از ابتداء تا امروز حق و باطل کی کشمکش برپا ہے ۔اہل باطل مختلف روپ دھار کر حق کا راستہ روکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔کبھی نمرود کے روپ میں ،کبھی فرعون کی شکل میں ،کبھی شداد کے بھیس میں کبھی ابوجہل اور کبھی ابو لہب کے لباس میں تو کبھی اسلام کے لبادے میں یزید بن کر نور خدا کو گل کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔مسلمانان عالم محرم کے ان ایام میں اسلام کے اس بطل جلیل کی یاد مناتے ہیں جس نے اپنی خونی قربانیوں سے اپنے عدیم النظیر ایثار سے ،اپنے بلند ترین کردار سے اپنے دشمنوں سے بھی منوا لیا کہ حسین اسلام کا مجسمہ اور دین کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔آج دنیا میں بدکرداریوں کا سلسلہ جاری ہے عیش وعشرت کے دھنی مال و دولت کے متوالوں کی اکثریت ان جرائم میں ملوث ہے جس سے اسلام نے شدت کے ساتھ منع کیا تھا ۔دنیا کا ہر آزادی خواہ ،ہر جرأت مند ،ہر انصاف جو ،ہر مفکر،ہر عابد ،ہر زاہد اور ہر مصلح تا صبح محشر حسین کاممنون ہے ۔آج ہمیں بھی اسوہ شبیری کو رہنما مان کر اپنے کردار و اصلاح کی طرف توجہ دینی چاہئیے ۔محرم الحرام کے دن غم و اندوہ میں ڈوبے ہوئے ہوتے ہیں ۔ذکر نواسہ رسولۖ جگر گوشہ علی و بتول میں شیعہ سنی کی تخصیص نہیں ۔ان ایام مخصوص میں غم حسین ،غم دنیا،غم روزگار غرض ہر غم پر بھاری نظر آتا ہے محرم الحرام کے ان دنوں راقم کا غم حسین کے سلسلہ میں برپا ہونے والی ایک مجلس میں جانا ہوا ۔بانی مجلس کے انتظام و انصرام اس کی امام عالی مقام کے حضور عقیدت مندی کے غماز تھے ۔مجلس میں چند نوجوانوں نے امام مظلوم کربلا کے حضور عقیدت مندی کا اظہار ایک نوحہ کے اشعار کی صورت میں کیا جس کا طرح مصرعہ تھا۔
اے کاش میں بھی ہوتا میدان کربلا میں
نوحہ کے تمام اشعار رقعت آمیز تھے ،جن میں امام مظلوم کے ساتھ دلی وابستگی کے جذبات کا اظہار تھا ۔نوحہ کے اشعار کا مرکزی خیال یہی تھا کہ اگر میں بھی میدان کربلا میں موجود ہوتا تو ان پر اپنی جان فدا کرتا ،اپنا قرض اتارتا اور اپنا نام شہدائے کربلا کی فہرست میں شامل کرواتا ۔اشعار نوجوانوں کے دلی جذبات کی عکاسی و ترجمانی کر رہے تھے ۔یہ درد انگیز اشعار سننے پر راقم کے نہاں خانۂ دل سے کئی خیالات و احساسات ابھر رہے تھے کہ آیا ہم نے سانحۂ کربلا سے کوئی سبق سیکھا ہے ۔ہمارے نفس خفتہ میں بیداری کی لہر پیدا ہوئی ہے ۔امام مظلوم کے دیے ہوئے سبق پر عمل پیرا ہونے کی سعی کی ہے ۔جن اصولوں کی پاسداری میں اہل بیت کے سبھی شرکاء نے ایمان و کردار کے اوج پر پہنچ کر یقین کی پختگی کا ثبوت دیا ان اصولوں کی آبیاری میں ہم نے اپنی زندگی کے قول و فعل میں انہیں کوئی جگہ دی کہیں ان کی پامالی تو ہم سے سرزد نہیں ہوئی ،اور اگر ایسا ہوا تو پھر نوحہ گری کی ضرورت ہے ہماری بے حسی پر، ہمارے خفتہ ضمیر پر جس کے زیر اثر ہمارے خلوص ،عشق،ذوق و شوق ،جوش و جذبات ،محبت،تڑپ ،باہمی رواداری جیسے احساسات مادیت کے زیر اثر کہیں کھو گئے ۔مادیت پرستی میں ہم اتنا آگے نکل چکے کہ ان خوبصورت جذبوں سے ہم خود ہی خوف زدہ ہو گئے ۔ہم ان جذبوں کی صداقت کو نظر انداز کر کے ان کو سلانے اور بیداری کو دبانے کی سعی کرتے نظر آئے ۔دین اسلام میں وحدت فکرو عمل کو اولین حیثیت حاصل ہے لیکن افسوس کہ اسی عالمگیر دین کو ہم وطن عزیز میں آج اجنبی محسوس کرتے ہیں ۔ہم چھوٹی چھوٹی اکائیوں میں تقسیم ہو گئے ۔ہمارے اندر ایسے گروہ پیدا ہو گئے جو فرقہ وارانہ عصبیتوں اور مذہبی ہم آہنگی کی فضا کو غبار آلودہ رکھنے کا باعث بنے ۔محبت و رواداری کی جگہ باہمی عداوت و بے زاری نے لے لی ۔اسلام نے ہمیں امن و آشتی کی تعلیم دی لیکن یہاں ہم نے معصوم انسانوں کے گوشت کے لوتھڑے اڑا دیے ۔غیر مسلموں میں تو پہلے ہی ہمارے خلاف غلط تصورات شدت سے موجود ہیں اور وہ مسلمانوں کو انتہا پسند سمجھتے ہیں ۔ہم ہیں کہ ان تمام حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے اس خیال خام پر مطمئن ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ۔یہ سب ہمارا فریب نظر ہے۔ہم اپنے عظیم اسلاف کی عظیم قربانیوں اور اعلیٰ روایات پر اتراتے تو ضرور ہیں لیکن ان پر عمل کرنے سے کتراتے ہیں ۔قربانی ایک مذہبی فریضہ بھی ہے اور ایک سچا جذبہ بھی ۔جان کی قربانی کو سب قربانیوں پر فوقیت حاصل ہے۔دنیا میں انسان کی سب سے قیمتی متاع زندگی ہے ،اسے قربان کرنا کسی سچے نظریے پر ،کسی عظیم مقصد پر کوئی چھوٹی بات نہیں ۔خودنبی پاکۖ اور صحابہ کرام کی زندگیاں ہمارے سامنے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں اسلام کی ترویج و اشاعت کیلئے وقف کر دیں اور اسلام قبول کرنے کی پاداش میں ان پر تشدد کی انتہائیں کر دی گئیں لیکن باوجود ان سب کے خدا کی وحدانیت اور نبیۖ کی رسالت کے اقرار میں ان کی زبان نے ذرا سی لغزش نہ دکھائی ۔دراصل یہی حوصلہ ہے ،یہی ایمان کی قوت ہے ،یہی جواں مردی ہے ،یہی یقین کی دولت ہے ۔عقیدہ کی مضبوطی اور کائنات کو پیدا کرنے والی ذات پر پختہ یقین ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو اسلامی معاشرہ کی واحد فکری بنیاد ہے ۔کربلا محض ایک مقتل نہیں بلکہ ایک مکتب ہے ۔ہم نے عہد موجود میں کربلا کے غم کو صرف آنسوئوں کا نذرانہ پیش کیا رسمی انداز میں واقعات کربلا کو سنا لیکن کربلا میں خانوادۂ رسولۖ کی قربانیوں سے وہ سبق حاصل نہ کیا جس کیلئے اتنی عظیم شہادت پیش کی گئی ۔حسینیت محض چند رسومات اور تکلفات کا نام نہیں ،حسینیت نام ہے جذبۂ جہاد اورشوق شہادت کا۔کربلا کے واقعات انسانوں کیلئے ایک راہ عمل متعین کرتے ہیں اور مصائب میں نہ گھبرانے کا حوصلہ عطا کرتے ہیں امام مظلوم کی قربانی انسانیت کے شرف اعلیٰ کا وہ مقام ہے جس کے پیش نظر اس ذات گرامی پر دنیا تحسین کے پھول نچھاور کرتی ہے ۔امام حسین کی یہ تحریک آمریت اور ملوکیت کے خلاف ایک صدائے احتجاج تھی ۔یہ قربانی حق و صداقت اور آزادی کا ایک در س ہے ۔دنیا کی ہر شے کو فنا ہے مگر خون شہادت کے یہ قطرے جو اپنے اندر حیات الٰہیہ کی روح رکھتے ہیں کبھی فنا نہیں ہوتے ۔ان اہل ایمان نے تو اس وقت بھی اپنے خلاف جدال و قتال کے اس مرحلے میں بھی صدق و صفا سے انحراف نہ کیا ،جن کے قاتلوں کو یقین تھا کہ ابد تک امام حسین اور ان کے رفقاکا کوئی نام لیوا باقی نہ رہے گا لیکن وقت کا فیصلہ مختلف تھا ۔یزید ہمیشہ کیلئے برائی اور امام حسین دائمی اچھائی کا نام بن گیا ۔امام کی قربانی کا تذکرہ جھوٹ،جبروتشددسے ہمیشہ کیلئے بیزاری اور ظالم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنے کا اظہار ہے ۔کیونکہ امام نے جو آواز میدان کربلا میں بلند کی تھی وہ ضمیر انسانی کی اجتماعی صدا تھی اور آج بھی دنیائے انسانیت میں جو خطۂ ارض پر ظلم و جور،جبرو تشدداور ملوکیت کے خلاف آواز حق بلند ہوتی ہے وہ حسین ابن علی کی آواز ہے ۔کسی سردار کا کسی خاص مشن و ہدف کے حصول کیلئے مادی وسائل ترک کر کے اپنے چین و سکون کو برباد کر کے میدان کارزار میں اترنا کوئی معمولی بات کا متحمل نہیں ۔اسی کا نام صبر ہے۔کربلا والوں کی حقانیت و سچائی کی اس سے بڑھ کر دلیل کیا ہو گی کہ چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی ان کا ذکر اس باوقار طریقے سے زندہ ہے جیسے یہ مبنی بر حق واقعہ کل ہی وقوع پذیر ہوا ہو ۔سانحۂ کربلا سے سبق ملتا ہے کہ مظلومیت سے بڑھ کر کوئی قوت نہیں ۔حضرت امام حسین نے حق کے اصولوں کی خاطر جان دے کر جو مثال قائم کی وہ ہر ظلم و استبداد کے خلاف بے نوائوں کیلئے سرمایۂ قوت بنی رہے گی ۔روح اسلام کی طرح روح کربلا بھی امر ہے ۔ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم غور کریں کہ امام نے جو عظیم قربانی دی اس قربانی کی اصل روح ہمارے اندر کس حد تک بیدار ہوئی ہے اور ہم اس قربانی کے حقیقی مفہوم سے کس حد تک آشنا ہوئے ہیں۔






تبصرے (0)
اپنا تبصرہ لکھیں