بانی سردار خان نیازی

🌤 Rawalpindi 21.6°C
Tuesday, 15 September 2026 | پاکستان: 4 ر بیع الثانی 1448

شاہی گھوڑے، درباری گدھے اور شہرِ ناپرساں!

Tuesday, 15 September, 2026

کہتے ہیں فرانس کے معاشی بحران کے وقت جب شاہی خزانہ خالی ہو گیا تو بادشاہ نے نمائش کیلئے شاہی گھوڑے فروخت کر دیے۔ اس پر فلسفی والٹیئر نے طنز کیا کہ گھوڑے بیچنے کے بجائے اگر دربار کے گدھے بیچے جاتے تو خزانہ بھی بھر جاتا اور حالات بھی سنور جاتے۔ اٹھارویں صدی کے آخری عشروں میں فرانسیسی بادشاہت قرضوں، غیر منصفانہ ٹیکس نظام، جنگی اخراجات اور شاہی مراعات کے بوجھ تلے دب چکی تھی۔ اس حمام میں صرف بادشاہ یا ملکہ ننگے نہیں تھے، پورا حکومتی ڈھانچہ اس میں غسل کر رہا تھا۔ ورسائی محل صرف رہائش گاہ نہیں، شان و شوکت کی علامت بن چکا تھا۔ دربار سینکڑوں اشرافیہ، شاہی ملازمین اور مراعات یافتہ طبقات سے بھرا تھا۔ آمدنی محدود تھی مگر اخراجات کے دروازے وسیع تر ہوتے جا رہے تھے۔جب خزانہ کم پڑا تو آسان حل نکالا گیا، عوام پر ٹیکس بڑھا دو۔ لیکن جن کے پاس زمین، سیاسی طاقت اور دربار تک رسائی تھی، وہ بوجھ بانٹنے کو تیار نہ تھے۔فرانس کا عام آدمی صرف ٹیکس دینے والا بن چکا تھا جبکہ اشرافیہ مراعات سے لطف اندوز ہو رہی تھی۔ کسان محنت کرتا، تاجر کاروبار کرتا، کاریگر پسینہ بہاتا اور ریاست محصول وصول کرتی، مگر طاقتور طبقہ محفوظ رہتا۔ یہی تضاد عوام میں یہ احساس پیدا کرنے لگا کہ ریاست ان کی نہیں ، مراعات یافتہ طبقے کی محافظ ہے۔ جب معاشی بحران سیاسی ناانصافی کے احساس سے جڑ جائے تو وہ بجٹ کا مسئلہ نہیں رہتا، نظام کے خلاف عوامی غصہ بن جاتا ہے۔فرانسیسی بادشاہت کی ایک اور بڑی غلطی مسلسل آمدنی سے زیادہ خرچ کرنا تھی۔ جنگیں، شاہی اخراجات اور پرانے قرضوں کا سود خزانے کو دبا رہا تھا۔ برطانیہ کیخلاف امریکی جنگِ آزادی میں امریکیوں کی مدد نے تو خزانے کی کمر ہی توڑ دی۔آج ہمارے ہاں بھی علاج وہی ہے ۔ معاشی بحران آئے تو نیا ٹیکس، نیا سرچارج، بجلی کے بل میں اضافہ، پٹرولیم لیوی ۔ سوال یہ نہیں کہ ریاست کو ٹیکس چاہیے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ ریاست پہلے اپنی میز پر بیٹھ کر یہ فیصلہ کیوں نہیں کرتی کہ کون سا خرچ قومی ضرورت ہے اور کون سا صرف طاقتور کی سہولت؟ پاکستان کا مسئلہ صرف آمدنی کم ہونا نہیں، محدود مالی گنجائش، قرضوں کا بوجھ، بلند سرکاری اخراجات اور کمزور ٹیکس بنیاد بھی ہے۔ حکومت کو قرضوں، دفاع، تنخواہوں، پنشن اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے وسائل چاہئیں، مگر جس طبقے سے ٹیکس لیا جا رہا ہے وہ پہلے ہی مہنگائی تلے دبا ہوا ہے۔دکاندار کی فروخت کم ہو رہی ہے، ملازم کی تنخواہ مہینے کے آخری ہفتے میں جواب دے جاتی ہے، مزدور کے لیے بچوں کی فیس اور راشن میں مقابلہ ہے، کسان کھاد، بجلی اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھنسا ہے، اور متوسط طبقہ جو کبھی خوشحال ہونے کا خواب دیکھتا تھا، اب صرف یہ سوچتا ہے کہ اگلا بل کیسے ادا ہوگا ۔ عوام سے “لیوی” وصول کی جاتی ہے اور وہ ان “سرکاری سانڈھوں” پر خرچ ہوتی ہے جو قومی خزانے پر پل رہے ہیں۔ حکومت کیلئے عوام سے پٹرول پر لیوی لینا آسان ہے، بجلی کے بل میں سرچارج لگانا آسان ہے، موبائل پر ٹیکس لینا آسان ہے۔ مشکل کام یہ ہے کہ حکومت اپنے اندر جھانکے اور پوچھے کہ کیا ہر دفتر کا ہر خرچ ضروری ہے؟ کیا ہر گاڑی، ہر پروٹوکول، ہر سرکاری رہائش، ہر غیر ضروری عہدہ اور ہر مراعاتی پیکیج برقرار رکھنا ضروری ہے؟جس ملک میں عام آدمی پنکھا چلانے سے پہلے دو بار سوچتا ہو، وہاں ریاستی اداروں کو بھی غیر ضروری خرچ سے پہلے کئی بار سوچنا چاہیے۔ جس گھر میں آمدنی کم ہو جائے وہاں باپ سب سے پہلے فالتو خرچ روکتا ہے، وہ بچوں سے نہیں کہتا کہ تمہارے دودھ کا خرچ بڑھا دیتا ہوں تاکہ میرا شوق پورا ہوتا رہے ۔ پاکستان کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ٹیکس کا دائرہ معیشت کے مقابلے میں بہت محدود ہے ۔اس کا مطلب ہر شہری پر نیا ٹیکس لگانا نہیں، بلکہ نظام کو منصفانہ بنانا ہے۔ ایک تنخواہ دار جس کی آمدنی دستاویزی شکل میں ریاست کے سامنے ہے، اسے ہر بار آسان شکار بنانا دانش مندی نہیں۔ اصل کامیابی تب ہوگی جب معیشت کے ان حصوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے جہاں دولت تو پیدا ہوتی ہے مگر ریاست کو اس کا مناسب حصہ نہیں ملتا۔ ٹیکس بڑھانے اور ٹیکس بنیاد وسیع کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔فرانس کے حکمرانوں کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ وہ بحران کو صرف مالی مسئلہ سمجھتے رہے، حالانکہ عوام کیلئے وہ اخلاقی اور سیاسی مسئلہ بن چکا تھا۔ عوام پوچھ رہے تھے، قربانی ہمیشہ ہم کیوں دیں؟ مراعات ہمیشہ اوپر والوں کیلئے کیوں ہوں؟ یہی سوال بالآخر پورے نظام کے خلاف کھڑا ہو گیا اور 1789 میں فرانسیسی انقلاب کی صورت میں پھٹ پڑا ۔ پاکستان کو یہ سبق سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عوام معاشی بوجھ تو سہہ لیتے ہیں، ناانصافی کا بوجھ ہمیشہ نہیں سہتے۔ مہنگائی کم زیادہ ہو سکتی ہے، بل زیادہ آ سکتا ہے لیکن اگر عام آدمی یہ محسوس کرنے لگے کہ قربانی صرف اسی سے مانگی جا رہی ہے جبکہ اشرافیہ کی مراعات محفوظ ہیں، تو معاشی بحران سماجی بحران بن جاتا ہے۔آج ہمیں کسی جادوئی نسخے کی نہیں، ریاستی ترجیحات کی درستگی کی ضرورت ہے۔ دفاع، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچہ اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن ہر شعبے میں یہ سوال ہونا چاہیے کہ خرچ کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے؟ جو ادارہ عوام کو خدمت نہیں دے رہا، اسے روایت کے نام پر کب تک چلایا جائے گا؟ جو منصوبہ بار بار لاگت بڑھاتا ہے، اس کا احتساب کیوں نہیں؟ ہمیں شاہی گھوڑے بیچنے کی نہیں، شاہی انداز ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔ فرانس میں مسئلہ صرف گھوڑے نہیں تھے، مسئلہ وہ پورا نظام تھا جس میں حکمرانوں کی خواہشات خزانے کی استطاعت سے بڑی ہو گئی تھیں۔ پاکستان میں بھی مسئلہ ایک لیوی یا ایک ٹیکس نہیں، مسئلہ ریاستی اخراجات، ٹیکس نظام، قرضوں اور مراعات کے پورے ڈھانچے کو ایک ساتھ دیکھنے کا ہے۔شہرِ ناپرساں کے عوام کو بھی اب صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ حکومت کتنا ٹیکس لے رہی ہے، انہیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ ان کے ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ ریاست کو بھی سمجھنا ہوگا کہ عوام کی جیب کوئی لامحدود خزانہ نہیں۔ اگر ایک طرف پٹرولیم لیوی اور بالواسطہ ٹیکسوں سے مسلسل وصولی ہو اور دوسری طرف غیر ضروری سرکاری اخراجات پر ہاتھ ہلکا رکھا جائے تو معاشی اصلاح ہمیشہ ادھوری رہے گی۔

تبصرے (0)

0 کل تبصرے

اپنا تبصرہ لکھیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *