ملک میں جو بھی تھا جیسا بھی تھا، تعلیم کا میدان تمام تر نظر اندازیوں کے باوجود عام لوگوں کی کفالت کر رہا تھا۔تعلیم تجارت نہیں بنی تھی بلکہ اس دور کے اساتذہ کیلئے تعلیم دینا ایک طرح کی عبادت اور ایک طرز کی ریاضت ہوا کرتی تھی۔کتابیں سستی اور اسکول ،کالج اور یونیورسٹی کی فیسیں علامتی،یعنی بہت تھوڑی سی۔ یہی تعلیمی نظام ملک میں اچھے استاد ،اچھے میڈیکل ڈاکٹر، قابل انجینئر ، فاضل محققین، لائق منتظم اور دانشور سامنے لا رہا تھا جو نوجوان اپنی قابلیت اور صلاحیت کی بنیاد پر بیرون ملک وظائف پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے جاتے،وہ بھی وہاں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرکے نمایاں ہوتے تھے۔ یہی وہ پڑھے لکھے لوگ تھے جو نہ تو سیاستدانوں کو بھاتے تھے اور نہ ہی ملک پر درپردہ حکومت کرنیوالے گروہوں کو۔ ان گروہوں میں دیگر کے علاوہ بیوروکریسی اور اعلیٰ عدلیہ بھی سر سے لیکر پیر تک شامل اور عامل رہی ہے۔یہ سارے حقیقی معنوں میں نوسرباز گروہ ایک دوسرے کی مدد اور باہم تعاون کے بغیر کوئی “واردات” نہیں کر سکتے۔ان سب کو اپنے مقابل تعلیم یافتہ اور باشعور معاشرہ درکار نہیں۔اسکی سب سے موثر صورت تعلیم کی تحدید ہے۔اور اس مقصد کے حصول کی خاطر سرکاری تعلیمی اداروں کی چادر لپیٹ کر تعلیم کا شعبہ نجی کاروباریوں اور بیوپاریوں کے حوالے کرنے کا عمل عروج پر ہے۔ پرائمری، سکینڈری،ہائر سیکنڈری سطح کے نصابات کو بھی نشانہ بنایا گیا اور بجائے اس کے کہ ملک بھر میں پھیلی متوازی مدرسہ ایجوکیشن کو ملکی نظام تعلیم سے ہم آہنگ کیا جاتا، خود فارمل ایجوکیشن کو مدرسہ ایجوکیشن سے ہم آہنگ کرنے پر کام جاری ہے۔اسکے ساتھ ساتھ اعلی تعلیم کو بھی ملیامیٹ کرنے پر توجہ رہی۔ یہ واردات کرنے کیلئے پرویز مشرف دور میں؛جوں بھرے سر باہم جوڑے گئے اور ہایئر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی تشکیل سامنے آئی ۔ ہایئر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کو پاکستان میں اعلی تعلیم و تحقیق کا مکو ٹھپنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔کراچی سے ایک نادر سائنسدان صاحب کو چیئرمین بنایا گیا،اور پھر چل سو چل ۔سائنسی تحقیق کے نام پر اعلی تعلیم کی مرمت شروع ہوئی ، ساتھ ہی یونیورسٹیوں کی آزادی و خودمختاری کا تیاپانچہ کرنے کا آغاز ہوا اور منظر بالکل بدل کر رکھ دیا گیا۔اعلیٰ تعلیم کی غارت گری کا ایک پہلو یونیورسٹیوں کیلئے غیر موزوں قائدین کا تقرر بھی تھا ۔ اس مقصد کیلئے ملک میں اشتہارات کے ذریعے وائس چانسلرز کے انتخاب کا ڈرامہ شروع ہوا۔ قابلیت اور اہلیت کیلئے ایک مضحکہ خیز شرائط وضع کی گئیں۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستان میں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز جیسے محترم و معزز منصب کو عملا فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے میڈیکل ریپ جیسے بنا کر رکھ دیاکہ عملا جن کا کام ایک خود مختار اعلی تعلیمی ادارے کی قیادت کرنا نہیں ،بلکہ ایچ ای سی کی بے ڈھب اور یونیورسٹیوں کی خودمختاری کو ہڑپ کرنے والی پالیسیوں پر آنکھیں بند اور جیبیں کھول کر عمل کرنا رہ گیا ہے۔خیر یہ ایک طویل داستان ہے جسے اگر ضابطہ تحریر میں لایا جائے تو ضخیم کتابوں کے انبار لگ جائیں گے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کی سالہا سال کی گئی محنت بالآخر رنگ لے آئی ، اس کی ایک ادنیٰ سی مثال یہ ہے کہ ؛ پاکستان میں انٹرمیڈیٹ کرنے والوں کے سامنے بی ایس نامی ڈگری کا چار سالہ گہرا گڑھا کھود کر رکھ دیا گیا ہے۔ایسا پرائیویٹ سیکٹر کی نامکمل اور ادھوری یونیورسٹیوں کو چار سال تک بھاری فیسیں ادا کرنے والے گاہک فراہم کرنا تھا ۔ پاکستان میں اعلی تعلیم کے ساتھ کی گئی نوسربازی کیخلاف کوئی بھی بات کرنے کی ہمت نہیں کر پاتا ۔ پھر ایک تماشا یہ بھی ہے کہ بی ایس کرنے کے بعد جاب مارکیٹ میں نوجوانوں کیلئے کسی قسم کے مواقع نظر نہیں آ رہے۔بس ایک مکارانہ صدا سنائی دیتی ہے کہ ایم ایس کے داخلے کھل چکے ہیں ،چھیتی کرو۔اس بدنظمی اور بے ترتیبی سے پہلے اعلی ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دو سالہ بی ایس یا بی اے اور اس کے بعد دو سالہ ایم ایس سی یا ایم اے اور اگر اٹھارہ سالہ تعلیم مکمل کرنی ہے تو ماسٹر ڈگری کے بعد دو سالہ ایم فل یا ایم ایس کی ڈگری ہوا کرتی تھی۔طالب علم تعلیم کے اٹھارہ سال مکمل کرتے ہوئے تین جگہ قیام کرتے تھے ۔ہوتا یہ تھا کہ۔بی اے / بی ایس سی میں ایک طالب جس اختیاری مضمون میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتا تھا ، اسی میں وہ ماسٹر کی ڈگری کر لیتا تھا۔اب انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد ایک طالب علم کو چار سال تک تعلیمی عمل میں پھنسا لیا جاتا ہے۔پہلے دو سال تک بھاری فیسیں وصول کر کے اسے دائیں بائیں کے اور زیادہ تر اول فول قسم کے مضامین پڑھائے یا دکھائے جاتے ہیں۔اصل مضمون پڑھانے کی نوبت تیسرے اور چوتھے سالوں میں آتی ہے ۔یہ تضیع اوقات ہے۔ سیدھی سیدھی دھوکہ دہی ہے۔یہ بھاری فیسیں بٹورنے کا نسخہ ہے۔اور اس نسخے کے بے رحمانہ استعمال کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب ، ہماری یونیورسٹیوں کو طالب علم میسر نہیں آ رہے۔ اسی وجہ سے پاکستان کی تقریبا تمام یونیورسٹیاں اس وقت کم یا زیادہ مالی بحران کا شکار ہیں۔یونیورسٹیوں میں جو تعلیم جس قیمت یعنی جن فیسوں کے عوض پیش کی جارہی ہے ، اس کیلئے ملک میں طالب علم دستیاب نہیں ہیں۔ کئی یونیورسٹیوں میں اساتذہ اور اسٹاف کو بروقت تنخواہیں ادا کرنے کی سکت بھی باقی نہیں رہی لیکن ایچ ای سی بیرون ملک سے سائنس کے کسی مضمون میں ڈاکٹریٹ کرنے والے امیدوار کو ہی ہر یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنانے پر مصر اور عامل ہے ۔ اس میں چند شرائط اور بھی ہیں ،یعنی ایک مخصوص نیم مذہبی نیم سیاسی جماعت سے منظور شدہ وابستگی اور کچھ دیگر شرائط ۔ لیکن یہ دیکھنے اور سوچنے کی فرصت کسی کے پاس نہیں ہے کہ؛ اچھے وائس چانسلر کیلئے محض”سائنٹسٹ”ہوناکافی نہیں۔ اچھے سائنسدانوں کو لیںارٹری میں اپنا کام کرنے دیں ، تحقیق کرنے دیں۔ لیڈر شپ کے تقاضے کچھ اور طرح کی خوبیوں کا تقاضا کرتے ہیں۔ہمارے یہاں سوشل سائنسز کے پروفیسرز کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ پھر پنجاب کی اعلیٰ تعلیم کے اوپر ایک دہشت گرد ساواک بھی مسلط ہے،جس کی تائید کے بغیر وائس چانسلر منتخب نہیں کئے جاسکتے۔ہمارے سائنٹسٹ وائس چانسلرز مفروضہ ریسرچ پراجیکٹس، آلات کی خریداری، پھر ڈیجیٹلائزیشن کے نام پر مفت دستیاب آپشنز کو کروڑوں روپے میں خریدنے کے ماہر بھی ہوتے ہیں۔ یہ وائس چانسلر بھاری انویسٹمنٹ کر کے منصب حاصل کرتے ہیں۔تو پھر انہوں نے اپنا اور اپنے انویسٹرز کا پیسہ بھی مع منافع پورا تو کرنا ہوتا ہے ۔ چلییے ؛ ایک ٹیسٹ تجویز کرتا ہوں ۔پنجاب کی یونیورسٹیوں میں پچھلے بارہ سال کے دوران وائس چانسلر رہنے والے احباب کے اثاثوں کا آڈٹ کروایا جائے۔اور ان کے ملکیت کو ان کے معلوم ذرائع آمدنی کے ساتھ ملا کر پرکھا جائے۔ ساری تبلیغ و تلقین اور راست باز ماہرین تعلیم کی اصلیت سامنے آ جائے گی۔ مسلے کا ایک اور پہلو بھی ہے ۔ پاکستان کی متصرف قوتیں متوازی مسلکی مدارس کو ہی اپنا اصل اثاثہ سمجھتی ہے ،اور جدید تعلیم اور دستیاب معاصر تعلیم دینے والے اداروں کی فنڈنگ سے ہاتھ کھینچ رہی ہے ،مطلب انہیں ختم یا پرائیویٹ کرنا چاہتی ہے، اور اس سب کیلئے ایک بیانیہ رائج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔







تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں