جرم وسزا کی تاریخ بڑی پرانی ہے جب سے انسان نے شعور کی آنکھ کھولی جزا و سزا کا دنیاوی تصور بھی پیدا ہوگیا دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی بعض جرائم پر مختلف لوگوں کو سزا ئیں دی گئیں فاروق اعظم کے دور سے پہلے جیل خانہ کا رواج نہ تھا سب سے پہلے حضرت فاروق اعظم نے مکہ معظمہ میں صفوان بن امیہ کے گھر کو جیل میں تبدیل کیا ہزار درہم میں حکومتی سطح پر خرید کر اسے قید خانے کی صورت دے دی بعدازاں مختلف اضلاع میں بھی ڈسٹرکٹ جیل تعمیر کروائیں جہاں مجرموں کو رکھا جاتا تھا قاضی شریح قاضی القضا ہوئے تو فوجداری ہی نہیں دیوانی مقدمات کے لیے بھی مجرموں کو جیل بھیج دیا جاتا بعدازاں جیل خانہ جات کا باقاعدہ رواج ہو گیا اور ہر دور میں ملزموں کو عدالتی فیصلے سے پہلے اور عدالتی فیصلے کے بعد جیلوں میں رکھا جانے لگا آج دنیا بھر میں پولیس اور عدلیہ سے الگ محکمہ جیل خانہ جات کام کر رہے ہیں جنہیں پولیس اور عدالتوں کا تعاون حاصل ہے تاہم یہ امر بڑا تکلیف دہ ہے کہ سزا کی سنگینی اور کرختگی اپنی جگہ لیکن بہت سے بے گناہ لوگ بھی جیلوں میں پڑے سڑ رہے ہوتے ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا کئی کئی سال کی سزا بھگت کر معلوم ہوتا ہے کہ ملزم بے گناہ تھا ماہر وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ کریمنل جسٹس سٹسم اتنا ناقص ہے کہ اکثر بے گناہ افراد برسوں جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں اور کئی ملزم تو جیل کے ناسازگار ماحول میں ذوق جرم پال کر باہر نکلتے ہیں اور اچھے بھلے شریف شہری جیل کی ہوا کھانے کے بعد مجرم بن جاتے ہیں اس کا ایک بہت بڑا سبب جیل کے اندر کی دنیا کے مسموم اور خطرناک حد تک جرائم کو جنم دینے والے حالات ہیں پاکستان کی جیلوں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں بھی جرم افزودگی اور جرائم کوشی کے رجحانات میں اضافے کے بین آثار نظر آتے ہیں جیلوں میں مجرموں کی ذہنی اصلا ح و بحالی پر زور نہ دینا ایک ایسے دائرے کو برقرار رکھتا ہے جس سے جرائم میں کمی نہیں آتی اور مجرم جرم کے بعد دوبارہ جرم کرنے پر مجبور رہتے ہیں یہ ایک تسلیم شدہ امر ہے کہ مجرموں کی ذہنی اصلا ح و بحالی کے پروگرام دوبارہ جرم کے امکانات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ترقی یافتہ ممالک جیسے ناروے اور سویڈن نے مجرموں کی ذہنی اصلا ح و بحالی کی جامع کوششوں کی کامیابی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں بین الاقوامی معیارات قائم کئے ہیں ان ممالک میں مجرموں کی ذہنی اصلا ح و بحالی کو محض رسمی طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ نظام انصاف کے ایک لازمی جزو کے طور پر دیکھا جاتا ہے تعلیم پیشہ ورانہ تربیت اور نفسیاتی و سماجی مدمیں سرمایہ کاری کر کے ان قوموں نے اپنی اصلاح پسندی کی شرح کو نمایاں کیا ہے اور مجرموں اور مجموعی طور پر معاشرے دونوں کیلئے نتائج کو بہتر بنایا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ ان معاشروں میں جرائم کی تعداد کم ہے اس کے برعکس پاکستانی جیلوں میں مجرموں کی ذہنی اصلاح و بحالی کیلئے مناسب وسائل کی کمی ہے مجرموں کے معاشرے میں طویل مدتی دوبارہ انضمام کے بجائے تعزیری اقدامات پر توجہ دی جاتی ہے انھیں اصلاحات کی بجائے سزا کی طرف دھکیلا جاتا ہے پاکستان کا آئین تمام شہریوں کے ساتھ مساوات کا درس دیتا ہے مگر جیل کے اندر آئین اور قانون کی نہیں جیل حکام اور عملے کی حکمرانی ہوتی ہے اور اس حکمرانی کو انسان کے مرتبے کو دیکھ کر استعمال میں لایا جاتا ہے بے بس مجبور اور غریب قیدیوں کے لئے تمام قواعد وضوابط حرکت میں آجاتے ہیں لیکن صاحب ثروت صاحب اقتدار اور سفارشی کے لئے قواعد وضوابط ہوا میں دھول بن کر اڑ جاتے ہیں جیلوں کے نظام میں اصلاحات ایک نازک مسئلہ ہے اس کے لئے نئے قوانین اور نظام متعارف کروانا اور ان امتیازی رویوں کو ختم کرنا ناگزیر ہے جو انصاف کے اسقاط کو ہوا دیتے ہیں چاروں صوبوں میں موجود جیلوں میں ہر قسم کے غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس اصلاحات اور جیل قوانین میں ترمیم کے ساتھ کے ساتھ اس پر عمل درآمد ضروری ہے قیدیوں کو بنیادی سہولیات بشمول رہائش صحت کی دیکھ بھال تعلیم تفریح اور خوراک کی خدمات بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معیار کے مطابق فراہم کی جائیں اور انہیں پیشہ ورانہ مہاتیں سکھائی جائیں تاکہ وہ معاشرے میں دوبارہ انضمام میں آسانی محسوس کر سکیں اصلاح کے حصول کیلئے جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ذہنیت میں تبدیلی کی ہے تاکہ انسان جیل سے نکل کر معاشرے کا کارآمد شہری بن سکے قومی کانفرنس میں چاروں وزرائے اعلی کا جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدیوں کا بوجھ کم کرنے ضمانت پیرول پروبیشن اور غیر حراستی متبادل نظام کو موثر بنانے جیلوں میں صحت ذہنی صحت غذائیت صفائی اور بنیادی سہولیات بہتر بنانے تعلیم فنی تربیت منشیات سے بحالی اور رہائی کے بعد بحالی پروگرامز کو وسعت دینے جداری نظام کے تمام اداروں کے درمیان مو ثر رابطے اور بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنانے خواتین بچوں خصوصی افراد اور ذہنی امراض میں مبتلا قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کے عزم کا اظہار جبکہ تشدد بد سلوکی اور غیر انسانی سلوک کے خاتمے شکایات کے موثر ازالے پر زور اور جیل اصلاحات کیلئے صوبائی سطح پر ٹائم لائن وسائل کی فراہمی اور مانیٹرنگ کا نظام قائم کرنے کا اعلان خوش آئند ہے بامعنی اور پائیدار جیل اصلاحات کے لیے ایگزیکٹو عدلیہ اور مقننہ کے درمیان مربوط اقدامات ناگزیر ہیں قانونی انسانی اور بحالی پر مبنی جیل نظام تشکیل دینے کیلئے جیل اصلاحات محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ آئینی انسانی عوامی تحفظ کا لازمی تقاضا بھی ہیںجیل اصلاحات کے سلسلے میں منعقدہ قومی کانفرنس کے موقع پر چاروں وزرائے اعلی کا اسلام آباد ڈیکلریشن پردستخط اصلاحات کیلئے مشترکہ قومی کوشش کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہے امید ہے کہ چاروں صوبائی حکومتیں اس پر عمل درآمد کے لئے ٹھوس اقدامات اور بے لاگ احتساب کو یقینی اور جیلوں کو محض سزا کی جگہ نہیں بلکہ حقیقی معنوں میںاصلاح کا ذریعہ بنایا جائے گا۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں