بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi °C
Saturday, 27 June 2026 | پاکستان: 12 محرم 1448

ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر کا سپریم کورٹ سے خطاب

Tuesday, 14 April, 2026

میں پیش کیا۔ سپریم کورٹ بار کے ممبر امجد علی شیرازی نے نعتیہ کلام سنایا ۔ اس پروگرام کے بعد تیسرا پروگرام ٹی ٹاک کارنر سپریم کورٹ بار کے حوالے سے منعقد ہوا۔ جس کی صدارت صدر سپریم کورٹ بار ہارون الرشید، نے کی۔ اس موقع پرایڈیشنل سکریٹری سردار طارق، فناس سیکٹری ساحرہ خالد راجپوت سینیر ممبر بار ٹی ٹاک کے روح رواں منظور علی گیلانی،سینیر ممبر بار احمد رضاخان قصوری، سابق جسٹس عبید الرحمان لودھی، جسٹس الطاف حسین قریشی جسٹس عاطر محمود، احسن الدین شیخ، ذوالفقار علی نقوی،خالد عباس خان ، سردار عاشق خان رند ، حافط احسان کھوکھر، ملک عامر حسین حمیدالزحمان، ملک عابد راجوری اور دیگر بار وکلا ساتھیوں نے شرکت کی۔ جمہوریہ ترکیہ کی آئنی عدالت کے وفد کو چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ افریدی نے ویلکم خطاب انگریزی میں کیا۔ اسی طرح سپریم کورٹ بار کے صدر ہارون رشید نے جمہوریہ ترکیہ کی آئنی عدالت کے وفد کا پرجوش استقبال کیا اور انگریزی میں خطاب کیا۔ اگر چیف جسٹس اف پاکستان اور صدر سپریم کورٹ بار اپنے خطابات قومی زبان اردو میں کرتے تو یہ پروگرام مزید اچھے ہو سکتے تھے، جیسے جمہوریہ ترکیہ کی آئنی عدالت کے صدر نے اپنا خطاب اپنی قومی زبان ترکیہ میں کیا اور ساتھ اس کا ترجمہ اردو میں کیا گیا جبکہ چیف جسٹس سپریم کورٹ، بار کے صدر اور سیکٹری نے انگریزی میں پروگرام کو ترتیب دیا۔اس موقع پر سوچ نے جنم لیا کہ ہمارے آئین کے مطابق اردو ہماری قومی زبان ہے۔اس کا استعمال کیوں نہیں کیا گیا۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر چیف جسٹس اور صدر سپریم کورٹ بار بھی اپنا خطاب قومی زبان اردو میں کرتے تو ہم سب کے سر بھی فخر سے بلند ہوجاتے۔ 1973 کا آئین جب وجود میں آیا تو لکھا گیا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گی ۔ مگر اس قومی زبان کو ہمیشہ سے نظر انداز کیا۔ دنیا کے بہت سے ممالک ایسے ہیں جن کی زبان انگریزی نہیں ہے اور وہ فخر سے اپنی قومی زبان میں تمام تقریبات میں خطاب کرتے ہیں ۔ جیسے ترکیہ کے آئنی عدالت کے صدر نے اپنی قومی زبان ترکیہ میں سپریم کورٹ کے پروگرام اور سپریم کورٹ بار کی تقریب میں خطاب کیا اور اس کا ترجمہ ہماری قومی زبان اردو میں کیا۔ سن کر ایسا لگا شائد ہمیں یہ یاد دلا رہے ہوں کہ اپ کی قومی زبان انگریزی نہیں اردو ہے۔ شکر ہے ہمارے وزیراعظم میاں شہباز شریف قوم سے خطاب اردو میں کرتے ہیں ۔ چین فرانس، جرمنی، جاپانی روس یہ سب سرکاری خطاب اپنی قومی زبانوں میں کرتے ہیں اور ترجمہ انگریزی میں یا اس ملک کی قومی زبان میں کرتے ہیں۔آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 251 کے مطابق پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور پندرہ سال کے اندر اردو زبان پر عمل کرنا ہو گا۔ یہ بھی لکھ دیا گیا تھا کہ اس عرصہ میں جب تک اردو مکمل نافذ نہیں ہو جاتی انگریزی استعمال ہوتی رہے گی مگر پندرہ سال گزرنے کے بعد ابھی تک اس پر عمل نہیں ہوا۔ انگریزی ہے کہ جان نہیں چھوڑ رہی۔ اسی لیے کہ اداروں میں اردو اور انگریزی دونوں استعمال میں ہیں۔جبکہ آئین اور قانون اردو کو نافذ کرنے کا حکم دیتا ہے مگر سوال ہے کہ ابھی تک اردو کا نفاذ کیوں نہیں ہو سکا میرے نزدیک ایسا نوآبادیاتی نظام کا تسلسل ہے۔برصغیر میں برطانوی حکومت کے وقت عدالتیں بیوروکریسی اور تعلیم کا نظام انگریزی میں تھا آزادی کے بعد بھی وہی نظام یہاں جاری رہا جس کا نتیجہ یہ رہا کہ اعلی سطح کا پورا نظام انگریزی کا عادی ہے ۔ بیورو کریسی اور اشرافیہ یعنی ایلیٹ کلاس کا اثر اعلی افسران بیورو کریسی انگریزی میں تربیت یافتہ ہوتے ہیں پھر پالیس سازی اورفائل ورک انگریزی میں ہیعدالتی نظام کے قوانین اور قانونی اصطلاحات انگریزی میں ہیں۔ لہذا عدالتوں میں انگریزی کا استعمال عام ہے۔ پاکستان میں تعلیم کے دو نظام چل رہے ہیں۔ ایک انگلش میڈیم پرائیوٹ سکول اور دوسرا اردو میڈیم۔سرکاری سکول حکمران طبقہ انگریزی کو ترجیح دیتا ہے ۔ 2015 میں سپریم کورٹ جسٹس جواد ایس خواجہ نے اردو زبان کے نفاذ کے حوالے سے ایک نہایت اہم فیصلہ دیا تھا، جو عام طور پر اردو نفاذ کیس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اردو کو سرکاری زبان بنایا جائے اور یہ کام 15 سال کے اندر ہونا تھا یعنی 1988 تک اور ابھی تک نہیں ہوا ۔ سپریم کورٹ عدالت نے لکھا تھا کہ اس آئینی حکم پر عمل نہ کرنا یہ خلافِ آئین ہے۔ عدالت نے حکم دیا تھا کہ تمام سرکاری دفاتر میں اردو کو رائج کیا جائے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت دی تھی کہ اردو کے نفاذ کے لیے واضح ٹائم لائن بنائیں۔ سرکاری افسران کو اردو میں کام کرنے کا پابند بنایا جائے۔ اس میں عدالت نے واضح کیا کہ آئین پر عمل کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر جوڈیشری نے اور بیوروکریسی نے آئین اور سپریم کورٹ کے عدالتی حکم کو ابھی تک نظر انداز کئے رکھا ہے سپریم کورٹ کے جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے حکم پر خود عمل نہ کیا جبکہ ان کے ہوتے ہوئے سپریم کورٹ کے تمام ججز کے بنچوں میں اردو کمپیوٹر سافٹ وئیر تک انسٹال ہو چکے تھے مگر جج صاحب نے اپنے کام کے آخری روز عدالتی کاروائی انگریزی میں کی اور عدالتی حکم انگریزی میں لکھوایا اور فل کورٹ ریفرینس انگریزی میں کیا اور گھر چلے گئے۔
اردو نافذ نہ ہونے کی بڑی وجہ اس ملک کی جوڈیشری ، بیورو کریسی اور تعلیمی نظام کی تقسیم ہے۔ پاکستان کا آئین اور سپریم کورٹ کی ججمنٹ قومی زبان اردو مانتی ہے مگر پھر بھی اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ اب ہم سے غیر ملکی امید رکھتے ہیں کہ ہم بھی خطاب اپنی قومی زبان اردو میں کیا کریں۔موجودہ حالات میں پاکستان نے ایران جنگ میں ثالثی کا کردار کرکے پاکستان اب ایشیا کا سپر پاور ملک بن چکا ہے۔ اب دنیا کا بچہ بچہ پاکستان کو جانتا ہے لہذا اب ضروری ہے کہ وہ یہ بھی جانے کہ ہماری ملک کی قومی زبان اردو ہے لہذا سرکار ، جوڈیشری آئین اور سپریم کورٹ کے عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے اردو کا نفاذ فوری کرے۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *