بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 26.3°C
Friday, 12 June 2026 | پاکستان: 27 ذوالحجۃ 1447

سائل کو ہم پر اعتماد نہیں ہے، یہ تسلیم کرنے میں عار محسوس نہیں کرتا ، چیف جسٹس اطہر من اللہ

Wednesday, 2 November, 2022

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے بیان جاری کیا ہے کہ میں یہ تسلیم کرنے میں عار محسوس نہیں کرتا کہ سائل کو ہم پر اس طرح کا اعتماد نہیں مگر 70 سال کے نظام کو جادو کی چھڑی سے تبدیل بھی نہیں کر سکتے، سائلین کو سستا اور فوری انصاف نہ ملے تو یہ عمارتیں بے معنی ہیں۔ شاہراہ دستور پر اسلام آباد ہائی
تفصیلات کے مطابق کورٹ کی نئی بلڈنگ میں عارضی قانونی سہولت مرکز کا افتتاح ہو گیا، افتتاح کے مو قع پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ہائی کورٹ کی نئی عمارت کے ملحقہ مستقل قانونی سہولت مرکز کا سنگ بنیاد بھی رکھا۔ تقریب میں چیف جسٹس ، ہائی کورٹ کے دیگر ججز ، سیشن ججز بھی شامل تھے۔ وفاقی وزیر قانون سردار ایاز صادق ، سابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی تقریب میں شریک ہوئے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیر ، سابق صدر احسن بھون بھی تقریب کا حصہ بنے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تقریب سے خطاب میں کہا ستر سال کے نظام کو جادو کی چھڑی سے تبدیل نہیں کر سکتے۔ قوانین پر نظرثانی ہونا ضروری ہے ۔ ججز یا عدلیہ کسی قسم کی تنقید سے خوفزدہ نہیں کیونکہ تنقید سے اصلاح ہوتی ہے۔ وکلا کی لیڈرشپ کو مبارکباد دیتا ہوں۔ لائرز کمپلیکس کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ وزیر قانون نے ٹھیک کہا کہ عدلیہ کے لیے بہت سارے چیلنجز ہیں۔ اگر سائلین کو سستا اور فوری انصاف نہ ملے تو یہ عمارتیں بے معنی ہیں۔
چیف جسٹس بولے ہم نے سوچا کہ عمارتیں تو ہوتی رہیں گی مگر ستر سالہ نظام کی تبدیلی اور اصلاحات ضروری ہیں۔ ایک اصلاحاتی نظام سے متعلق پیپر ورک کر کے وفاقی حکومت کو بھی آن بورڈ لیا ہے۔ ہمارا احتساب بھی ہونا ہے، ہم جج صاحبان کو تنقید سے کوئی خوف یا ڈر نہیں۔ ہم تنقید سے نہ متاثر ہوتے ہیں اور نہ وہ تنقید ہم پر کوئی اثر ڈالتی ہے۔ موجودہ حکومت اور وزیر اعظم کی ذاتی دلچسپی کے باعث منصوبوں کی تکمیل ہو رہی ہے۔ عوام اور سائلین کا کتنا اعتماد ہے؟ اس کو بحال کرنا ہے، یہی ہمارا ارادہ اور مقصد ہے۔ عدلیہ پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے سیاسی قوتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

رائے کا اظہار کریں

ضروری خانے * سے نشان زد ہیں