بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 25.5°C
Thursday, 02 July 2026 | پاکستان: 17 محرم 1448

بھارتی فوج میں بدعنوانی عروج پر

Thursday, 2 July, 2026

بھارت کی مسلح افواج میں بڑھتی ہوئی رشوت ستانی کے دوران مرکزی تفتیشی بیورو نے بی جے پی کے زیر اقتدارریاست مغربی بنگال میں ایسٹرن کمانڈ کے تحت آرمی آرڈیننس کور میں تعینات کرنل ہمانشو بالی کو مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے رشوت کے کیس میں گرفتار کیا۔ کرنل کو 18 مئی کو کولکتہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور اسے دہلی لایا جا رہا ہے۔ ہمانشوبالی پر کانپور کی ایک کمپنی کی حمایت کرنے ،ٹینڈرز کے ایوارڈ میں ہیرا پھیری کرنے ، غیر معیاری نمونوں کومنظورکرنے اور زیر التوا بلوں کی منظوری میں سہولت فراہم کرنے کا الزام ہے۔سی بی آئی نے18 مئی کو درج کی گئی اپنی ایف آئی آر میں الزام لگایا کہ کرنل نے رشوت کی بقایا رقم کی ادائیگی کے لئے صنعتکار سے رابطہ کیاجس پر تاجر نے نقدرقم میں رکاوٹوں کا حوالہ دیا۔ بعدمیں فوجی افسر نے صنعتکار کے ڈرائیور سے رابطہ کیا اوررقم اس کے ایک ساتھی کو دینے کیلئے کہا۔50 لاکھ روپے کی رشوت کی رقم حوالا کے ذریعے منتقل کرنی تھی۔ سی بی آئی نے رشوت کے کیس میں کرنل اور نجی ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کر لیا۔بھارتی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی رشوت خوری کے جرم میں گرفتاری نے ادارے کی اخلاقی پستی اور انتظامی بدحالی کو پوری دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ اس واقعے نے بھارتی سیکیورٹی فورسز کے اندر موجود کرپشن کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے۔دفاعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی افواج میں کرپشن کی جڑیں بہت گہری ہو چکی ہیں اور فضائیہ کے بڑھتے ہوئے حادثات محض فنی خرابیاں نہیں ہیں۔ یہ دراصل انتظامی ناکامی اور فنڈز کی خورد برد کے باعث پیدا ہونے والے سنگین مسائل کا واضح ثبوت ہیں۔ مودی سرکار کے زیر سایہ سیاست زدہ ہونے والی بھارتی فوج اب پیشہ ورانہ مہارت کھو چکی ہے۔ اندرونی خلفشار اور تقسیم کی وجہ سے یہ ادارہ اپنی ساکھ کھو رہا ہے اور بدعنوانی اس کی نااہلی کی سب سے بڑی علامت بن چکی ہے۔ اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ بھارتی فوج میں نظم و ضبط کا فقدان ہے اور افسران اپنے ذاتی مفادات کے لیے ملکی وقار کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔ مسلسل سامنے آنے والی بدعنوانیوں نے بھارتی عسکری ڈھانچے کی کمزوریوں کو پوری طرح آشکار کر دیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بھی ملک کے خفیہ ادارے سی بی آئی نے وزارت دفاع کو شکایت جمع کرائی ہے جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ بھارتی فوج کے دو اعلیٰ افسران میجر جنرل اشوک کمار اور میجر جنرل ایس ایس لامبا نے لیفٹیننٹ جنرل کے عہدوں پر ترقی پانے کیلئے رشوت دی جبکہ دونوں افسران کے پاس بڑے پیمانے پر غیر قانونی اثاثہ جات بھی ہیں۔ وزیر دفاع نے سی بی آئی کو مذکورہ افسران کے خلاف شکایت سامنے آنے کے بعد ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرانے کی ہدیات کے ساتھ ساتھ مزید تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔ دونوں افسران کی ترقی سابق ملٹری سیکرٹری لیفٹیننٹ جنرل(ر) بھالا کے دور میں منظور بھی کرلی گئی تھی۔ بھارتی فوج اور دفاعی اسٹیبلشمنٹ کے اندر پھیلی ہوئی بدعنوانی کی گہری جڑیں ایک بار پھر اس وقت بے نقاب ہو گئیں جب تحقیقاتی ادارے سی بی آئی نے محکمہ دفاعی پیداوار میں تعینات ایک سینئر فوجی افسر کو رشوت ستانی اور نجی کمپنیوں کے ساتھ غیر قانونی لین دین کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ بھارت کے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے بھارتی وزارت دفاع کے تحت محکمہ دفاعی پیداوار میں ڈپٹی پلاننگ آفیسرکے طور پر تعینات لیفٹیننٹ کرنل دیپک کمار شرما کو بنگلورو کی ایک دفاعی کمپنی سے 3لاکھ روپے رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا۔سی بی آئی نے اس کے احاطے پر چھاپوں کے دوران 2.23کروڑ روپے کی نقد رقم ضبط کی۔سی بی آئی نے دیپک کمار شرما کی اہلیہ کرنل کاجل بالی کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا ہے جو راجستھان کے علاقے سری گنگا نگر میں 16انفنٹری ڈویڑن آرڈیننس یونٹ کی کمانڈنگ آفیسر ہیں جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بدعنوانی بھارت کی مسلح افواج کے اعلیٰ عہدوں تک کس حد تک پہنچ چکی ہے۔تفتیش کاروں کاکہنا ہے کہ لیفٹیننٹ کرنل شرما پرائیویٹ ڈیفنس مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ مجرمانہ سازش کے تحت بدعنوانی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہے۔ اس نے اپنے سرکاری عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایسی کمپنیوں کو ناجائز فائدہ پہنچانے کے عوض رشوت وصول کی۔ایجنسی نے کہا کہ اسے رشوت کے لین دین سے متعلق مخصوص معلومات ملی ہیں جس میں بنگلورو کی ایک کمپنی شامل ہے جس کے معاملات راجیو یادو اور روجیت سنگھ سنبھال رہے تھے۔ سی بی آئی نے کہا کہ دونوں شرما کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں تھے اور اس کے ساتھ مل کر مختلف سرکاری محکموں اور وزارتوں سے غیر قانونی طور پر فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ کمپنی کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ونود کمارنامی شخص نے 18دسمبر 2025کو لیفٹیننٹ کرنل شرما کو رشوت کے طور پر 3 لاکھ روپے دیے تھے۔ اس معاملے میں ونود کمار کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔سی بی آئی نے تلاشی کے دوران دیپک کمار شرما کی دہلی رہائش گاہ سے رشوت کی رقم کے ساتھ 2.23 کروڑ روپے نقد برآمد کیے جبکہ سری گنگا نگر میں ان کی بیوی کی رہائش گاہ سے بھی 10لاکھ روپے ضبط کیے گئے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *