عصرحاضرکے تقاضوں کے مطابق جدیدتعلیم کسی بھی ملک وقوم کیلئے انتہائی ضروری ہے ۔آج دُنیاگلوبل ویلج بن چکی ہے اورانفارمیشن ٹیکنالوجی اورمصنوعی ذہانت نے انقلاب برپاکردیاہے ۔پاکستان میں تعلیمی شعبے میں دانش سکول سسٹم ایک ایسا فلاحی منصوبہ ہے، جس کا مقصد معاشرے کے پسماندہ، غریب اور نادار طبقات کے ہونہار بچوں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کرنا ہے۔دانش اسکولوں کا آغازبھی وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمدشہبازشریف نے بطوروزیر اعلیٰ پنجاب صوبہ میں شروع کیاتھاجس کادائرہ کارپورے ملک میں وسیع کیاجارہاہے جس کا بنیادی مقصد امیر اور غریب کے درمیان تعلیمی فرق کو کم کرنا ہے تاکہ غریب گھرانے کا بچہ بھی بڑے تعلیمی اداروں اور عصری تقاضوں کا مقابلہ کر سکے۔ سرکاری سطح پر چلنے والے یہ ادارے جدید ترین سہولتوں سے آراستہ ہیںجن میں چھٹی جماعت سے لے کر بارہویں جماعت تک تمام طلباء کو بالکل مفت تعلیم دی جاتی ہے۔مفت تعلیم کیساتھ ساتھ طلباء کے لیے معیاری ہاسٹلز کی سہولت اور روزانہ 3 وقت کا صحت بخش کھانا بھی مفت فراہم کیا جاتا ہے۔کھانے کے علاوہ اسکول کی وردی، جوتے، جوگرز، اور کھیلوں کے ٹریک سوٹ بھی مفت دیے جاتے ہیں۔ بارہویں جماعت کے بعد بچوں کو یونیورسٹیوں میں داخلے یا روزگار کے حصول میں بھی مدد دی جاتی ہے اور اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف بھی دیے جاتے ہیں۔حکومت پاکستان کے اِس فلاحی منصوبے میں شفافیت اورمیرٹ کیلئے بھی انتہائی احسن اقدامات ہیں اور دانش اسکولوں میں داخلے ہر سال ایک باضابطہ اور مسابقتی امتحان کے ذریعے دیے جاتے ہیں۔گزشتہ روزہی وزارت تعلیم اور گوتھ اے آئی کے درمیان تعاون کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں گوتھ اے آئی کی جانب سے پاکستان کو ابتدائی طور پر 4 ہزار تعلیمی سبسکرپشنز فراہم کرنے کے اعلان کو سراہتے ہوئے وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمدشہبازشیرف نے کہا کہ ان میں سے ایک ہزار سبسکرپشنز دانش سکول کری، اسلام آباد کے اساتذہ کے لیے مختص کی جائیں گی۔ وزیراعظم نے گوتھ اے آئی کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ تعاون ترقی، خوشحالی اور باہمی تعلقات کے فروغ کی جانب ایک مثبت پیش رفت ثابت ہوگا اور مستقبل میں جدید تکنیکوں اور ٹیکنالوجیز سے استفادے کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔تقریب میں وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمدشہبازشریف نے دانش سکول کری کے اساتذہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ سکول کے دورے کے دوران ان کی بعض اساتذہ سے ملاقات ہوئی تھی تاہم وہ تمام اساتذہ سے ملاقات کرنا چاہیں گے۔وزیراعظم نے سکول کے پرنسپل کی تعیناتی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں پرنسپل اس لیے منتخب کیا گیاکہ وہ ایک قابل اور شاندار شخصیت ہیں اور دانش سکول کری میں تعلیمی انقلاب لانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں پورا یقین ہے کہ دانش سکول کے طلبہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ دانش سکول کری میں طلبہ کو نہ صرف تمام ضروری سہولیات فراہم کی گئی ہیں بلکہ یہ سہولیات اس تعلیمی ڈھانچے سے بھی بہتر ہیں جو انہوں نے پنجاب میں قائم کیا تھا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں کسی بچے کا مستقبل اس کے والدین کی مالی حیثیت سے طے نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر ذہین بچے کو معیاری تعلیم حاصل کرنے اور اپنی صلاحیتوں کے بل پر آگے بڑھنے کے یکساں مواقع ملنے چاہئیں۔ انھوں نے کہا کہ دانش سکولوں کا مقصد غریب اور مستحق خاندانوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے دروازے کھولنا اور امیر و غریب کے درمیان تعلیمی فرق کم کرنا ہے۔ دانش سکولز کو اشرافیہ کے سکولوں سے بھی اچھا بنائیں گے۔ شہباز شریف نے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ کی مثال دی جس نے بچپن میں اپنے والد کو کھو دیا تھا، والد کی وفات کے بعد اس بچی کے خواب بکھر گئے تھے کیونکہ اس کے خاندان کے پاس تعلیم کے لیے مطلوبہ وسائل نہیں تھے لیکن مشکلات کے باوجود اس نے ہمت نہیں ہاری اور ڈاکٹر بن کر انسانیت کی خدمت کے قابل ہوئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایسے بچوں کی کامیابی اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ صلاحیت اور ذہانت کسی مخصوص طبقے کی میراث نہیں۔
قارئین کرام!دانش اسکول دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے نادار بچوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں بلکہ ان کی شخصیت سازی، کھیل کود اور اخلاقی تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں، جس سے ملک میں میرٹ اور مساوات کو فروغ ملتا ہے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ مادرعزیزکے نوجوانوں کیلئے وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت بھی اقدامات جاری ہیں حال ہی میں وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے تحت کروم بکس سکیم کابھی آغازکردیاگیاہے جس سے سرکاری سکولوں کے بچے بھی جدیدتعلیم ،انفارمیشن ٹیکنالوجی ،مصنوعی ذہانت کی تعلیم اور ہنرسیکھیں گے۔




تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں