بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Thursday, 18 June 2026 | پاکستان: 3 محرم 1448

” بسنت اور غلام فرید صاحب کی نظم “

Friday, 6 February, 2026

نظم و ضبط کسی بھی قوم کی ترقی کیلئے ضروری ہے ۔نظم بھی ضروری ہے ، ضبط بھی ضروری ہے ۔ ہر ایسی نظم کو ضبط کرنا بھی ضروری ہے جو کسی نظم کے بغیر ہو ۔ مرشد فرماتے ہیں ، ایسے شاعر بھی ضبط کر لینے چاہیں جو صاحب ذوق لوگوں کے ضبط کا امتحان لیتے ہیں ۔نظم ایسی ہونی چاہیے کہ ضبط کا امتحان نہ ہو ، بندے کے خبط کا امتحان ہو ، بندے کو خبط میں مبتلا کر دے ، ماضی سے ربط قائم کر دے ، حال سے رشتہ جوڑ دے ، مستقبل کی امید جگا دے ۔ایسی نظم پڑھنا اللہ تعالیٰ کی عطا ہے ، ایسی نظم لکھنے والا قوم کیلئے اللہ پاک کی عطا ہے ، جس کا ایک ایک لفظ شفا ہے ۔ غلام فرید صاحب ایک ایسے ہی شاعر ہیں جنہیں نظم لکھنا آتی ہے ۔ اپنے ادارہ میں نظم و ضبط کی مثال ،حکومت پاکستان کے اعلیٰ ترین افسر دوستوں میں سخن فہمی کے حوالے سے مشہور و معروف ہیں ۔ انگریزی ادب پر دسترس رکھنے والے غلام فرید صاحب اردو شاعری کے جملہ ادوار پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔چند لوگ نام نہاد شعرا کے اطوار پر نظر رکھتے ہیں، اس لیے وہ ہمیشہ دعا گو رہتے تھے کہ سخن فہم فرید صاحب اپنی شاعری پر بھی توجہ دیں ۔ صد شکر کہ بسنت کے وسیلے سے ان کی بھی سنی گئی ۔فرید صاحب سدا کے اور بلا کے اعلی ظرف ہیں ، اس لیے احقر کو بھی کسی عطا کے قابل سمجھتے ہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے اپنی تازہ ترین نظم عطا کی تو گویا سخاوت کی حد کر دی ۔ اچھی نظم کا نشہ آسانی سے نہیں اترتا ، بس نظم ایسی ہونی چاہیے جس میں جان ہو، جو شاعر کا گیان ہو۔ فرید صاحب کی نظم :-“رت بسنتی کی پھر سے رہائی ہوئی” بلا شبہ ایک ایسی نظم ہے جو جاندار بھی ہے ، شاندار بھی ۔ہماری دھرتی روایات کی امین ہے، ہمارے افراد بھی روایات کے امین ہیں اور ہماری زبان بھی۔ بسنت ہماری دھرتی کی درخشاں روایت ہے اور نظم اردو زبان کا فخر ۔اردو ادب سے شغف رکھنے والے افراد کی اکثریت اردو شاعری کو غزل گوئی کے حوالے سے پہچانتی ہے لیکن اہل نظر جانتے ہیں ، نظم گوئی کا فن غزل گوئی سے کہیں مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کے غزل گو شعرا گنتی میں نہیں آتے جبکہ اچھی نظم لکھنے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔ اچھی نظم پڑھنا ،سننا ، انتہائی خوش کن تجربہ ہے۔ وطنِ عزیز میں اردو شاعری نازک دور سے گزر رہی ہے ۔ماضی میں اعلیٰ سرکاری افسران کا لوگ دل سے ادب کرتے تھے کیونکہ افسران کو ادب میں ایک نمایاں مقام حاصل تھا۔ قدرت اللہ شہاب ،مختار مسعود، ناصر زیدی، جیسی ادبی شخصیات کے نام سے کون واقف نہیں۔ دیگر افسران بھی ہیں جنہوں نے ادب کی خدمت کا حق ادا کیا ہے۔ کالم نگار خود کو اردو شاعری کے تنقیدی جائزے کا اہل نہیں سمجھتا لیکن بطور ایک قاری کے وہ اپنا فرض سمجھتا ہے کہ موجودہ نسل کو اردو نظم کے رستم دوراں سے روشناس کروایا جائے۔ غلام فرید صاحب اردو ادب کے چھپے رستم ہیں۔ امید واثق ہے، اب زیادہ عرصہ وہ چھپے نہیں رہیں گے اگرچہ اپنی اسی ایک نظم کی بدولت وہ ہمیشہ رستم کے درجے پر فائز رہیں گے ۔ خالق کائنات سے امید ہے ، اللہ کرے زور قلم اورزیادہ ۔ “تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے”۔ غم روزگار کے علاج کیلئے وہ مسلسل کام کرتے رہے ، کام سے عاشقی کرتے رہے۔ عشق نے وقت کی ترتیب سیکھ لی، ترتیب کچھ ایسی رہی کہ وہ سخن کی دیوی کو وقت نہ دے پائے۔ خالق کائنات رحیم کریم ہے ۔خالق کائنات کو اردو نظم پر رحم آیا ۔ فرید صاحب کے دل میں شاعری کرنے کا خیال پھر سے آ بسا ۔ان کی کئی شاہکار نظمیں زیر طبع ہیں اگرچہ ہر نظم نا مکمل ہونے کے باوجود ایک مکمل شاہکارہے ۔کبھی ان کا مجموعہ کلام منظر عام پر آئے گا تو نقاد حضرات کو کو یقین آجائے گا، اردو نظم زندہ بھی ہے اور تا بندہ بھی۔ کالم لکھنے کا سبب ان کی بسنت کے موقع کی مناسبت سے کہی گئی نظم ہے۔ نظم کا عنوان اپنی مثال آپ ہے ۔کالم نگار وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ ایسی نظم پہلے نہیں لکھی گئی اور شاید دوبارہ بھی نہ لکھی جا سکے۔ رت بسنتی کی رہائی ابھی صرف پنجاب کے دارالحکومت میں ہوئی ہے ۔ لاہور پنجاب کا دل ہے اور نظم اردو ادب کا دل ہے ۔ جملہ اہلیان دل خوش ہیں، بسنت کے عاشق خوشی سے چور ہیں اور اردو نظم کے چاہنے والے بھی مسرور ہیں۔ شاعر بسنت رت کو کڑی دھوپ میں شجر سے تشبیہ دیتے ہیں ۔وہ خود بھی نظم کی صنف کیلئے کڑی دھوپ میں شجر ثابت ہوئے ہیں ۔نظم کا مطالعہ شاعر کا دکھ آشکار کرتا ہے ، وہ دکھ جو فقط اس کا ذاتی نہیں ، اک عہد کا المیہ ہے ۔ ہمارے ہاں بسنت کا تہوار نوید طرب ہوا کرتا تھا ، بغیر کسی معقول وجہ کے غم کا سبب بن گیا۔ راقم الحروف یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اردو شاعری اور بسنت کا المیہ ایک ہے ۔کہیں ڈور قاتل ثابت ہوئی تو کہیں نام نہاد شعرا کا شعر، کہیں رگ جاں کٹنے لگی تو کہیں ادب کی آبرو ، جوتوں میں بٹنے لگی ۔زندگی اطفال کا کھیل بنی اور طفل مکتب ادب سے کھیلنے لگے ۔ سب جانتے ہیں کہ الفاظ کے گھا زیادہ گہرے بھی ہوتے ہیں اور خطرناک بھی ۔ الفاظ کسی بھی قوم کی اجتماعی دانش کے عکاس ہوتے ہیں۔اردو ادب پر ہمیشہ اہل ذوق فخر کرتے آئے ہیں لیکن آج کل اردو ادب کی رضیہ غنڈوں میں پھنسی ہوئی ہے۔غلام فرید صاحب کی نظم پڑھ کے دلی اطمینان ہوا ہے کہ بسنتی رت کے علاوہ اردو ادب کو بھی رہائی نصیب ہوئی ہے۔شاعر کو صدمہ لاحق ہے کہ ہم حسن تدبیر سے کام نہ لے سکے اور ہم نے روایت کو زنجیر سے باندھ دیا ۔روایت کو زنجیروں میں نہیں جکڑا جا سکتا ۔ روایت زندہ رہتی ہے، اپنی بقا کی اہل ہوتی ہے، بھلے وہ بسنت کی ہو یا اردو نظم کی ۔ فرید صاحب فرماتے ہیں ، روایت کے پاسداروں کو مفسدین پر نظر رکھنی چاہیے ۔ ہم اردو ادب کے جملہ قارئین کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کی خدمت میں گزارش کریں گے کہ ان جیسے فطری شعرا کا فرض ہے کہ وہ ان مفسدین پر بھی نظر رکھیں جو اردو نظم کے حسن کو تباہ کرنے کے در پے ہیں،قلمی جہاد کریں، اردو زبان کو ان جیسے مجاہدوں کی جتنی ضرورت آج ہے ، پہلے کبھی نہیں تھی ۔ شاعر کو ادراک ہے کہ وطن عزیز میں پھول کھلتے تو تھے مگر مہکتے نہ تھے۔ یہی حال اردو ادب کا ہے، نظم کے نام پر جو کچھ لکھا جا رہا ہے، وہ سب کچھ ہے مگر نظم نہیں ۔ کہیں فنی تقاضے پورے بھی کئے جا رہے ہیں تو ندرت خیال نہیں ۔شاعر بسنت کے تناظر میں لکھتے ہیں :-“شب ہجر کٹتی نہیں تھی، اہل ذوق پریشان تھے”۔ یہی المیہ اردو ادب کے قاری کا ہے۔ اچھی غزل پڑھنے ، سننے کو مل جاتی ہے لیکن نظم لکھنے والے چراغ رخ زیبا لیکر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ وہ کہتے ہیں کہ محفل دوستاں یوں اجڑی کہ پر شور شہر، شہر خاموشاں بن گیا۔ ہم شاعر ذی وقار سے گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ بسنت اور نظم کا المیہ ایک جیسا ہے ، تیرا غم میرا غم ایک جیسا صنم ۔ نظم کے آخر میں وہ فرماتے ہیں :-“عاشق رنگ و بو پہ احسان ہونا چاہیے اور بسنت رت کی رہائی کو دوام ملنا چاہیے ۔ اردو ادب کے غمگساروں کو بھی توقع ہے کہ فرید صاحب بھی اب اردو ادب کے چمن کی آبیاری کیلئے اپنا کردار ہمیشہ ادا کرتے رہیں گے۔شاعر کو مبارکباد، قوم کو دہری مبارکباد، بسنت کی بھی، اردو نظم کی حیات نو کی بھی ۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *