منصب کو صرف مشاورتی کردار تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اسے وسیع انتظامی اور آپریشنل اختیارات بھی دیے گئے ہیں۔ ان میں تینوں افواج کے درمیان آپریشنل ہم آہنگی، مشترکہ تربیت، تنظیم، جنگی تیاری، رابطہ کاری اور دفاعی شعبوں کے انضمام جیسے امور شامل ہیں۔ افرادی قوت کے حوالے سے بھی چیف آف ڈیفنس فورسز کو وسیع اختیارات حاصل ہونگے ۔ وہ متعلقہ قوانین کے تحت اہلکاروں کو ریٹائر یا ملازمت سے سبکدوش کرسکتے، استعفی منظور یا مسترد کرسکتے اور بعض حالات میں عمر یا مدتِ ملازمت کی مقررہ حدود میں نرمی بھی کرسکتے ہیں۔ تاہم آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت مقرر ہونیوالے سروس چیفس اس اختیار سے مستثنیٰ ہوں گے۔نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق ترامیم کے نتیجے میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے سابق منصب کی جگہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا منصب متعارف کرایا گیا ہے اور ان تبدیلیوں کو 27 نومبر 2025 سے موثر قرار دیا گیا ہے۔ یہ تبدیلیاں عالمی سطح پر ابھرتے ہوئے اس رجحان سے کسی حد تک ہم آہنگ ہیں جس میں جدید جنگی تقاضوں کے باعث تینوں افواج کے درمیان بہتر انضمام اور ایک مرکزی عسکری مشاورتی نظام پر زور دیا جا رہا ہے۔ امریکہ، بھارت، برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت متعدد ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف، چیف آف ڈیفنس فورس یا چیئرمین جوائنٹ چیفس جیسے مناصب موجود ہیں۔ تاہم ان عہدوں کے اختیارات اور سویلین حکومت سے تعلق کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔امریکہ میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اعلی ترین عسکری افسر اور صدر، نیشنل سکیورٹی کونسل اور سیکریٹری دفاع کے بنیادی عسکری مشیر ہیں۔ لیکن انہیں مسلح افواج پر براہِ راست آپریشنل کمان حاصل نہیں۔ امریکی نظام میں کمان کا سلسلہ صدر سے سیکرٹری دفاع اور پھر جنگی کمانڈروں تک جاتا ہے۔ چیئرمین کا کردار بنیادی طور پر مشاورت، عسکری منصوبہ بندی، مشترکہ نظری جنگ کی تشکیل اور رابطہ کاری تک محدود ہے۔ اس نظام کا مقصد مشترکہ عسکری سوچ کو فروغ دینا اور ساتھ ہی سویلین بالادستی کو برقرار رکھنا ہے۔بھارت میں چیف آف ڈیفنس اسٹاف تینوں افواج کے معاملات میں وزیر دفاع کے بنیادی عسکری مشیر، چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے مستقل چیئرمین اور محکمہ عسکری امور کے سربراہ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں مشترکہ آپریشنز، تربیت، رسد، دفاعی خریداری اور تھیٹر کمانڈز کے قیام میں ہم آہنگی شامل ہے۔ تاہم ہر سروس چیف اپنی متعلقہ فوج کی کمان برقرار رکھتا ہے۔ اس طرح بھارتی ماڈل میں مشترکہ منصوبہ بندی اور انضمام کو اہمیت دی گئی ہے، لیکن تمام آپریشنل اختیار ایک ہی منصب میں جمع نہیں کیا گیا۔ برطانیہ میں چیف آف دی ڈیفنس اسٹاف مسلح افواج کے پیشہ ورانہ سربراہ اور وزیراعظم و وزیر دفاع کے بنیادی عسکری مشیر ہیں۔ برطانوی نظام میں مشترکہ عسکری منصوبہ بندی اور جنگی تیاری کے لیے مرکزی ادارہ جاتی ڈھانچہ موجود ہے، جبکہ سویلین حکومت اور ڈیفنس کونسل کی نگرانی بھی برقرار رہتی ہے۔ کینیڈا اور آسٹریلیا میں بھی چیف آف دی ڈیفنس اسٹاف یا اسی نوعیت کے منصب کو مسلح افواج کی متحدہ کمان میں اہم کردار حاصل ہے، مگر یہ اختیارات حکومتی ہدایات اور سویلین بالادستی کے تابع ہوتے ہیں۔اس عالمی تناظر میں پاکستان کا ماڈل ایک طرف جدید تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے تو دوسری طرف اس میں چند نمایاں خصوصیات بھی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز بیک وقت چیف آف آرمی اسٹاف بھی ہوں گے۔ یہ امتزاج اسے کئی دوسرے ممالک کے ماڈلز سے مختلف بناتا ہے۔ بعض ملکوں میں مشترکہ عسکری سربراہ کو کسی ایک سروس کی روزمرہ کمان سے الگ رکھا جاتا ہے، جبکہ بعض جگہ یہ منصب مشاورتی نوعیت کا ہوتا ہے۔ پاکستان میں دونوں ذمہ داریوں کا یکجا ہونا ایک نسبتا مرکزی عسکری ڈھانچہ تشکیل دیتا ہے۔دوسرا اہم پہلو اختیارات کا دائرہ ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز کو نہ صرف تینوں افواج کی آپریشنل کمان اور رابطہ کاری میں مرکزی کردار حاصل ہے بلکہ افرادی قوت سے متعلق بھی وسیع اختیارات دیے گئے ہیں۔ ریٹائرمنٹ، سبکدوشی، ملازمت میں برقرار رکھنے اور بعض حالات میں عمر یا مدتِ ملازمت میں تبدیلی جیسے اختیارات ایک ہی منصب میں جمع ہونا اسے ایک جامع اور طاقتور عسکری عہدہ بناتا ہے۔یہاں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ مشترکہ عسکری کمان زیادہ مثر ہے یا نہیں۔ جدید جنگ میں تینوں افواج کے درمیان مضبوط تعاون یقینا ضروری ہے۔ فضائی، بحری، زمینی، سائبر اور دیگر شعبوں میں جنگی کارروائیوں کا باہمی انضمام فیصلہ کن اہمیت اختیار کرچکا ہے۔ ایک مربوط کمان فیصلہ سازی کو تیز، منصوبہ بندی کو مثر اور وسائل کے استعمال کو زیادہ منظم بنا سکتی ہے۔ لیکن طاقتور کمان کے ساتھ طاقتور احتساب بھی ضروری ہے۔جمہوری نظام میں دفاعی اداروں کی پیشہ ورانہ خودمختاری اور سویلین بالادستی کے درمیان توازن بنیادی اصول ہے۔ پارلیمانی نگرانی، واضح قانونی حدود، حکومتی جواب دہی اور ادارہ جاتی توازن اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ دفاعی قوت قومی مفاد کیلئے استعمال ہو اور کسی ایک ادارے یا منصب میں غیر معمولی طاقت کا ارتکاز نہ ہوجائے۔لہٰذا نئے دفاعی نظام کی کامیابی کا انحصار صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ تینوں افواج کتنی بہتر انداز میں ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتی ہیں، بلکہ اس پر بھی ہوگا کہ اختیار اور احتساب کس طرح ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ قومی دفاع مضبوط بنانے کے لیے مربوط کمان ضروری ہے، مگر اسی کے ساتھ تمام سروسز کی پیشہ ورانہ حیثیت، ادارہ جاتی توازن، پارلیمانی نگرانی اور سویلین بالادستی بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ریاستی نظم کی اصل آزمائش یہی ہے کہ **کمان اور احتساب، قوت اور ذمہ داری، پیشہ ورانہ خودمختاری اور جمہوری نگرانی** ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ رہیں کہ قومی دفاع مضبوط ہو، فیصلہ سازی موثر ہو اور ریاست کے بنیادی جمہوری ادارے بھی مستحکم رہیں۔





تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں