بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 32.1°C
Monday, 29 June 2026 | پاکستان: 14 محرم 1448

بلھے شاہ دی من لے سنگیا

Monday, 29 June, 2026

اِنسان ہونااہم نہیں اِنسان میں اِنسانیت کا ہونا اہم ہے۔خدا سے اگر پیار کرنا ہے تو اس کی مخلوق سے پیار کرے ہم خدا سے پیار کرتے ہیں مگر خدا کی مخلوق کو پیار نہیں کرتے تنگ کرتے ہیں۔ہم اسلامی ملک میں رہتے ہوئے بھی مسلمان بن کر زندگیاں نہیں گزار رہے۔ ہر محلے اور ہر گلی میں مسجد ہے لیکن کوئی ایسی دوکان نہیں جہاں سے خالص دودھ مل سکے۔ لگتا یہی ہے کہ ہر انسان کو اپنے مذہب کا علم پندرہ فیصد سے زیادہ نہیں۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کو کہا گیا ہے۔ پادری مولوی پنڈت یہ سب عبادات کرانے کی تنخواہیں لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے ہم ان کی خدمات لیتے کیوں ہیں۔ برطانیہ میں اب ہر کوئی نماز،نکاح ،جنازہ خود پڑھتا ہے اب وہاں ان کی ضرورت نہیں رہی۔ ویسے بھی یہ امیروں کو جنت میں جانے کے طریقے بتاتے ہیں اور غریبوں کو جہنم کی آگ سے ڈراتے ہیں۔ایک مولانا کوسوسائٹی کی مسجد سے فارغ کر دیا گیا اس نے ایک بنگلہ میں جامع مسجد بنا لی۔کیا یہ ایسا کر سکتا ہے یہ مسجد ہے کوئی دوکان نہیں کہ جہاں جی چاہا وہاں بنا لی کہا جاتا ہے کیا اسے خود عقل نہیں کہ گھر پر جامع مسجد نہیں بنائی جا سکتی جبکہ پہلے سے چند قدم کے فاصلے پر جامع مسجد موجود ہے۔ اسلام آباد میں اکثر مساجد نالوں پر بنی دیکھی جاسکتی ہیں۔ کہا جاتا ہے اس کے پیچھے بھی ایک مافیا ہے۔ جب مذہب مافیا کے ہاتھوں میں ہو گا تو پھر دودھ کیمیکل ملا گوشت مردہ جانوروں کا اور جعلی اشیا ہی تو ملیں گی۔ اگر یہی عبادت گاہیں مذہب کی صحیح ترجمانی کر رہی ہوتی تو اشیا میں کوئی ملاوٹ نہ کرتا، اچھے انسان بن کر لوگ زندگیاں گزار رہے ہوتے اور یہ دنیا جنت کا گہوارہ ہوتی۔ کوئی کسی سے فراڈ نہ کرتا۔کسی کو کوئی پیسے کی خاطر جان سے نہ مارتا بلکہ اپنے مرنے کی فکر میں رہتا کہا جاتا ہے فراڈیوں کی تعداد میں اسی طرح اضافہ ہوا ہے جس طرح مزاروں پیروں اور مساجد کی تعداد میں اضافہ۔ ہم جنت میں جانیکی خواہش تو رکھتے ہیں مگر کرتوت جہنمی رکھتے ہیں۔ جنت میں جانے کے آسان طریقے تلاش کرتے ہیں۔ بہشتی دروازے سے گزرنے کیلئے چار پانچ میل کی لمبی لائنوں میں کھڑے رہتے ہیں۔مگر نبی ۖکی سنت اور اسلام کی باتوں پر عمل کرتے نہیں ۔اب بھیگ مانگنا ڈاکے مارنا فراڈ کرنا ایک پیشہ بن چکا ہے۔مرید پیرنی سے شادی کا تو سن چکے ہیں ۔ جیسے پیر ویسے ان کے مرید اور اب مرید پیر کو چونا لگانے کا واقع بھی سن لیں۔ ایک نامور پیر صاحب کو ایک فراڈیا مرید بن کر حاضر ہوا۔ پھر کروڑوں کا چونا پیر کو لگا گیا۔پہلے وہ پیر صاحب کے پاس مرید بن کر دعا کیلئے آیاکہ میرا کاروبار نہیں چل رہا دعا کی ضرورت ہے۔اس نے دعا کیلئے پیر صاحب کی مٹھی گرم کی اور پیر صاحب نے دعا کر دی ۔پھر کچھ ہفتوں بعد یہ پیر صاحب کے پاس دوبارہ حاضر ہوا کہا پیر صاحب یہ لینڈ کروزر آپ کیلئے لایا ہوں۔ میرا کاروبار آپ کی دعا سے چل ہی نہیں بھاگ پڑا ہے۔ پیر نے پوچھاتم کیا کاروبار کرتے ہو ، کہا بلڈر ہوں۔پلازے بناتا ہوں اور فروخت کر دیتا ہوں۔ پیر صاحب نے کہا کیا مجھے اپنا بزنس دکھاؤ گے۔ اس نے پیر صاحب کو ہوائی جہاز کا آنے جانے کا ٹکٹ دیا۔ وہاں پیر صاحب کو کسی کے پلازہ پر لے گیا کہا یہ سارا پلازہ فروخت کر چکا ہوں صرف یہ فلور اب باقی بچا ہے۔ پیر نے پوچھا اسکی کیا قیمت ہے کہا ستر کروڑ ۔ تین ماہ بعد اس کی قیمت ایک ارب ہو جائے گی۔میں ہی اسے ایک ارب میں خرید بھی لونگا۔پیر صاحب نے کہا مجھے یہ فروخت کر دو۔ آپ کل مجھ سے یہ رقم لے جانا۔ پیر صاحب نے دوسرے روز یہ رقم مرید کے حوالے کی۔اس نے دو ہفتے کا وقت دیا کہ اس کے کاغذات بنا کر آپ کو دے جاؤں گا۔کچھ روز بعد پیر صاحب کے پاس کار ڈیلر آیا پیر صاحب یہ لینڈ کروزر جو آپ کے پاس ہے میرے شو روم کی ہے۔ ایک ماہ کا کرایہ دیا تھا اب آپ اسے مزید رکھنا چاہتے ہیں تو اس کا کرایہ ایڈوانس دے دیں یا گاڑی کی چابی ۔ اب پیر صاحب کو یقین ہو گیا کہ یہ میرا مرید نہیں تھا فراڈیا تھا۔ میں اس کے جال میں پھنس چکا ہوں۔ پیر مرتا کیا نہ کرتا۔ اس نے اس کی دی گئی لینڈ کروزر واپس کی۔دل میں درد اٹھا اور اسی تکلیف میں فالج کا شکار ہوکر پیر صاحب اب بستر پر ہیں۔ شیطان اور فراڈیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔جس سے آن لائن شاپنگ کا فراڈ عام ہے۔ دکھاتے کچھ ہیں دیتے کچھ ہیں۔ امریکہ میں راقم اکثر آن لائن ہی شاپنگ کیا کرتا تھا اسی تجربہ کی بنا پر یہاں بھی آن لائن ایک آڈر کیا مگر یہاں تجربہ اچھا نہیں رہا۔ جو چیز آن لائن دکھائی گئی تھی وہ نہ دی بلکہ دو نمبر چیز بھیج کر پیسے بھی وصول کر چکے تھے اب یہ فون بھی نہیں اٹھا رہے۔ انہیں نہ موت کا ڈر ہے اور نہ قانون کا۔لوگوں کو فراڈیو ںکا اندازہ نہیں ہے کہ وہ کیا کچھ کر سکتے ہیں کیا کچھ کر رہے ہیں لہٰذا احتیاط کی اشد ضرورت ہے۔ بابا کرموں کہتا ہے وہ چیز کبھی آن لائن نہ لیں جسے کھول کر دیکھنے کی اجازت نہ ہو ۔ اگر آپ بھی ان کاشکار ہو چکے ہیں تو ان کیخلاف قانونی جنگ لڑنے کا طریقہ بتا دیتا ہوں۔ اگر کسی نے آن لائن خریداری کی ہے اشیا جو آپ کو دکھائی گئی تھی تو وہ نہ دی تو اپ ان کے خلاف یہ ایکشن لے سکتے ہیں۔ نمبر1.سب سے پہلے آپ اسکے ثبوت محفوظ کریں یعنی آرڈر کی رسید بینک ٹرانزیکشن یا ایزی پیسہ / جاز کیش کی رسید اشتہار یا ویب سائٹ کا اسکرین شاٹ اور پھر موصول شدہ چیز کی تصاویر فروخت کنندہ کے ساتھ واٹس ایپ، ایس ایم ایس یا ای میل کی گفتگو۔نمبر2 سب سے پہلے فروخت کنندہ کو قانونی نوٹس بھیج کر رقم کی واپسی یا درست سامان کی فراہمی کا مطالبہ کریں۔نمبر3. ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ میں شکایت بھی درج کرائی جا سکتی ہے اگر دھوکہ آن لائن پلیٹ فارم، سوشل میڈیا ، ویب سائٹ یا ڈیجیٹل ادائیگی کے ذریعے کیا گیا ہو تو آپ ایف آئی آے کے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کرائیں۔نمبر4. پولیس میں بھی مقدمہ دائر کرا سکتے ہیں اگر ثابت ہو کہ شروع سے ہی فراڈ اور دھوکہ دہی کرنا اس کی نیت تھی تو تعزیراتِ پاکستان کے تحت دھوکہ دہی کے جرم کی شکایت پولیس اسٹیشن میں بھی درج کرائی جا سکتی ہے۔نمبر 5. صوبائی صارف تحفظ قوانین کے تحت کنزیومر کورٹ یا متعلقہ فورم سے رقم کی واپسی کی وصولی کیلئے جا سکتے ہیں۔ ایک دوست کو یہ آن لائن شاپنگ کا واقع بتا ہی رہا تھا کہ اس نے اپنی آپ بیتی سنائی کہ میری والدہ محترمہ کی آنکھ میں موتیا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا پہلے موتیا نکالا جائے گا پھر اس میں لینس لگے گا ہم نے اس کے ایسا کرنے کی پیمنٹ انہیں کر دی لیکن کچھ ہفتے بعد انکھ کی بینائی ٹھیک ہونے کے بجائے مزید خراب ہو گئی۔ کسی دوسرے ڈاکٹر کو دکھایا اس نے کہا اس آنکھ میں موتیا اور لینس گرا پڑا ہے اور یہ لینس کسی نے موتیا نکالے بغیر ہی لگا دیا تھا۔ لہٰذا اب پہلے موتیا اورلینس کو نکالا جائے گا پھر نیا لینس لگے گا۔ ہم کوشش کریں گے کہ آنکھ میں انفیکشن نہ ہو۔ یہ کام کسی روڈ پہ بیٹھے حکیم نے نہیں کیا تھا۔ بلکہ ایم بی بی ایس آنکھوں کے ڈاکٹر نے کیا تھا۔جب پڑھے لکھے ایسا کریں گے تو عام شہری سے شکایت کیا کرنی۔ تعلیم، صحت اور ویلفیئر کاموں کی زمہ داری حکومتوں کی ہوا کرتی تھی مگر یہ سارے کام اب پرائیوٹ نجی ادارے حوالے ہو چکے ہیں۔ حکومتیں کرپشن پر ہاتھ نہیں ڈالتیں کہ اگلا الیکشن بھی تو لڑنا ہے۔ اگر بابا بلھے شاہ کی سن لیتے تو ڈونلڈ ٹرمپ ، نیتن یاہو، کھلاڑی ، بزنس مین ملکوں کے حکمران کبھی نہ بنائے جاتے۔ بابا بلھے شاہ فرماتے ہیں۔
کاغذ اُتے اگ نہ رکھیں
پاگل دے سر پگ نہ رکھیں

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *