اسلام آباد — وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت تاجروں اور صنعت کاروں کے تحفظات سننے کے لیے ملک بھر کے بڑے چیمبرز آف کامرس کے ساتھ رابطہ کر رہی ہے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے تندہی سے کام کر رہی ہے۔
فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی بجٹ کی تیاری کے دوران تاجروں اور صنعتکاروں کی تجاویز کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
مالی سال 2025-26 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 21.6 فیصد بڑھ کر 39.5 بلین ڈالر تک پہنچ گیا
انہوں نے مزید کہا کہ اگلے بجٹ کے لیے مشاورت پہلے سے شروع ہو جائے گی جس میں ملک بھر کی تاجر برادریوں اور تجارتی اداروں سے سفارشات طلب کی جائیں گی۔
محمد اورنگزیب نے تاجروں اور چیمبرز پر زور دیا کہ وہ ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ مکمل تعاون کریں تاکہ قومی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ کاروبار کرنا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے جبکہ سازگار کاروباری ماحول فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ ملک میں صنعتی اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے فنانسنگ کو مزید وسعت دی جائے گی۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں