نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس میںمقبرہ نور جہاں اورمقبرہ جہانگیر کے پاس گریٹر اقبال پارک کی طرز پرپارک بنانے کی تجویزپر غور کیا گیااور لاہورکے 12تاریخی دروازوں کی بحالی کے منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔ شاہی قلعہ کے بالمقابل مریم زمانی بیگم مسجد کی بحالی اور تجاوزات ختم کرنے کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعلیٰ نے لاہور والڈ سٹی اتھارٹی کوتاریخی دروازوں کی بحالی کیلئے ٹائم لائن دیتے ہوئے کہا کہ لاہور کے تاریخی دروازوں کو اصل حالت میں بحال کرنے کے لئے جلد از جلد کام شروع کیا جائے اور تاریخی دروازو ں کے ارد گرد تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے۔اس ضمن میں بجلی کے تار زیر زمین کرنے کیلئے لیسکو سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔لاہوروالڈ سٹی اتھارٹی کے ماہرین لاہورکے تاریخی دروازوں کی بحالی کا پراجیکٹ کوحتمی شکل دیں گے اور ٹیکسالی،لوہاری،شاہ عالمی، موچی،اکبری، دہلی،یکی، روشنائی،شیراں والا،مستی گیٹ اوردیگر دروازوں کومرحلہ وار پروگرام کے تحت اصل حالت میں بحال کیا جائے گا۔ مجوزہ منصوبے کے تحت لاہور کے تاریخی دروازوں بھاٹی گیٹ، لوہاری گیٹ، موری گیٹ، موچی گیٹ، دہلی گیٹ کی بحالی اور تزئین و آرائش کی جائے گی۔ لاہور کے 13میں سے 5 بڑے تاریخی دروازوں کی اصل حالت میں بحالی سمیت سرکلر روڈ کی تعمیرو مرمت اس منصوبے میں میں شامل ہے۔ تاریخی دروازوں کے باہر ٹف ٹائلز اورمسنگ کرب سٹونز کی تنصیب جبکہ لائن اور لین مارکنگ کا کام بھی ہو گا۔ دروازوں کی بحالی میں ایل ای ڈی لائٹس کی تنصیب کے علاوہ آہنی جنگلے جبکہ کیٹ آئیز نصب ہوں گی۔ شہر کے خستہ حال تاریخی دروازوں اور سرکلر روڈ پر ٹریفک لوڈ کم کرنے کے لئے یہ مجوزہ منصوبہ تیار کیا ہے۔شہرِ لاہور ایک تاریخی شہر ہے جو صدیوں پہلے دریائے راوی کے کنارے تعمیر کیا گیا۔لاہور پنجاب کی ثقافت کے مختلف رنگ لیے اپنی مثال آپ ہے۔ کھانے، موسیقی، پہناوے الغرض ہر شے میں لاہور کا اپنا ایک رنگ چھلکتا ہے۔صدیوں پہلے شہر کی تعمیر کے بعد جب اس کو فتح کرنے کے لیے حملے شروع ہوئے تو اسے ایک اونچی دیوار پر مبنی چار دیواری سے محفوظ کر لیا گیا۔ اس چار دیواری کے 13 دروازے تھے۔پاکستان کا ثقافتی ورثہ انتہائی قیمتی ہے جس کو سیاحتی مقاصد کےلئے استعمال کرنا ملکی معیشت کےلئے نہایت سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ شہرِ لاہور کےدروازوں کی تاریخ پر بھرپور تحقیق کی جا سکتی ہے اور اس پر دلچسپ فلمیں اور ڈکومینٹریز تخلیق کی جا سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی فلمسازوں کی توجہ اس جانب مبذول کروائی جائے۔ لاہور اپنے اندر بےشمار کہانیاں سموئے ہوئے ہے۔ اس کے چپے چپے میں کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی ماہر فلمساز ان بکھری کہانیوں کو ب ±ن کر بین الاقوامی فلم سازوں کے سامنے پیش کرے۔ ان دروازوں کی تاریخ پر ہی اگر الگ الگ ڈاکومینٹری بنائی جائے تو شاید ہر دروازے کی تاریخ پر مبنی فلم یا ڈاکومینٹری ایک سے زائد اقساط پر مشتمل ہو گی۔ یوں یہ ڈاکومینٹریز اور فلمیں نہ صرف بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مثبت امیج اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی بلکہ اس سے ملک میں سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ ۔نگران حکومت کی طرف سے مجوزہ منصوبہ اس لئے بھی قابل تحسین ہے کہ ہمارے قیمتی ورثہ کی تشہیر ہوگی۔ ان دروازوں کی تزئین و آرائش سے ان پر فلم بنانے کی حوصلہ افزائی ہو گی جو بالآخر ملک میں سیاحت کے فروغ کا باعث بنے گی۔ محسن نقوی نے یوم شہدائے کشمیر کے موقع پراپنے پیغام میں کہا ہے کہ 1931 میں ڈوگرہ راج کی بربریت کا نشانہ بننے والے کشمیری شہداءکو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔نہتے کشمیریوں کوشہید کر کے ڈوگرہ راج نے بدترین فسطائیت کا مظاہرہ کیا۔ 92برس گزرنے کے بعد بھی ڈوگرہ راج کا تسلسل مودی راج کی صورت میں کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے۔کشمیریوں کی ہمت اور قربانی نے حق خودارادیت کیلئے ایک دلیرانہ جدوجہد کو جنم دیا جو آج تک جاری ہے۔ آج کے دن ہم کشمیری عوام کی اپنے بنیادی حقوق کےلئے جراتمندانہ جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔ مقدمہ کے دوران سینکڑوں کشمیری روزانہ عدالت کے باہر جمع ہو جاتے ایک دن ظہرکی نماز کاوقت ہوگیا۔ ایک شخص نے اذان دی۔ بعد میں جب صفوں کی ترتیب کےلئے ہجوم ہچکولے کھانے لگا‘ تو پولیس مجسٹریٹ سمجھا جیل پر حملہ کرنے کےلئے صف بندی کی جارہی ہے، اس نے فائرنگ کا حکم دیااور چشمِ زدن میں بائیس مسلمان خون میں نہاکر حیاتِ ابدی پاگئے۔ پہلے صرف ایک واقعہ پر مسلمان مشتعل تھے، اب جو یہ سانحہ رونماہوا‘ تو وہ بپھرگئے۔ 13جولائی 1931ءکے دن کشمیریوں نے 22قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر ایک عظیم انقلاب کی بنیاد رکھ دی ۔اس سفاکانہ واقعہ نے کشمیریوں کے دلوں میں حریت پسندی کے جذبے کو جنم دے دیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھارت نے کشمیر کے ایک بڑے حصے پر جبرا قبضہ کرکے معاہدوں اور دستاویزات کی دھجیاں اڑا دیں اور کشمیر کی عوام کو ظلم و ستم کے شعلوں میں دھکیل دیا۔اہل کشمیر ہر سال 13 جولائی کو اسی واقعہ کی یاد تازہ کرتے ہیں اور اسے یوم شہدا کے طور پر مناتے ہیں۔





