مجھے ذبح کرنے پر تلا بیٹھا ہے ۔اب فریاد کیلئے ایک ہی ذات رہ جاتی ہے اور وہ ذات مجھے دیکھ رہی ہے تو چیخنے چلانے سے کیا فائدہ ۔اس مظلوم طبقہ کی آخری امیدیں بھی اسی ذات سے وابستہ ہو چکی ہیں ۔ایسی صورتحال میں وطن عزیز میںخونی انقلاب کی خواہش تو ہمارے دل میں بھی انگڑائیاں لے رہی ہے لیکن کون لائے گا یہ خونی انقلاب ۔ان سیاسی جماعتوں میں تو کسی کو بھی انقلاب لانے کی فرصت نہیں ۔
نہ تم بدلے نہ دل بدلا نہ دل کی آرزو بدلی
میں کیسے اعتبار انقلاب آسماں کر لوں
آج مقام اور مرتبے والے تو موج میںہیں کیونکہ ان کے پاس تو دولت کے انبار ہیں ۔غریب ملازمین اور پنشنرز تو بھگت کبیر کے اس شعر کا ورد کر رہے ہیں
چلتی چکی دیکھ کر دیا کبیرا رو
دو پالن کے بیچ آ ثابت رہا نہ کو
ملازمین خصوصاً پنشنرز کیلئے تو یہ بہت پر آشوب وقت ہے ۔اپیل یہی ہے کہ اس طبقہ کو مزید امتحانوں میں نہ ڈالیں کیونکہ یہ مزید آزمائشوں کے متحمل نہیں ۔





