(گزشتہ سے پیوستہ)
زیک پولنسکی انتخاب جیتنے میں ناکام رہے لیکن انہوں نے کنزرویٹو پارٹی اور ریفارم یوکے سمیت دیگر جماعتوں کو پیچھے چھوڑ کر دوسری پوزیشن حاصل کی۔ گرین پارٹی اس نتیجے کو اپنی کامیابی قرار دے رہی ہے کیونکہ اس نے اپنے ووٹوں میں اضافہ کیا اور لیبر پارٹی کو سخت مقابلہ دیا۔دوسری جانب لیبر پارٹی کیلئے بھی یہ کامیابی اہم ہے کیونکہ کیئر اسٹارمر کے استعفے اور مقامی انتخابات میں خراب کارکردگی کے بعد اسے اپنی سیاسی ساکھ برقرار رکھنے کی ضرورت تھی۔ تاہم اس نتیجے کو مکمل عوامی اعتماد کی واپسی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ انتخابی نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ لیبر پارٹی نے نشست تو برقرار رکھی، لیکن گرین پارٹی نے بھی اپنی موجودگی مضبوط کی ہے۔اب آتے ہیں برطانوی سیاست کے ایک نہایت اہم پہلو کی طرف، یعنی امیگریشن، قومی یکجہتی اور مختلف کمیونٹیز کے درمیان تعلقات۔ برطانیہ کی اصل طاقت اس کی کثیرالثقافتی شناخت، جمہوری روایات اور مختلف قومیتوں کے لوگوں کا مل جل کر رہنا ہے۔ یہاں پاکستانی، کشمیری، بھارتی، افریقی، عرب، یورپی اور دیگر پس منظر رکھنے والے افراد ملک کی معیشت، صحت، تعلیم، کاروبار، سیاست اور عوامی خدمات میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس معاشرتی تنوع نے برطانیہ کی ترقی میں اہم حصہ ڈالا ہے۔اس تناظر میں ریفارم یوکے جیسی جماعتوں کے امیگریشن مخالف ایجنڈے پر سنجیدہ بحث ضروری ہے۔ جب سیاسی مہم میں امیگریشن اور قومی شناخت کو اس انداز میں پیش کیا جائے کہ مختلف نسلی اور مذہبی کمیونٹیز کے درمیان عدم اعتماد بڑھے تو اس سے سماجی ہم آہنگی اور انضمام کے عمل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کو امیگریشن پالیسی پر بحث کرنے کا حق حاصل ہے لیکن یہ بحث کسی پوری کمیونٹی کو مسئلہ قرار دینے یا لوگوں میں نفرت پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بننی چاہیے۔ برطانیہ کی یکجہتی اسی وقت مضبوط رہ سکتی ہے جب تمام شہریوں کے حقوق، عزت اور مساوی مواقع کا تحفظ کیا جائے۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ برطانیہ کی مرکزی سیاسی جماعتوں میں مختلف نسلی اور مذہبی پس منظر رکھنے والے افراد اہم ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔ کنزرویٹو پارٹی کی قیادت بھی سیاہ فام پس منظر رکھنے والی خاتون کے پاس ہے، جبکہ لیبر پارٹی اور دیگر جماعتوں میں بھی مختلف کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے سیاست دان نمایاں عہدوں تک پہنچے ہیں۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ برطانوی سیاست میں نسلی پس منظر کسی فرد کی سیاسی صلاحیت یا قیادت کی اہلیت کا واحد پیمانہ نہیں ہونا چاہیے۔سگل عبدی ولی کی کامیابی اسی جمہوری تنوع کی ایک مثال ہے۔ ایک مسلمان، باحجاب اور صومالی نژاد خاتون کا پارلیمان تک پہنچنا اس بات کی علامت ہے کہ برطانیہ میں سیاسی نمائندگی کے دروازے مختلف کمیونٹیز کیلئے کھلے ہیں۔ اس کامیابی کو کسی ایک جماعت کی تشہیر تک محدود کرنے کے بجائے اسے وسیع تر جمہوری تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا تمام سیاسی جماعتیں اس اصول کو قبول کرتی ہیں کہ برطانیہ میں رہنے والے افراد کو ان کی قابلیت، کردار اور کارکردگی کی بنیاد پر آگے بڑھنے کا موقع ملنا چاہیے؟برطانیہ میں انضمام کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص اپنی زبان، مذہب، ثقافت یا خاندانی روایات کو چھوڑ دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف شناختوں کے باوجود سب ملک کے قوانین، جمہوری اقدار اور مشترکہ شہری ذمہ داریوں کا احترام کریں۔ کسی مسلمان خاتون کا حجاب پہن کر پارلیمان تک پہنچنا اور کسی سیاہ فام خاتون کا ایک بڑی سیاسی جماعت کی قیادت کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مختلف شناختیں جمہوری زندگی میں ایک ساتھ موجود رہ سکتی ہیں۔میرے نزدیک برطانیہ میں رہنے والے پاکستانیوں اور کشمیریوں کیلئے بھی اس انتخاب میں ایک اہم سبق ہے۔ اپنی نئی نسل کو تعلیم، سیاسی شعور، مقامی حکومت، صحافت اور عوامی خدمت میں آگے بڑھنے کی ترغیب دینی چاہیے۔ صرف شکایت کرنے سے تبدیلی نہیں آتی تبدیلی کے لیے جمہوری عمل میں حصہ لینا، اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنا ضروری ہے۔سگل عبدی ولی کی اصل آزمائش اب شروع ہوتی ہے۔ انہیں پارلیمان میں اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی کرنی ہوگی ان کے مسائل اٹھانے ہوں گے اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ عوام کے اعتماد پر پورا اتر سکتی ہیں۔ اسی طرح زیک پولنسکی اور گرین پارٹی کیلئے بھی چیلنج یہ ہے کہ انتخابی حمایت کو مستقل سیاسی قوت میں کیسے تبدیل کیا جائے، جبکہ لیبر پارٹی کو عوامی اعتماد بحال کرنے کیلئے عملی کارکردگی دکھانا ہوگی ۔ پکار یہی ہے کہ برطانیہ کی یکجہتی، مذہبی رواداری اور مساوی مواقع کا تحفظ کیا جائے۔ امیگریشن پر بحث ضرور ہو، لیکن ایسی سیاست سے گریز کیا جائے جو مختلف کمیونٹیز کے درمیان نفرت اور تقسیم کو ہوا دے۔ برطانیہ کی طاقت اس کی مشترکہ جمہوری اقدار اور اس حقیقت میں ہے کہ یہاں مختلف پس منظر رکھنے والے لوگ مل کر ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں