بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 02 July 2026 | پاکستان: 17 محرم 1448

بدلتا پاکستان، بدلتی ترجیحات

Thursday, 2 July, 2026

قوموں کی ترقی کا انحصار صرف بلند و بالا عمارتوں، جدید شاہراہوں یا بڑے ترقیاتی منصوبوں پر نہیں ہوتا بلکہ اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اپنی قومی ترجیحات کا تعین کس انداز سے کرتی ہیں۔ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں وہی ممالک ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھ رہے ہیں جو وقت کے تقاضے سمجھتے ہوئے اپنی پالیسیاں، ترجیحات قومی سوچ کو نئی سمت دیتے ہیں۔ پاکستان بھی ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں تبدیلی محض ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ معاشی، سماجی، تعلیمی، فکری حقیقت بن چکی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان بدل رہا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری بدلتی ہوئی ترجیحات مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں؟گزشتہ چند دہائیوں میں ہماری توجہ زیادہ تر امن و امان، بنیادی ڈھانچے، توانائی سیاسی استحکام جیسے شعبوں پر مرکوز رہی، جو اپنی جگہ اہم ہیں۔ تاہم موجودہ صدی کے تقاضے مختلف ہیں۔ اب دنیا کی معیشت کا انحصار قدرتی وسائل سے زیادہ انسانی صلاحیتوں، تحقیق، اختراع، ٹیکنالوجی ، علم پر ہے۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، سائبر سکیورٹی، ای کامرس گرین اکانومی جیسے شعبے عالمی ترقی کی نئی بنیاد بن چکے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے لیے بھی ناگزیر ہے کہ وہ اپنی قومی ترجیحات کو ان شعبوں سے ہم آہنگ کرے۔پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اسکی نوجوان آبادی ہے۔ اگر یہی نوجوان معیاری تعلیم، فنی تربیت ، جدید مہارتوں سے آراستہ ہو جائیں تو وہ نہ صرف ملکی معیشت نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کر سکتے ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ آج ہزاروں پاکستانی نوجوان فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ آن لائن کاروبار کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ یہ رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مواقع فراہم کیے جائیں تو پاکستانی نوجوان کسی سے کم نہیں۔تعلیم بھی بدلتی ترجیحات کا بنیادی ستون ہے۔ اب صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ تحقیق، تنقیدی سوچ، تخلیقی صلاحیت عملی مہارتیں وقت کی ضرورت بن چکی ہیں۔ جامعات میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، ڈیٹا سائنس جدید سائنسی تحقیق پر بڑھتی ہوئی توجہ خوش آئند ہے، تاہم تعلیمی اداروں ،صنعت کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کیے بغیر مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ تعلیم کو براہِ راست روزگار، صنعت اور قومی ترقی سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اسی طرح صحت کا شعبہ بھی نئی ترجیحات میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ جدید دنیا صرف بیماریوں کے علاج پر نہیں بلکہ بیماریوں سے بچاؤ، متوازن غذا، ذہنی صحت، جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی کو فروغ دینے پر توجہ دے رہی ہے۔ صحت مند معاشرہ ہی مضبوط معیشت اور فعال افرادی قوت کی ضمانت بنتا ہے۔ عوام میں صحت سے متعلق آگاہی پیدا کرنا اور بنیادی طبی سہولیات کی فراہمی ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ماحولیاتی تبدیلی آج پوری دنیا کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے اور پاکستان بھی اس سے محفوظ نہیں۔ شدید گرمی، بے ترتیب بارشیں، سیلاب، خشک سالی اور پانی کی قلت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ ماحول کا تحفظ اب ایک انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت ہے۔ شجرکاری، آبی وسائل کا دانشمندانہ استعمال، فضائی آلودگی میں کمی اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کو قومی ترجیحات میں مستقل جگہ دینا ہوگی تاکہ آنے والی نسلوں کو محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔ترقی کے اس سفر میں میڈیا کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ذمہ دار صحافت نہ صرف عوام تک درست اور مستند معلومات پہنچاتی ہے بلکہ قومی سوچ کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ اگر میڈیا سنسنی خیزی کے بجائے تعلیم، تحقیق، صحت، ماحولیات، معیشت، نوجوانوں اور سماجی اصلاح جیسے موضوعات کو زیادہ اہمیت دے تو معاشرے کی ترجیحات بھی مثبت سمت اختیار کر سکتی ہیں۔ صحافت کا اصل مقصد صرف خبر دینا نہیں بلکہ شعور پیدا کرنا بھی ہے۔یہ حقیقت بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ صرف حکومتیں قوموں کی تقدیر نہیں بدلتیں بلکہ باشعور شہری بھی اس عمل میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ ایک دیانت دار استاد، فرض شناس ڈاکٹر، ذمہ دار صحافی، محنتی مزدور، ایماندار تاجر اور باکردار طالب علم اپنے اپنے دائر کار میں قومی ترقی کے معمار ہوتے ہیں۔ جب ہر فرد اپنی ذمہ داری کو قومی امانت سمجھ کر ادا کرتا ہے تو مجموعی طور پر ایک مضبوط، باوقار اور ترقی یافتہ معاشرہ وجود میں آتا ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم وقتی مفادات سے بلند ہو کر طویل المدتی قومی اہداف کو ترجیح دیں۔ میرٹ، قانون کی بالادستی، شفاف طرزِ حکمرانی، معیاری تعلیم، تحقیق، جدت، ہنرمندی، معاشی خود انحصاری اور سماجی انصاف کو قومی ایجنڈے کا مستقل حصہ بنایا جائے۔ یہی وہ اصول ہیں جن پر عمل کرکے دنیا کی کامیاب اقوام نے ترقی کی منزلیں طے کیں۔بدلتا پاکستان دراصل بدلتی سوچ، بدلتے رویوں اور بدلتی ترجیحات کا نام ہے۔ اگر ہم نے علم کو طاقت، تحقیق کو سرمایہ، دیانت کو کردار، انصاف کو نظام اور نوجوانوں کو مستقبل سمجھ کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان نہ صرف معاشی استحکام حاصل کرے گا بلکہ تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، صحت اور انسانی ترقی کے میدان میں بھی نمایاں مقام حاصل کرے گا۔ قومیں خواب دیکھنے سے نہیں بلکہ درست ترجیحات، مسلسل محنت اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے ترقی کرتی ہیں۔ آج کا پاکستان بھی اسی شعور، عزم اور مثبت فکر کا متقاضی ہے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک ایسا وطن ملے جو صرف بدلتا ہوا نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ، خوشحال باوقار پاکستان ہو۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *